سونگھنے اور ذائقے کی حس غائب ہونا بھی کورونا وائرس کی علامت ہے، ماہرین نے نیا انکشاف کردیا

سونگھنے اور ذائقے کی حس غائب ہونا بھی کورونا وائرس کی علامت ہے، ماہرین نے نیا ...
سونگھنے اور ذائقے کی حس غائب ہونا بھی کورونا وائرس کی علامت ہے، ماہرین نے نیا انکشاف کردیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہ کروایا جائے تو علامات ظاہر ہونے پر ہی اس کا علم ہوتا ہے تاہم اب ماہرین نے کچھ ایسی علامات بھی بتا دی ہیں جن سے آپ کورونا وائرس کی حقیقی علامات بخار، کھانسی وغیرہ کے ظاہر ہونے سے پہلے بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ کے جسم میں کورونا وائرس پہنچ چکا ہے یا نہیں۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی ادارے ’برٹش ایسوسی ایشن آف اوٹرہینولرینگولوجی‘ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اگر آپ کی ذائقے اور سونگھنے کی حس کم یا ختم ہو گئی ہے تو غالب امکان ہو گا کہ آپ کے جسم میں کورونا وائرس پہنچ چکا ہے اور کسی بھی وقت آپ میں بخار اور کھانسی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

اگرچہ پبلک ہیلتھ انگلینڈ اور دیگر بین الاقوامی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کی حتمی علامات تیز بخار اور مسلسل کھانسی ہی ہیں مگر وائرس لاحق ہونے کے بعد یہ علامات ظاہر ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اس دوران آدمی غیرمحتاط رہ کر نہ صرف دوسروں کو وائرس کا شکار کر سکتا ہے بلکہ خود اس میں بھی جلد علاج اور احتیاط شروع نہ ہونے کے باعث بیماری شدید ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن سے وابستہ پروفیسر نرمل کمارم کا کہنا تھا کہ ”جن لوگوں میں بخار اور کھانسی کی علامات نہیں ہیں مگر ان کی ذائقے اور سونگھنے کی حس کم یا ختم ہو گئی ہیں تو ایسے لوگوں کو بھی خود کو دوسروں سے فوری طور پر الگ کر لینا چاہیے اور اپنا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا چاہیے، کیونکہ یہ وائرس کے آپ کے جسم میں پہنچنے کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔جب کورونا وائرس آدمی کے ناک اور گلے میں پہنچتا ہے تو ان کی یہ دونوں، سونگھنے اور ذائقے کی حس متاثر ہوتی ہیں۔“

مزید : تعلیم و صحت