مذاہب کے بازار میں یہی کاروبار کرتے ہیں!  (1)

 مذاہب کے بازار میں یہی کاروبار کرتے ہیں!  (1)
 مذاہب کے بازار میں یہی کاروبار کرتے ہیں!  (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 دین اسلام کے بارے میں عموماً ہر جگہ اور ہر سطح پر بہت سے غلط تصورات،خیالات اور اعتراضات،تشریحات، طوفیحات اور تفسیرات موجود ہیں خدارا مجھے یہ کہنے کی اجاز ت دیجئے یہ کہنا غلط، مبالغہ آمیزی، نامناسب اور بالکل اضافی نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ دار اور مرتکبین محض مشرکین، غیرمسلم اسلام کے منحرفین،مرتدین اور کفار ہیں جبکہ عموما یہی غلط رائے پائی جاتی ہے حق اور حقیقت یہ ہے کہ اس امر و عمل کے ذمہ دار خود ملت اسلامیہ سے متعلق بعض مفسرین مصنفین،معلمین اور مرتبین، شاعرین، مہدثین،واعظین اور اہل قلم ہیں۔یہ کہنا بھی سرے سے بے بنیاد ہو گا کہ ایسی بے احتیاطیاں واقعی ان اشخاص یا شخصیات نے کی ہیں یا کی ہوں گی معاملہ دراصل یہ ہے کہ ایسی بہت سی باتیں منافقین عہد بہ عہد ظاہرا اسلام کے دوستوں پیرو کاروں باطنی دشمنوں نے فرضی اور حقیقی افراد کے نام منسوب کی ہوئی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سادگی بھولا پن خالص لاعلمی سرا سر حسن عقیدت اور عدم تحقیق کی بناپر درست مان لی اور ابلاغ کردیں یا  غلط فہمی میں پھیلا دیں واقعہ یہ ہے کہ عمومی طور پر ملت اسلامیہ نے اس المیہ پر خاطر خواہ کبھی توجہ نہیں دی اور اکثر و بیشتر نظر انذاز کیا یہاں تک کہ ہجرت مدینہ کے بعد جب اسلام سیاسی،تہذیبی،عسکری اور افرادی ترقی و عروج سے ہم کنار ہونے لگا اوریہ تعداد ظاہری اسباب کے مطابق مخالفین اسلام کی توقع سے روز بروز بڑھ جانے لگی تو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ذاتی،طبقاتی معاشی سیاسی اور دیگر مختلف نومفادات و عنادات کے پیش نظر چوغہ اسلام پہن لیا اور وہ کام جو یہ کھلم کھلا کرنے کی سکت سے محروم ہو گئے تھے وہ خفیہ اور اندرون خانہ کرنے لگے یہ موضو ع بہت تحقیق طلب اور لائق توجہ تھا مگر شومی  قسمت متعدد وجوہات کے سبب اس پر یکسانیت و جامعیت کے ساتھ کبھی کام پورا نہیں ہوسکا،اور یہ بھی مبنی بر صداقت ہے آج تک حقیقی معنوں میں ادھورا ہی پڑا ہوا ہے اس سلسلے میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں نت روز مختلف سازشوں کی کوکھ سے جنم لیتے فرقہ و مسالک جنہوں نے بعد میں باقاعدہ مذہب کی صورت اختیارکر لی ان کا گھناؤنا کردار عام نوعیت کا نہیں ہے مسلکی جوش و تبلیغ کے مہلک مرض نے بھی ان مسائل کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا دیا اگر یہ کہا جائے کہ مسلمانوں کے ادوار ملوکیت و بادشاہت میں بھی چند سیاسی و حکومتی مصلحتوں کے پیش نظر بھی یہ بدترین اور موذی ذوق وشوق چلتا رہا تو کچھ  غلط نہ ہو گا تاریخ گواہ ہے اسلام کے ابتدائی عہد زریں جسے مسلمان خلافت راشدہ سے منسوب کرتے ہیں  کے بعد حکومتوں اور خاندانوں کے اقتدار اور تحفظ کے لیے متعدد ایسے اقدامات بڑی حد تک سرانجام پائے جس سے اصل روح اسلام کچلی گئی لیکن خلافت راشدہ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مختصر ترین عرصہ حکومت کے بعد شائد ہی تاریخ مسلم میں کبھی کوئی اجتماعی طور پر ایسا روشن وقت آیا ہو جس پر حقیقی معنوں میں فخر کیا جائے یا بلامبالغہ تعریف وتحسین کا مستحق ہو  تاریخ اولاد آدم بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی الہامی مذاہب یا آسمانی کتابیں انسانوں کے بہترین مفاد میں جو کہ مساوات و ایثار کے اصولوں پر مشتمل تھیں جنہوں نے اپنے پیغمبر اور ان کے باشعور سچے مخلص اور بے لوث رفقاء  سے زمانی طور پر ذرا فاصلہ اختیار کیاتو ان کی روح مجروح ہوتی چلی گئی اس سے بھی اگلی بات یہ ہے کہ امن کے صرف مطالب و مفاہم ہی نہیں بدلے گے متن اور الفاظ میں تغیروتبدل کر لیا جاتا رہا ہے۔
(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -