ڈپٹی اٹارنی جنرل کارویہ انتہائی افسوسناک، بچے روتے ہیں،کہیں سے بھی لاپتہ افراد کو ڈھونڈ کرلاﺅ: چیف جسٹس

ڈپٹی اٹارنی جنرل کارویہ انتہائی افسوسناک، بچے روتے ہیں،کہیں سے بھی لاپتہ ...
ڈپٹی اٹارنی جنرل کارویہ انتہائی افسوسناک، بچے روتے ہیں،کہیں سے بھی لاپتہ افراد کو ڈھونڈ کرلاﺅ: چیف جسٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان امن وامان کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیاہے کہ لاپتہ افراد کے ورثاءروتے ہیں ،کہیں سے بھی اُن افراد کو ڈھونڈ کرلائیں ۔عدالت نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ ودفاع آناچاہیں توآج آجائیں ۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ عدالت مزید وقت ضائع نہیں کرسکتی جبکہ دوسری طرف د باﺅ کی وجہ سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کردیاہے جس پر چیف جسٹس کا کہناتھاکہ ملک سکندر کا رویہ افسوسناک ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کاتین رکنی بنچ سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹر ی میں بلوچستان امن وامان کیس کی سماعت کررہاہے ۔سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری داخلہ و سیکرٹری دفاع کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک سکندر سے استفسار کیاگذشتہ روز عدالت کی طر ف سے ملنے والی ہدایت پر کس کس کوآگاہ کیا؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مزید ایک دن مہلت کی استدعاکی جس پر جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ عدالت مزید وقت ضائع نہیں کرسکتی ،باہر سینکڑوں لوگ وقت مانگ رہے ہیں ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ وہ بہت تنگ ہیں ،ابھی وہ ڈپٹی اٹارنی جنرل ہیں اور پانچ منٹ بعد ملک سکندر کے طورپر پیش ہوں گے تاہم دوسرا ڈپٹی اٹارنی جنرل آنے تک وفاق کی نمائندگی کروں گا جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ آپ مستعفی ہوچکے ہیں تو آپ کو وفاق کی نمائندگی کرنے کی ضرورت نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے،سیکرٹری دفاع و داخلہ آناچاہیں تو جہاز پر آجائیں۔ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں موقف اختیار کیاکہ کل سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کی طلبی کے احکامات منسوخ ہوئے۔چیف جسٹس نے حکم دیاکہ معصوم بچے اپنے عزیزوں کے لیے روتے ہیں ،کہیں سے بھی ہولاپتہ افراد کو ڈھونڈ کرلائیں ۔عدالت نے استفسار کیاکہ شہریوں کے قتل سے متعلق انکشاف کرنے پر کیاکارروائی ہوئی ؟ صوبے کے حالات اوپن سیکریٹ ہیں ۔