ہم ناشکرے لوگ؟

ہم ناشکرے لوگ؟
ہم ناشکرے لوگ؟

  

کیا ہم سب ناشکرے ہیں، سرکاری سطح پر ملک میں حفاظتی اقدامات جاری ہیں، علاج کا بندوبست بھی ہو رہا ہے۔اگرچہ یہ سب ”تاخیر“ سے ہوا، اس میں بھی ہماری روایتی سستی ہے، بے عملی اور کام چوری کا دخل ہم اللہ کی طرف سے اس امتحان میں سرخرو نہیں ہو پا رہے، گناہوں سے تائب ہونا لازم ہے،اس کے لئے جھوٹ سے گریز،بددیانتی،بدنیتی اور جرائم سے حقیقی توبہ کی ضرورت ہے، لیکن ہم ہیں کہ بطور معاشرہ برُی عادت سے باز نہیں آ رہے،ہمارے ہی بھائی ان حالات سے فائدہ اٹھانے اور منافع کمانے سے گریز نہیں کر رہے، اشیاء ضرورت سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لئے ذخیرہ اندوزی سے بلیک مارکیٹنگ اور سمگلنگ تک سلسلے موقوف نہیں کئے، اشیاء خوردنی اور ضرورت کو مزید مہنگا کر رہے ہیں، بازار جائیں تو ادرک، لہسن کی زیادہ قیمت کے حوالے سے عذر لنگ شاید مان لیا جائے کہ یہ درآمدی ہیں،لیکن یہ امر کیسے ہضم ہو سکتا ہے کہ جو پھل اور سبزیاں ہم برآمد کر رہے تھے، ان کی برآمد بُری طرح متاثر ہوئی ہے،چنانچہ قدرتی طور پر ملک کے اندر پیاز، ٹماٹر اور پھل فاضل ہو گئے ہیں،لیکن ہم آج بھی نہ صرف پرانے نرخوں پر بیچ رہے ہیں، بلکہ ان کے نرخوں میں بہتر معیار کی آڑ میں اضافہ کر دیا ہے۔حکومت اور انتظامیہ انتباہ کر رہی ہے،لیکن کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ ضرورت ہے کہ کھپت، پیداوار اور مارکیٹنگ کا تفصیلی جائزہ کھیت سے منڈی اور پرچون تک لیا جائے۔ ضرورت پوری کی جائے اور نرخ پرگہری نظر رکھی جائے،ایسا نہیں ہو رہا،اللہ ہی حافظ ہے!

اب ذرا سرکاری اہکار حضرات اور محکموں کی شعبہ جات کارکردگی کا جائزہ لیں تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے والی بات ہے۔احتیاطی تدابیر کے حوالے سے سرکاری اہلکار چھٹیاں منانے لگے ہیں، میدان میں طبی عملے، پولیس اور فوج والوں کو چھوڑ دیا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ صفائی ابتر، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ جاری، جراثیم کش سپرے کے اعلان اور عمل ندارد ہے، اور تو اور یہاں سر سبز پاکستان کا کام بھی بند کر دیا گیا۔لاہور کے لئے پی ایچ اے نے دس لاکھ سے زیادہ پودے لگانے کا اعلان کیا، باغبانوں نے گڑھے بھی کھودنا شروع کر دیئے۔ یہ کام وہاں کا وہاں چھوڑ دیا گیا ہے اور اب حالات کے بہتر ہونے کا انتظار ہو گا،تب تک موسم بہار والی شجر کاری بہت تاخیر کا شکار ہو چکی ہو گی۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ہنگامی حالات کا احساس کر کے،عوام کو خوفزدہ کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جب چین اور ہمسایہ اسلامی ملک متاثر تھا، ہمارے ملک میں یہ جان لیوا وائرس کرونا داخل نہیں ہوا تھا، ہم بے خوف اور لاپروا تھے، جب تفتان کے راستے یہ آ ہی گیا تو ہمیں ہوش آیا اور اب ہم جتنی بھی محنت اور کوشش کریں اس تاخیرکا سدباب بھی تاخیر ہی سے ہو گا، جس کی وجہ سے ہمسایہ برادر ملک سے آنے والے چاروں صوبوں میں پھیل گئے، اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنے متاثر زائرین نے آگے کتنے افراد کو متاثر کر دیا ہے۔ معلوم ہونے والوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے، دوسری طرف صورتِ حال یہ ہے کہ جہالت ہی کے باعث سہی، ہمارے بھائی بند کھلے بازاروں میں معمول کے مطابق پھرتے اور نوجوان اسی طرح کھیلتے نظر آتے ہیں۔احتیاط کے پہلو نظر نہیں آتے،سندھ حکومت نے زیادہ مریض ثابت ہو جانے کے باعث زیادہ احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے،حکومت کی طرف سے تین روز تک گھروں سے بلا ضرورت باہر نہ آنے کی اپیل کی،اسے رضا کارانہ طور پر موثر ہونا چاہئے تھا،لیکن کراچی ہی کے حضرات نے اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا، نوجوان کھلے بندوں کرکٹ اور دوسرے کھیل کھیلتے نظر آئے ہیں،حالانکہ اس عفریت کا مقابلہ متحد ہو کر کرنے کی ضرورت لازم ہے۔

اتحاد کے حوالے سے عرض کریں کہ بلاول بھٹو کی طرف سے تعاون اور حکومت کی طرف سے خیر مقدم کے بعد یہ خوش فہمی ہوئی کہ اب سیاسی رقابتوں والا سلسلہ کچھ دیر کے لئے رُک جائے گا، اور عملی کوشش بہتر ہوگی،کیونکہ وزیراعظم نے اگرچہ خود جواب نہیں دیا،لیکن سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی درخواست پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی اجازت دے دی تھی۔انہوں نے رابطے شروع کر دیئے ہیں تاکہ نام مل جائیں اور کمیٹی کا اعلان ہو۔جمعیت علمائے اسلام سے رابطے کے بعد سپیکر نے بلاول بھٹو زرداری کو بھی فون کیا۔انہوں نے تعاون کا یقین دلایا،پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجویز پر صاد کیا، تعریف کی، اور جلد ہی کمیٹی کے لئے نام بھجوانے کا وعدہ کر لیا،لیکن ہماری اس خوش فہمی کو کراچی سے ملنے والی خبروں نے دھچکا پہنچایا،وہاں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کو یہ صورت ہضم نہ ہوئی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ اور حکومت کی ہنگامی کارروائیوں کی تعریف بھی پسند نہ آئی اور انہوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک میں اسے ڈرامہ قرار دے کر تنقید بھی کی،اس خبر کو میڈیا نے زیادہ اہمیت نہ دے کر درست قدم اٹھایا تو گورنر سندھ میدان میں آ گئے۔ وہ آئینی طور پر عملی سیاست اور صوبائی کاموں میں مداخلت کے مجاز نہیں ہیں،لیکن اس عمران اسماعیل صاحب نے کبھی پروا نہیں کی، جو اب کرتے۔تو انہوں نے بھی اپنے آئینی فرائض کے مطابق عمل کرنے کی بجائے مداخلت والا رویہ اختیار کیا۔میڈیا کو بُلا کر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو پاس بٹھایا اور کرونا وائرس کے خلاف گورنر ہاؤس میں کنٹرول سنٹر بنانے کا اعلان کر دیا۔ متاثرین کے گھر راشن پہنچانے اور دوسرے اعلان کئے۔البتہ اتنی مہربانی کی کہ کنٹرول سنٹر کی اطلاعات صوبائی حکومت تک منتقل کرنے کا بھی اعلان کر دیا، حالانکہ ان سب کو بھی بلاول بھٹو اور دوسرے سیاسی اختلاف والوں کی طرح حوصلے کا مظاہرہ کرنا اور صوبائی حکومت سے تعاون کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ہم کچھ نہیں کہیں گے، تنقید بھی نہیں کرتے۔یہی دُعا کرتے ہیں، اللہ رحم کرے۔

مزید :

رائے -کالم -