مفتی تقی عثمانی کے بارے میں وہ باتیں جنہیں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

مفتی تقی عثمانی کے بارے میں وہ باتیں جنہیں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے
مفتی تقی عثمانی کے بارے میں وہ باتیں جنہیں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

  

لاہور(خالد شہزاد فاروقی)کراچی میں ملک کے ممتاز اور جید عالم دین شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی گاڑی پر نامعلوم ملک دشمن دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں مولانا محمد تقی عثمانی اور ان کے اہل خانہ تو محفوظ رہے تاہم اس جان لیوا حملے میں ان کے 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہو گئے ،مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کون ہیں اور ان کی دین اسلام اور ملک پاکستان کے لئے کیا خدمات ہیں ؟اس حوالے سے ان کی شخصیت اور زندگی کے بارے میں مختصرا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مولانا محمد تقی عثمانی عالم اسلام کی علمی قیادت وسیادت فرماتے ہیں، پوری دنیا کے اہل علم انکے خوشہ چیں ہیں، جدید پیش آمدہ مسائل فقہیہ میں حضرت مفتی تقی عثمانی مرجع خلائق اور مدار سند ہیں جبکہ پورے عالم اسلام میں مفتی محمد تقی عثمانی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،پاکستان میں بھی تمام مکاتب فکر کے اندر مفتی تقی عثمانی یکساں مقبول ہیں ،ملک میں نفاذ اسلام کی اہم تحریکوں کی ہمیشہ سرپرستی کرنے والے مفتی تقی عثمانی نے فرقہ واریت اور مسلکی عصبیت کے فروغ کی حوصلہ شکنی کی اور اس کے سدباب کے لئے ہر حکومت کو مفید مشورے بھی دیئے ۔شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف بنوریؒ کی ہدایت پر 1974 کی قادیانی مخالف تحریک میں مفتی تقی عثمانی نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی اس تحریک میں مفتی تقی عثمانی نے مولانا سمیع الحق کے ساتھ مل کر ایک دستاویز بھی  تیار کی تھی جو قادیانیوں کے خلاف پارلیمان میں پیش کی گئی۔

27اکتوبر 1943 کو ہندوستانی ریاست اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبہ دیوبند میں پیدا ہونے والے مفتی محمد تقی عثمانی  تحریک پاکستان کے ممتاز رکن مولانا محمد شفیع عثمانیؒ کے فرزند ارجمند  ہیں۔مولانا محمد شفیع عثمانی دیوبند کے اُن ممتاز اور جید علما میں سے ایک  تھے جنہوں نے نہ صرف  قیام پاکستان کی مکمل حمایت کی بلکہ پاکستان بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ۔مولانا شفیع عثمانیؒ، قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے رفیق مولانا شبیر عثمانیؒ کے قریبی رشتے دار تھے۔ اُنھوں نے کورنگی میں دارالعلوم کراچی کی بنیاد رکھی جس کے موجودہ مہتمم مولانا محمد رفیع عثمانی ہیں جو مولانا محمد تقی عثمانی کے بڑے بھائی ہیں اور انہیں مفتی اعظم کا منصب بھی حاصل ہے۔مولانا محمد تقی عثمانی نے پنجاب بورڈ سے فاضل عربی کی تعلیم حاصل کی اور درس نظامی سے فارغ ہونے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی سند حاصل کی، آج کل وہ دارالعلوم کراچی میں حدیث اور فقہ پڑھا رہے ہیں۔

مفتی محمد تقی عثمانی  عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ آپ کا شمار عالم اسلام  کی اہم ترین علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔انتہائی سادہ مزاج مفتی تقی عثمانی 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے، ایک بڑے عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے کے بعد جنرل مشرف کی حکومت میں انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا،شریعت کورٹ میں اُنہوں نے ایک فیصلے میں بینکوں میں سود کو اسلامی نظام کے خلاف قرار دیا تھا۔ آپ اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ کے نائب صدر اور جامعہ دارلعلوم، کراچی کے نائب مہتمم بھی ہیں،مولانا محمد تقی عثمانی  کا پاکستان میں اسلامی بینکنگ کا نظام متعارف کرانے میں بھی بنیادی کردار رہا ہے، اس کے علاوہ آپ 8 اسلامی بینکوں میں بحیثت مشیر کام کر رہے ہیں جبکہ وہ  اسلامی مالیاتی اداروں کے اکاونٹینگ اور آڈیٹینگ آرگنائزیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔شیخ الالسلام مولانا محمد تقی عثمانی 44 سے زائد کتابوں کے مصنف اور ’’البلاغ‘‘ نامی جریدے کے مدیر بھی ہیں جو اردو اور انگریزی زبانوں  میں شائع ہوتا رہا ہے۔مولانا مفتی محمد  تقی عثمانی کا خاندان سیاست سے دور رہا ہے جبکہ مذہبی طور پر ان کی پاکستان، افغانستان اور انڈیا میں پذیرائی کی جاتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں مفتی تقی عثمانی کے شاگرد اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے مرحوم امیر ملا محمد عمر سے مذاکرات کے لیے جب حکومت پاکستان نے علماء کا وفد اسلام آباد بھیجا تو اس میں مولانا مفتی  تقی عثمانی کے بھائی مولانا محمد رفیع عثمانی شامل تھے جبکہ لال مسجد آپریشن سے قبل جب حکومت نے لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے وفد بھیجا تو ان میں مفتی تقی عثمانی بھی شامل تھے۔مفتی تقی عثمانی کی تصنیفات میں آسان ترجمہ قرآن (توضیح القرآن) مع تشریحات مکمل تین جلدیں،آسان نیکیاں،اندلس میں چند روز،

اسلام اور سیاست حاضرہ،اسلام اور جدت پسندی،اکابر دیوبند کیا تھے،تقلید کی شرعی حیثیت،پرنور دین،تراشے،بائبل کیا ہے،جہاں دیدہ،دنیا میرے آگے،حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق،حجت حدیث،حضورﷺ نے فرمایا،فرد کی اصلاح،علوم القرآن،ہمارا معاشی نظام،نمازیں سنت کے مطابق پڑھیں،عدالتی فیصلے،مسیحیت کیا ہے اور ’’درسِ ترمذی‘‘ شامل ہیں 

مزید :

قومی -