افغانستان پر فضائی حملہ

افغانستان پر فضائی حملہ
افغانستان پر فضائی حملہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

   16مارچ 2024ء کو ’تحریکِ طالبانِ پاکستان‘ کے ایک گروہ نے کہ جس کی سربراہی حافظ گل بہادر گروپ کررہا تھا،شمالی وزیرستان میں فرنٹیئرکور کی ایک چوکی پر حملہ کیا جس میں سات سولجرز شہید ہوگئے۔ شہداء میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک کیپٹن بھی تھے۔ خدا ان کے درجات بلند کرے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ ملک کی خاطر جان دینا آسان نہیں ہوتا۔ سات شہداء کا مطلب سات خاندان ہیں۔ پاکستان ایک عرصے سے افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گرد تنظیموں سے نبردآزما ہے۔ پاکستان نے دو عشروں تک افغانستان پرغیر ملکی قبضے کے خلاف افغان بھائیوں کی جدوجہدِ آزادی میں ان کا ساتھ دیا۔ امریکہ اور ناٹو سے پہلے 1980ء کے عشرے میں سوویت یونین کی طرف سے افغانستان پر قبضے کی کوشش اور نتیجے میں 30لاکھ افغان مہاجروں کے اپنے ہاں پناہ دی۔

یہ افغان پناہ گزین چار عشروں سے زیادہ مدت سے پاکستان میں مقیم رہے۔ اور اب بھی کئی لاکھ افغانی پاکستان میں موجود ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ ان میں سے بعض عاقبت نااندیشوں نے اپنے محسن پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی مدد کی۔ ان افغان پناہ گزینوں میں سے بعض افغان خاندان غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں مقیم تھے جن کو واپس بھیجنے کے پروگرام سے ہم سب پاکستانی واقف ہیں۔ ان افغانوں نے ہماری میزبانی کا یہ صلہ دیا کہ ان میں سے بعض دہشت گردانہ گروپوں کے ساتھ مل گئے اور پاکستان پر حملے شروع کر دیئے۔ پاکستان نے افغانستان کی امارتِ افغانستان (IEA)سے کئی بار احتجاج کیا کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والے ان حملوں کا کوئی سدباب کیا جائے لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

اندازہ کیجئے کہ گزشتہ برس (2023ء میں) افغانستان سرزمین سے TTP اور اس سے منسلک کئی اور دہشت گرد تنظیموں نے  650حملے کئے جن میں ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے۔ ان میں زیادہ تعداد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز (فوج اور پولیس) کی تھی۔ ان میں سے بیشتر حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے اور ان سب حملوں میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دہشت گرد گروپوں کو اسلامی امارات کی تائید و حمائت حاصل تھی لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ سب حملے ان گروپوں نے کئے جو پاکستان سے ملحق افغان صوبوں میں رہائش پذیر تھے۔ افغانستان کے نقشے پر نگاہ ڈالئے…… شمال میں چترال سے لے کر جنوب میں KPاور بلوچستان کی طرف آئیں تو جن افغان صوبوں کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں ان میں بدخشان، نورستان، کنار، ننگرہار، خوست، پکتیکا اور قندھار شامل ہیں۔16مارچ 2024ء کو جو حملہ کیا گیا وہ خوست اور پاکتیکا صوبوں میں مقیم دہشت گردانہ گروپوں کی طرف سے تھا۔

چنانچہ 18مارچ کی شب پاک فضائیہ کی طرف سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پاکتیکا اور خوست صوبوں میں ان مقامات پر بمباری کی گئی جن میں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔

ایک مسلمان ہمسایہ ملک کی سرزمین پر یہ فضائی حملہ جس کا اقرار پاکستان نے کھلے بندوں کیا ہے اگرچہ قابلِ افسوس  ہے لیکن اس کے سوا کوئی اور چارۂ کار بھی نہیں تھا۔ پاکستان کب تک اپنے فوجی اور سول شہداء کی لاشیں اٹھاتا رہے گااور خاموش تماشائی بنا رہے گا؟…… یہ صورتِ حال خاصی تشویشناک ہے۔ پاکستان کے مشرق میں جو ہمسایہ ہے اس کے ساتھ ہماری چار جنگیں ہو چکی ہیں اور مغرب میں اس ہمسائے پر یہ پاکستانی فضائی حملہ اس بات کا شاہد ہے کہ پاکستان کو،خدا نہ کرے، آنے والے برسوں میں بڑی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

قابلِ افسوس بات یہ بھی ہے کہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے بالمقابل سرحدپار افغان صوبوں میں جو TTPگروپ مقیم ہیں ان کی میزبانی کا ”شرف“اسلامی امارات افغانستان (IEA) کو حاصل ہے ان کو امارات کے بعض برسرِ حکومت گروپوں کی انصرامی، فوجی، سیاسی اور اخلاقی امداد بھی حاصل ہے۔ ان کے پاس ایسے ہتھیار اور جنگی ساز و سامان بھی ہے جو 2021ء میں امریکہ، کابل، قندھار اور ہرات وغیرہ میں چھوڑ کر نکل گیا تھا۔ غیر ملکی مغربی طاقتوں کی یہ پالیسی کوئی نئی نہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان کی پہلی افغان۔ برٹش جنگ تین سال تک ہوتی رہی تھی(1839ء تا1842ء) انگریزی فوج کا ایک بڑا حصہ انڈیا میں فیروزپور میں جمع ہوا تھا اور براستہ درۂ بولان قندھار پہنچ گیا تھا۔ ایک دوسرا بڑا لشکر بمبئی سے چلا تھا اور براستہ سندھ افغانستان جا پہنچا تھا۔ اگست 1840ء میں افغان فورسز نے شکست تسلیم کرلی تھی۔ انگریزوں نے افغان حکمران دوست محمد کو گرفتار کرکے کلکتہ بھیج دیا تھا اور شاہ شجاع کو تختِ کابل پر متمکن کر دیا تھا اور قندھار اور جلال آباد میں برٹش افواج آکر اقامت گزیں ہو گئی تھیں …… دوسری افغان وار 1878ء میں ہوئی تھی جس میں انگریزوں کو فتح حاصل ہوئی تھی…… اور تیسری افغان وار 1880ء میں ہوئی تھی اور میوند کی مشہور لڑائی میں برطانویوں کو شکست ہوئی تھی۔

جب پاکستان 1947ء میں وجود میں آیا تو اس کو ایک طرف مشرق میں کشمیر وار کا سامنا ہوا اور دوسری طرف افغانستان میں ایک ایسی افغان حکومت ملی جو گزشتہ 76برس میں کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر ہوتی رہی…… یعنی نیمے دروں، نیمے بروں والا معاملہ رہا۔

اب پاکستان، افغانستان سے کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ دوراندیشانہ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کریں۔ گزشتہ سات آٹھ عشروں میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ افغانستان کہاں تک ہماری دوستی کا دم بھرتا ہے اور کہاں تک مصلحتاً خاموش ہو کر بیٹھا رہتا ہے۔ مغرب میں ہمارا دوسرا ہمسایہ برادر اسلامی ملک ایران ہے۔ ہمارے تعلقات ایران سے بھی کبھی قابلِ رشک نہیں رہے۔تاہم پاکستان کو موجودہ ملکی اور غیر ملکی صورتِ حال کے پیش نظر ایک تنے ہوئے رسے پر چلنے کی عادت ڈالنا ہوگی۔آج نہیں تو کل انشاء اللہ صورتِ حال میں بہتری آئے گی۔ پاکستان کی سٹرٹیجک لوکیشن بالآخر اس کو وہی حیثیت اور سٹیٹس دلانے میں کامیاب ہو گی جو اس کا حصہ ہے۔ جس طرح افغانستان کی لوکیشن اور اس کی ٹیرین (Terrain) اسے اس خطے کا ایک اہم ملک گردانتی ہے، اسی طرح پاکستان بھی ایک دن ان مشکلات سے باہر نکل آئے گا جو اس کو آج درپیش ہیں ……

مزید :

رائے -کالم -