”بھلا گھاٹے کاسودا کیوں کریں ہم؟“

”بھلا گھاٹے کاسودا کیوں کریں ہم؟“

معززقارئین !! آپ کے علم میں یہ بات یقینا ہو گی کہ قومی و صوبائی اسملیوں کے حالیہ نتخابات میں جہاں اور بہت سے غیر مُتوقع اور حیران کُن نتائج سامنے آئے وہاں یہ ”انہونی “ بھی ہوئی کہ وطنِ عزیز کی ہردل عزیزاور” بین الاقوامی“ شہرت یافتہ اداکارہ ”محترمہ“ میرا جی کی والدہ ماجدہ نے ضلع بہاولنگرسے جس صوبائی اسمبلی کی نشست پر(مادرپدر)آزاداُمیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا وہ وہاںسے (بقول میراجی ) 225(دوسو پچیس)ووٹ لینے کے باوجود محض اِس لئے ہار گئی ہیں کہ موجودہ الیکشن ”افیئر “ نہیں تھے ، اورمزید یہ کہ اُن کی پیاری امیّ جی کو ڈالے گئے ووٹوں کی ”اکاﺅنٹنگ“ ٹھیک طرح سے نہیں کی گئی۔ ہماری انتہائی ذاتی مگر بہت سوچی سمجھی ماہرانہ رائے کے مطابق اگر بہاولنگر کی صوبائی اسمبلی کی مذکورہ نشست پر دھاندلی نہ کی جاتی تو میرا کی والدہ یہ نشست ”بہت بھاری اکژیت “ کے ساتھ ”تاریخی کامیابی“ حاصل کرتیں۔

محترمہ میرا اور ان کی والدہ صاحبہ ملکی سیاست اوردیگر قومی معاملات کے سلسلے میںاپنی تاحال انجام دی گئی فقید المثال اور نا قابلِ فراموش ”خدمات“ کی بنا جس اعلیٰ ترین مقام و منصب پر فائز ہیں وہ اِس امر کا متقاضی ہے کہ موصوفہ کی جانب سے لگائے گئے تمام تر الزامات کانہ صرف یہ کہ بہ غورجائزہ لیا جائے بلکہ دونوں ماں بیٹی کی شکایات کے ازالہ کے لئے فی الفورایسے” راست اقدامات“ اُٹھائے جائیں جن کی ملکی تاریخ میں پہلے سے کوئی مثال نہ ملتی ہو۔اِس ضمن میں ہماری الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تمام متعلقہ اصحابِ بست وکشادسے بالعموم اور محترم جناب فخرو بھائی سے بالخصوص یہ نہایت ہی مودبانہ اور عاجزانہ گذارش ہو گی کہ وطنِ عزیز میں اور کہیں دوبارہ انتخابات ہوں یا نہ ہوں( ہماری بلا سے) لیکن انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ بہاولنگر کی صوبائی اسمبلی کی مذکورہ نشست پر ہر صورت نئے سرے سے انتخابات کی نئی نویلی تاریخ کا جلد از جلد اعلان کیا جائے ۔مزید یہ کہ میرا جی کی جانب سے لگائے گئے مبینہ دھاندلی کے الزامات کی مکمل تحقیقات کے لئے فوری طور پر مہیش بھٹ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اور خصوصی الیکشن ٹربیونل کی تشکیل بھی عمل میں لائی جائے تا کہ ” دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی “ ہو سکے۔

جناب فخرو بھائی سے ہماری دوسری اور خصوصی درخواست یہ ہے کہ مذکورہ الیکشن ٹربیونل کی تشکیل کرتے وقت اِس بات کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جائے کہ اِس ٹربیونل میںکم ازکم دو چارٹرڈاکاﺅنٹنٹس بھی اِس ٹربیونل کے ممبران کے طور پر شامل ہوسکیں تا کہ میرا کی امّی کو ملنے والی ”ویلوں‘ ‘ کے نوٹوں ،معاف کیجئے گا اُنھیں پڑنے والے ووٹوں کی اکاﺅنٹنگ میرا اور ان کی والدہ صاحبہ کے اطمینان کے عین مطابق ہو سکے۔ویسے کُل عالم اِس بات کا شاہد ہے کہ اِن دونوں ماں بیٹی کو ”اکاﺅنٹنگ“ کے فن میںیدِطولیٰ حاصل ہے لیکن ہم نے اِنھیں مذکورہ الیکشن ٹربیونل میں شامل کرنے کی تجویز محض اِس بنا پر نہیں دی کہ اس سے ہماری ©”غیر جانبداری “ کو شک کی نظر سے دیکھے جانے کے ”انددیشہ ہائے دُورو دراز“ بدرجہ اتم موجو د تھے۔

 اِس ضمن میں ہماری تیسری اور آخری التجا یہ ہو گی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اِس بات کو بھی یقینی بنائے کہ وہ اِن متنازعہ انتخابات کے ازسرِنوانعقاد کے دن میرا صاحبہ کی والدہ صاحبہ کے پولنگ ایجنٹس صرف اور صرف اُن ہی ویلے مُشٹنڈوں کو بننے کی خصوصی اجازت دے جو کچھ عرصہ پہلے ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن چینل پر رچائے گئے ”سوئمبر“ میں میرا کو اپنا شریکِ حیات بنانے کی’طفلانہ خواہش میںاپنا تن ،من ”دھن“جھونکنے کیساتھ ساتھ سر دھڑ کی بازی لگا نے کے ریکارڈ ہولڈرہیں۔گوپچھلے سوئمبر میں تو کوئی ایک ”امیدوارِ میرا“بھی اپنی ہونے والی Better Halfکے ”معیار‘ ‘ پر پورا نہ اُتر سکا تھا مگر اب کی بار اِس بات کا قوی اِمکان موجود ہے کہ تمام تر سابق عاشقانِ میرا“میرٹ پر ” کوالیفائی“ کر جائیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگرِاِن ناکام اور نامُرادامیر زادوں کوبار دگر ایک” سُنہری موقع“ دیا جائے تو وہ اپنی ہونے والی ”ساسُوماں“ کو ہرانے کی غرض سے بنائے گئے کسی بھی ممکنہ ” ماسڑ پلان“ کی راہ میں سیسہ پلائی بلکہ پلی پلائی دیوار بن جائیں گے۔

دوسرا بڑا فائدہ جو اِن کھاتے پیتے نوجوانوں کو میرا کی والدہ کے پولنگ ایجنٹس بنانے کا ہو گا وہ یہ ہے کہ مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر موجو د اِن ” خُدائی خدمت گاروں“ کی ہمہ وقت موجودگی کی بنا پر دوبارہ ہونے والا یہ انتخابات حقیقی معنوں میں affair" "بلکہ بہت سے "affairs"سے بھر پور لبریز ہوں گے۔لہذا میرا کی یہ شکایت بھی کہ گذشتہ انتخابات "affair" نہیں ہوئے ،خود بخود دور ہو جائے گی۔صاحبو!!اِسے کہتے ہیں ”یک پنتھ دو کاج“

 ہم نے جس صدق دلی اور نیک نیتی سے محترمہ میرا جی کا مقدمہ بغیر کسی پیشگی یا بعد ازاں "cash or kind"کی صورت میں ملنے والی فِیس کے لالچ یا توقع کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لڑا ہے، ایسا تو ”پنجاب کا مقدمہ“ مرحوم حنیف رامے صاحب جیسے دانشور نے بھی نہ لڑا ہوگا۔ہم نے اِس ”کارِخیر“ کا ارتکاب محض اپنی عاقبت سنوارنے کی غرض سے ہی کیا ہے۔ہم نے اپنے قریب المرگ ضمیر کی آخری ہچکی پر لبیک کہتے ہوئے جس جانفشانی سے میرا جی کی شان میں ”چاروں چاند“ لگانے کی ”بے لوث “کاوش کی ہے ہمیں یقینِ کامل ہے اگر آج مرحوم شاعر ”میراجی“ زندہ ہوتے تو یا تو وہ جناب سعادت حسن منٹوکے خلاف ہمیں اپنا مستقل وکیل مقرر کرلیتے یا پھر ہمارے انکار کی صورت میں”میرا جی“ کی بجائے اپنے اصلی نام کو ہی تخلُص کے طور پر استعمال کرنے میں اپنی عافیت سمجھتے۔     ٭

مزید : کالم


loading...