گورمکھی اصطلاحات کی تفہیم کی طرف پہلا قدم

گورمکھی اصطلاحات کی تفہیم کی طرف پہلا قدم
گورمکھی اصطلاحات کی تفہیم کی طرف پہلا قدم

  


صدیوں سے پنجابی زبان کے دو رسم الخط چلے آتے ہیں: ایک شہ مکھی (فارسی رسم الخط) اور دوسرا گور مکھی (یعنی سکھی)۔ تقسیم (1947ئ) تک دونوں قومیں (سکھ اور مسلمان) ایک دوسرے کا رسم الخط سیکھ کر بڑی آسانی سے پنجابی پڑھ لیتی تھیں کیونکہ دونوں قومیں مل جل کر رہتی تھیں۔ عربی اور فارسی کے بےشمار الفاظ سے سکھ اور سنسکرت اور ہندی کے بےشمار الفاظ سے مسلمان واقفیت رکھتے تھے۔ تقسیم کے بعد بھارت کی کانگرس سرکار نے سکھوں کے ساتھ جو ایک بڑی زیادتی کی‘ وہ یہ تھی کہ مختلف حیلے بہانوں سے سنسکرتی اور ہندی الفاظ کثرت سے پنجابی میں داخل کروا دئیے۔ ریڈیو‘ ٹیلیویژن‘ اخبارات و رسائل اور نصابی کتب تیار کرنے والے اداروں کو ہدایت کی جاتی کہ وہ پنجابی بولتے اور لکھتے ہوئے عربی اور فارسی الفاظ کی جگہ سنسکرتی اور ہندی الفاظ اور اصطلاحات استعمال کریں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گور مکھی رسم الخط میں لکھی جانے والی پنجابی کو پاکستانی پنجابیوں کےلئے سمجھنا دشوار ہوگیا۔

مشرقی پنجاب (بھارت) میں پنجابی کو تقسیم کے بعد فروغ تو بہت ملا‘ مختلف علوم و فنون پر تحقیق کا کام بہت آگے بڑھا لیکن پاکستانی پنجاب کے دانشور باوجود گورمکھی رسم الخط جان لینے کے اس زبان کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ چنانچہ ایک عرصے سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کسی صاحب علم کو توفیق ارزانی ہو کہ وہ گور مکھی میں برتی جانے والی اصطلاحات کے معانی و مطالب پر روشنی ڈالے۔ خدا بھلا کرے محترمہ ڈاکٹر نبیلہ رحمن کا کہ انہوں نے اس دیرینہ ضرورت کو بساط بھر پورا کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ پنجابی زبان و ادب کی معروف اسکالر ہیں۔ گور مکھی رسم الخط والی پنجابی سے بھی واقفیت رکھتی ہیں اور اس میں استعمال ہونے والے الفاظ‘ محاورات‘ ضرب الامثال اور اصطلاحات کا بھی خاصا فہم بھی رکھتی ہیں۔ حال ہی میں شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ان کی تازہ تحقیقی کاوش ”پنجابی ادبی تے تنقیدی اصطلاحاں“ منظر عام پر آئی ہے‘ جو 184صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ان 248اصطلاحات کی تشریح و توضیح پیش کی گئی ہے۔ جو بھارتی پنجاب کے لکھاری استعمال کرتے ہیں لیکن پاکستانی اسکالروں کےلئے انہیں سمجھنا مشکل ہے۔ تمام اصطلاحات کو حروف ابجد کی صورت میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ اسکالر کو کسی اصطلاح کا مفہوم مطلوب ہو تو اسے آسانی سے تلاش کرلے۔ یہ سارا مواد پنجابی (شہ مکھی رسم الخط) میں پیش کیا گیا ہے۔ دو چار مقامات پر ڈاکٹر صاحب کی نثر سنسکرتی اور ہندی الفاظ سے اتنی بوجھل ہوگئی ہے کہ مجھ جیسے پنجابی ادب کے استاد کےلئے بھی اسے سمجھنا ناممکن ہے۔ ایک آدھ نوٹ میں اصطلاح کا مفہوم ادھورا بھی معلوم ہوتا ہے جیسے ”بھگود گیتا“ ۔

کسی علمی نظر یئے‘ خیال‘ واقعہ اور بیتے ہوئے معاملے یا اس کے نتیجے کو کم لفظوں میں بیان کرنا اصطلاح کہلاتا ہے۔ اسلئے ہر علمی شعبہ‘ ایجاد‘ اختراع یا کوئی خیال اپنے وجود کے ساتھ اپنی اصطلاحات بھی لے کر آتا ہے۔ یہی اصطلاحات بعد میں اس کی پہچان بن جاتی ہیں۔ (ص :23)

اصطلاح سازی میں کن امور کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے‘ ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں۔”اصطلاح سازی اگر چہ خالص علمی اور لسانی کھوج کا کام ہے‘ مگر اس عمل سے جڑے ہوئے لوگوں کی خاص نفسیات‘ سیاسی‘ تہذیبی اور تمدنی تبدیلیوں اور مذہبی مزاج کو کسی طور بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اصطلاح بنانے میں خاص کردار ادا کرتے ہیں۔ (ص :26)

ڈاکٹر نبیلہ نے اصطلاحات کی وضاحت کےلئے سکھوں اور ہندوﺅں کے مذہبی اعتقادات‘ اساطیر (My thology)‘ تاریخی حالات و واقعات اور رسوم و رواج کےساتھ ساتھ ان کی ادبی روایات کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ ایک اصطلاح ”اونسی“ کی مثال پیش خدمت ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ اونسی پنجابی عوامی زندگی کا ایک یقین ہے۔ یہ لفظ سنسکرت کے دو لفظوں ”اون“ اور ”ستیا“ سے مل کر بنا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے ”زمین پر لکیر نکالنا“ اسے ”اون ستیا“ بھی کہتے ہیں۔ پرانے وقتوں سے یہ شگون چلا آتا ہے۔ بھارتی خواتین اس پر بہت یقین رکھتی ہیں۔ خاص طور سے نوبیاہتا عورتیں اپنے خاوند کا انتظار کرتے ہوئے یہ کھیل کھیلتی ہیں بچے اپنے پاس‘ فیل ہونے کا شگون بھی اونسی نکال کر لیتے ہیں۔ اونسی نکالنے کےلئے مخصوص گیت ہوتے ہیں۔ کسی گیت کے پہلے لفظ سے لکیریں بنانی شروع کرتی ہیں اور آخری لفظ کے ساتھ ہی لکیریں بنانا بند کر دیا جاتا ہے۔ لکیروں کے جوڑے بنائے جاتے ہیں۔ اگر جوڑے برابر ہوں تو مراد مل جائے گی اور اگر کوئی ایک لکیر بچ جائے تو نامرادی مراد لی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اونسی نکالنے کے ضمن میں استعمال ہونے والے گیت کا ایک نمونہ ”پنجابی لوک دھارا وشو کوش“ سے اقتباس کیا ہے:

سچ پاواں سچیارا پاواں

سچڑے دا گل ہار پاواں

دھرتی ماتا مہر کرے

میری اونسی سچ ہووے

ڈاکٹر صاحبہ نے اونسی کے ضمن میں وارث شاہ کا ایک شعر نقل کیا ہے:

کدے سنگلی سُٹ کے شگن واچے

کدے سواہ تے اونسیاں پائیاں نی

وضاحت یوں دی ہے: ”جہاں اونسی کو عقیدت سے دیوی یا اونسی ماتا کہا جاتا ہے وہاں کسی جوگی کی دھونی کی راکھ پر نکالی ہوئی اونسی کو ہمیشہ سچ مانا جاتا ہے۔ (ص: 77۔78)

مجھے تقریباً چالیس سال سے پیر فضل گجراتی کی رومانوی نظم ”بیتے سمیں“ کا یہ شعر یاد ہے:۔

میں تیریاں وچ اڈیکاں دے پیا بیٹھا اونسیاں پاندا ساں

جو کاگ بنیرے بہندا سی اوہنوں چوری کٹ کھواندا ساں

(یعنی میں تیرے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اونسیاں ڈالتا تھا اور گھر کی منڈیر پر جو کوا بھی بیٹھتا تھا اسے چوری بنا کے کھلاتا تھا۔ پنجابی کلچر میں کوا گھر کی دیوار پر بیٹھ کر کائیں کائیں شروع کر دے تو اس سے مہمان کے آنے کا شگون لیا جاتا ہے)۔

میں اونسی ڈالنے کا مفہوم فقط شگون لینے کی حد تک ہی سمجھتا تھا لیکن اونسی ڈالنے کے پورے عمل سے ناواقف تھا۔ کئی لوگوں سے پوچھا بھی لیکن پوری آگاہی نہیں ملتی تھی۔ وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ہندوﺅں اور سکھوں کے ادھر سے چلے جانے کے بعد ان کے بےشمار رسوم و رواجات اور عقاید سے ہمارے معاشرے کی واقفیت ہوتے ہوتے بالکل ہی معدوم ہوگئی۔ پنجابی زبان و ادب دراصل صدیوں کے مخلوط کلچر کی پیداوار ہے۔ اس کے بےشمار محاورات اور ضرب الامثال کو پورے معاشرتی اور ثقافتی پس منظر میں سمجھنا اب بہت دشوار ہوگیا ہے۔ دوسرے ہندوستان سے تاریخ‘ سماجیات‘ سیاسیات‘ ادب اور ثقافت پر کتابوں اور رسالوں کی درآمد پر کڑی پابندیاں لگتی رہی ہیں۔ یک طرفہ سیاسی پروپیگنڈے نے افہام و تفہیم کے امکانات معدوم کئے رکھے۔ بابا نانک آج بھی شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی (لاہور) کے نصابات سے باہر ہے۔ کس کس جہالت کا ماتم کیا جائے!

مختصر یہ کہ ڈاکٹر نبیلہ کی مذکورہ علمی کاوش سراہے جانے کے لائق ہے۔یونیورسٹی پریس کے انچارج جناب پروفیسر امجد پرویز نے کتاب کا ٹائیٹل(اُچھاڑ) تیار کرنے میں اپنی بھرپور تحقیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ سب سے زیادہ تو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی جناب ڈاکٹر مجاہد کامران مبارکباد کے مستحق ہیں‘ وہ علمی و ادبی کانفرنسوں کے انعقاد اور اساتذہ کی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں ہمیشہ دل کھول کر مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔  ٭

مزید : کالم


loading...