غیر مراعات یافتہ طبقے کا خیال رکھا جائے

غیر مراعات یافتہ طبقے کا خیال رکھا جائے
غیر مراعات یافتہ طبقے کا خیال رکھا جائے

  


1970ءکے بعد اور1980ءسے پہلے پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آج کی طرح اثرو رسوخ نہیں تھا، لوگ زیادہ تر ریڈیو اور اخبارات کو دیکھ اور سُن کر ملک کے سیاسی حالات کا جائزہ لیا کرتے تھے اور اپنے تئیں خود ہی حالات کا تجزیہ کر لیا کرتے تھے۔ اس وقت کے صحافی اور دانشور اپنے پیشے سے مخلص تھے اور صحافت کو پیشے کے طور پر نہیں، عبادت سمجھ کر کیا کرتے تھے ۔ کسی صحافی کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کو لوگ صحیفہ آسمانی سمجھتے تھے اور صحافی حضرات بھی اپنی معاشی جنگ کے ساتھ ایمانداری سے اپنے فرائض کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے شب و روز اس تگ و دو میں لگے رہتے تھے کہ کہیں اُن پر جانبداری کی چھاپ نہ لگ جائے، وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہم جب لکھتے ہیں، تعصب سے بالا ہو کراپنے ذاتی سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر لکھتے ہیں اور چاہتے ہیںکہ ہم اپنے قاری کو مایوس نہ کریں اور ہمیشہ اس بات پر نجی محفلوں میں خوش ہوا کرتے تھے کہ ہماری کہی ہوئی بات سچ نکلی اور اسے ہی اپنا ایمان اور انعام سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سچ لکھتے تھے اور صحیح سوچتے تھے۔

آہستہ آہستہ الیکٹرانک میڈیا نے کروٹ لی، وہ صحافی جو صبح و شام روزگار کی فکر میں سرگرداں رہتے، نئے میک اَپ اور نئے لباس کے ساتھ ٹی وی سکرین پر جلوہ گر ہوئے۔ وہ صحافی جو پاک ٹی ہاﺅس کی زینت تھے اور محلے کے تھڑے پر بیٹھ کر آنے جا نے والوں سے حالات سے آگاہی حاصل کرتے تھے اور ہر دوسرے بندے سے مل کر حالات ِ حاضرہ پر تبصرہ کر رہے ہوتے تھے، اُن کے فاصلے عام آدمی سے زیاد ہوتے چلے گئے۔ تھڑے پر بیٹھے لوگوں کو سیاست سمجھانے والوں نے اپنا سفر بڑی تیزی سے جاری رکھا۔ پاک ٹی ہاﺅس سے اُٹھ کر آواری اور پھر آواری سے اُٹھ کر پی سی تک جا پہنچے۔ یوں وہ عوام سے دُور اور بیزار ہونے لگے۔ دو تین مرلے کے مکان میں رہنے والے کنالوں اور ایکڑوں کی رہائشوں میں اپنا بسیرا کرنے لگے.... تو پھر کہاں کا رابطہ، کہاں کا اصول، سب عالی شان محلوں میں دفن ہو گیا۔

 وہ لوگ جو کبھی صحافت کو دینی فریضہ سمجھتے تھے، وہ صحافت کو اپنا ذریعہ معاش بنا کر سرمایہ دار کی جھولی میں جا بیٹھے، کسی کو جاگیردار نے خرید لیا اور کوئی خود اپنی بولی لگا کر کسی کی جھولی میں جا بیٹھا۔ ٹی وی پر بیٹھ کر اور اپنی تحریروں میں من پسند سیاسی پارٹیوں کو جتانے لگے، بلکہ یہاں تک کہ اگر کوئی اُن کی من پسند پارٹی کے خلاف کوئی بات کرتا تو اُس سے لڑنے جھگڑنے سے بھی گریز نہ کرتے۔ پھر ساری قوم نے دیکھا کہ عام عوام سے کٹ کر رہنے والے دانشور جو سر شام ہی رات کے ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، مُنہ کے بل جاگرے، یوں بھی دیکھنے میں آیا کہ نہ تو انہیں کوئی پریشانی ہوئی اور نہ ہی کسی طرح کا ملال ہوا، بلکہ اگلے ہی روز یہ بڑی رعونت سے یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ موجودہ جیت کوئی جیت ہے، یہ حکومت تو چند روز کی مہمان ہے، بھائی ہم تو کہتے ہیں کہ آپ کل بھی غلط تھے اور آج بھی غلطی پر ہیں، انہیں ساری دُنیا میں غلطی و زیادتی نظر آتی ہے، لیکن اپنی ناک کے نیچے انہیں نہ ظلم نظرآتا ہے اور نہ ہی زیادتی، کسی بھی روزنامہ میں کام کرنے والے ورکر کی تقسیم کچھ یوں ہے کہ70فیصد لوگ اخباری ورکر کہلاتے ہیں اور 30فیصد صحافی کہلوائے جاتے ہیں۔

حکومت چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو وہ تمام کی تمام مراعات 30فیصد طبقہ میں تقسیم کرتی ہے اور رات دن اِس 30فیصد طبقے کو خوش کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے رکھتی ہے۔ 70فیصد ورکروں سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے، اگر پلاٹوں کی تقسیم ہو تو وہ بھی صحافیوں کے کھاتے میں آتی ہے، اگر انشورنس سکیم ہو تو اس سے بھی 30فیصد طبقے کو نوازا جاتا ہے، اگر ڈیوٹی کے ٹائم میں کسی کی موت ہو جائے تو مراعات صحافیوں کے کھاتے اور غیر صحافی کسی حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھے تو کوئی پُرسان حال نہیں۔ آج کے اقتدار کے دیوانے جو کچھ کرتے اسے تو کوئی بھی نہیں بھول سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ میاں صاحبان سے گزارش ہے کہ آپ نے اِس الیکشن میں اِس بات کا اندازہ بخوبی لگا لیا ہو گا کہ بڑے گھروں میں رہنے والے اور پوش علاقے کے لوگ آپ کے ساتھ نہیں تھے، آپ کا ووٹر تو متوسط طبقہ تھا اور اخبارات میں بھی اکثریت اسی طبقہ کی ہے، اگر آپ نے مراعات دینی ہیں اور آپ چاہتے ہیں اِس ملک کے غریب کو جینے کا حق ملنا چاہئے، تو پھرآپ کو اِس تقسیم کو ختم کر کے اخباری کارکنوں کو یکساں مراعات دینی چاہئیں۔ آپ کے ساتھ چپڑاسی، کلرک اور غیر مراعات یافتہ طبقہ ہے ان کا ساتھ دیجئے تاکہ مستقبل میں یہ بھی آپ کو یاد رکھ سکیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...