باتیں کچھ ادھر ادھر کی 

  باتیں کچھ ادھر ادھر کی 
  باتیں کچھ ادھر ادھر کی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پبلک پلیس پر رش ہے کہ بڑھتا جارہا ہے، جدھر بھی جائیں عوام الناس کا ہجوم ہے ۔ تفریحی مقام ہو یا کوئی شاپنگ مال، بازار ہو یا دفتر، بل جمع کروانے کی لائن ہو یا ہسپتال میں اپنی باری کا انتظار کرتے لوگ۔ ہر جگہ بے چین روحیں  دکھائی دیتی ہیں۔ گاڑی پارک کرنی ہویا کسی روڈ پر گاڑی کو چلانا ہو، ہر شخص جلدی میں ہوتا ہے۔ اور سب سے آخر میں آنے والے  ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا کام سب سے پہلے ہو۔ وہ دھکم پیل کر کے اس میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اچھی خاصی لائن بنا کر کھڑے ہوں گے، لیکن کوئی ایک  ایسا آئے گا جو لائن میں لگنے کی بجائے لائن میں گھسنے کی کوشش کرے گا۔اسی ایک کی دیکھا دیکھی لائن میں لگے لوگ بھی لائن توڑنے والے کی تقلید کریں گے کہ اگر کامیابی کی چابی اس کے پاس ہے تو ہم بھی بغیر چابی کے تالا کھول کر دکھا سکتے ہیں۔بعد میں آنے والا پہلے کامیاب ہوسکتا ہے تو پھر باری کا انتظار دوسرے کیوں کریں۔ کسی ہسپتال میں  پرچی بنوانی ہو یاڈاکٹر کو چیک اپ کروانا ہو، دونوں صورتوں میں لائن میں لگنا وقت کاضیاع اور بے مقصد ہی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے لائن توڑ کر کام کیاجاتا ہے۔ لائن میں لگیں بھی تو کیوں،یہ ملک ہمارا ہے اور ہم  اس ملک کے آزاد اور  باعزت شہری ہیں۔


گذشتہ دنوں ایک سرکاری ادارے میں جانا ہوا تو وہاں کا گارڈ کسی پر چلا رہا تھاکہ گاڑی اِدھر پارکنگ میں کھڑی کریں۔ مَیں نے بعد میں ان صاحب سے پوچھا کہ آپ گاڑی پارکنگ تک کیوں نہیں لے کر گئے؟ تو انھوں نے کہا، آپ ہی ایمانداری سے بتائیے،  اگر پانچ منٹ کا کام ہے تو دس منٹ پارکنگ تک جانے میں  ضرور ضائع کرنے ہیں۔چوکیدار بھی عجیب ڈھیٹ قسم کا انسان تھا،  بتایا بھی کہ پانچ منٹ کا کام ہے، لیکن آدھے گھنٹے سے ”فضول“ بحث کئے جارہا تھا۔ بعد میں بھی تو اسے بات ماننا پڑی، پہلے ہی مان جاتا، یعنی سارا قصور چوکیدار کا نکلا جس نے بحث میں ٹائم ضائع کروایا،اور راستہ روک کر رش لگوا دیا۔ سچی بات ہے ہم وہاں بھی نہیں رکتے، جہاں قانون موجود ہو،بلکہ قانون کی موجودگی ہی میں سارے قانون توڑ ڈالتے ہیں۔  اشارہ توڑنا تو سمجھیں اپنا فرض ہے۔ میرے ایک جاننے والے خود کو اشارہ توڑنے کا ماہر کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اشارے پر کھڑے ہونا نری حماقت ہے۔ فرماتے ہیں مجھے لال رنگ سے سخت چڑ ہے؟ اس لئے مَیں اشارے پر رکنے کی بجائے بنا ادھر ادھر دیکھے بائیک بھگا کر لے جاتا ہوں اور الحمد للہ کبھی پکڑا نہیں گیا۔ کسی گنجان سڑک پر لڑکے موٹر سائیکل پر کرتب نہ دکھائیں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ منڈا جوان ہوگیا ہے، حادثات ہوتے ہیں تو ہوں، اہم اور مصروف شاہراہوں پر ون ویلنگ نہیں رکنی چاہئے۔
ایک اور بات جو اس قوم کی سرشت میں شامل ہے، وہ ہے پبلک واش روم کا کھلا ڈلا استعمال۔ مرد حضرات تو پورے ملک کو ذاتی واش روم ہی سمجھتے ہیں۔جہاں حاجت ہوئی سرعام بیٹھ گئے۔وہ واش روم ڈھونڈنے کا تکلف نہیں کرتے اور جو بے چارے واش روم استعمال کر لیں،وہ پھر اسے کسی دوسرے کے لئے استعمال کے لئے قابل رہنے نہیں دیتے۔ 


 مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم پبلک واش روم استعمال کرنے کی تمیز بھی نہیں سیکھ سکے، کہیں بھی ہوں اپنا آپ دکھا آتے ہیں۔  اپنے ہاں  یہ صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ کسی بھی پبلک واش روم میں چلے جائیں، سب  غلاظت سے اٹے ہوتے ہیں۔خاص کر سرکاری ہسپتالوں،ریلوے سٹیشن، سرکاری عمارتوں سرکاری سکولوں، کالجوں، تفریحی مقامات، لاری اڈوں سے لے کر ہوائی اڈوں تک، ہر جگہ ان کی حالت قابل رحم ہے۔اکثر واش رومز میں پانی کی ٹونٹی تک غائب ہوتی ہے۔پچھلے دنوں ایک ہسپتال کے واش روم میں جانے کا اتفاق ہوا، تو شدیددھچکا لگا کہ ہم کس صدی میں جی رہے ہیں! ہسپتال کا واش روم کچرے کا ڈھیر لگ رہا تھا، جہاں استعمال شدہ پیڈز اور پیمپرز کھلے پڑے تھے۔کموڈ غلاظت سے بھرے ہوئے تھے، اور تینوں واش رومز کا ایک جیسا حال تھا۔  ہم واش روم تو استعمال کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمیں یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ واش روم استعمال کیسے کرتے ہیں؟ پبلک واش روم استعمال کرنے والوں کو لگتا ہے کہ وہ دنیا کے آخری انسان ہیں جو واش روم استعمال کررہے ہیں اور ان کے استعمال کے بعد قیامت آجائے گی۔لہٰذا اپنی غلاظت کو فلش کرنے کی قطعا ضرورت نہیں۔ لوگ پبلک مقامات پر واش روم صاف چاہتے ہیں، لیکن صاف رکھتے نہیں۔ اس قوم کی بقیہ عادتوں کے ساتھ یہ عادت بھی سدھاری نہیں جا سکتی۔  اگر کوئی واش روم استعمال کرنے گیا ہے تو وہاں کوئی سکیورٹی گارڈ تو اس کے ساتھ جائے گا نہیں اور نہ ہی واش روم میں کیمرے کو رسائی دی جا سکتی ہے۔ ان کو پتہ ہے انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں، لہٰذا اب کر لو جو ہے کرنا، ہم نہیں سدھریں گے۔


یہ سب باتیں سر فخر سے بلند کرکے بتانے کی نہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم پورے ملک میں  چاہے کہیں بھی چلے جائیں، بد تہذیبی دکھاتے ہیں۔ لائن توڑتے ہیں، ٹریفک رول توڑتے ہیں، قانون  توڑتے ہیں، جگہ جگہ گند پھیلاتے ہیں اور پھر اس پہ اتراتے ہیں اور الزام حکومت کو دیتے ہیں کہ حکومت عوام کے لئے کچھ نہیں کرتی۔ ہم خرابی کی ذمہ داری ہمیشہ دوسرے پر ڈال کے خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں،جبکہ اصل خرابی کے ذمہ دار ہم ہی ہوتے ہیں۔بہت معذرت کے ساتھ،یقین کریں سارے خراب رویئے ہم اپنے گھر سے لے کر چلتے ہیں، لیکن اس کا الزام دوسروں پہ ڈالتے ہیں کہ ہماری اکثریت اپنے ذاتی عمل کو دوسروں پر ڈالنے کا ہنر خوب جانتی ہے۔  فلاں نے یہ کام  نہیں کیا تو مَیں کیوں کروں یا پھر یہ سوچ کہ یہ کام اس کے کرنے کا نہیں۔ ہر شخص دوسرے کو دیکھ رہا ہے،لیکن اصل راز کی بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی اپنے وطن کو اپنا ہی وطن سمجھتے ہیں،بلکہ کچھ زیادہ ہی اپنا سمجھتے ہیں، اسی لئے جو چاہے کرتے پھرتے ہیں۔


اب دیار غیر میں تھوڑی بیٹھے ہیں،جہاں تھوکتے ہوئے بھی ڈر لگے۔ دوسرے ملکوں میں ہماری دھونس نہیں چلتی، چلیں وہ کون سا ہمارا اپنا دیس ہے، لیکن جہاں من مانی چلتی ہے، وہاں کیوں نہ چلائیں۔ پتہ نہیں  ترقی کے شوقین ملکوں کا بھی کیا  مسئلہ ہے کہ من مرضی کرنے ہی نہیں دیتے۔ وہاں تو معصوم بچہ بھی مہذب بنا پھرتا ہے،  سڑک پر ریپر نہیں پھینکتا۔ ہر وقت تہذیب سکھانے کے چکر میں ڈال کر،ان ظالموں نے بچوں کی معصومیت ہی چھین لی ہے۔ وہ  بے چارے  باہر جا کر کچھ کھائیں تو ریپر پھینکنے کے لئے ڈسٹ بین  تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یقین کریں باہر کے ملکوں میں جا کر لگ پتہ جاتا ہے کہ اپنا وطن اپنا ہی ہے۔ یار کوئی بات ہے ہر جگہ کیمرے لگا رکھے ہیں ذرا کچھ خطا  ہو جائے تو جرمانہ بھرو، ٹیکس دو۔ اوپر سے کمبخت رشوت بھی نہیں لیتے کہ کچھ دے دلا کر جان چھوٹے۔  اپنے وطن جیسی خوبیاں کہیں نہیں؟اسی لئے تو جو وطن سے باہر رہ رہے ہوں، وہ تو مجبور ہوتے ہیں  قانون کی پابندی کرنے پر، لیکن اپنے وطن میں ہوں تو پھر ہم سے نہیں ہوتے یہ غیروں والے برتاؤ۔ ہم تو سیدھے سادھے لوگ ہیں۔ جہاں جو دل چاہے کر لیتے ہیں۔ شکر الحمد للہ یہاں کوئی روک ٹوک نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں گے اپنی تہذیب سے مجبور، لیکن ہم پاکستانی بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں اور  پاکستانی قوم کی عادتیں تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا، یہاں تک کہ ٹیکس نام کا ڈنڈا بھی کہ ٹیکس معاف کروانے میں بھی اس قوم کا کوئی ثانی نہیں۔  

مزید :

رائے -کالم -