کون، کیوں جیتا؟ (1)

کون، کیوں جیتا؟ (1)
کون، کیوں جیتا؟ (1)

  


پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے قومی اور صوبائی انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ یہ میرے جیسے رائے عامہ کے طالب علموں کے لئے بہت دلچسپ سٹڈی کیس تھی۔ پاکستان کے عوام کی سیاسی معاملات میں کیا سوچ تھی؟ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کے نتیجے میں ان میں کتنی اور کس حد تک تبدیلی آئی اور ان مہمات کے اثرات مرتب ہونے کے بعد ملک کے کن کن حصوں اور طبقوں میں اب یہ سوچ کس شکل میں موجود ہے؟ ان سارے سوالات کا جواب کافی حد تک واضح ہوگیا ہے۔

سوچ کے انداز، اس کی مختلف جہتوں اور ان میں اتار چڑھاﺅ کو پرکھنے کے لئے جو بڑے بڑے فیکٹر میں نے مدنظر رکھے ہیں، ان میں دہشت گردی کا تصور اور پالیسی، مذہبی، قبائلی و لسانی تعصبات، سرکار اور موثر طبقوں کی دیانت داری و بدعنوانی و شفافیت اور اظہار رائے کی آزادی، عوام کے روزمرہ مسائل اور ان کا حل، عدل و انصاف اور جمہوری عمل کا فروغ اور بین الاقوامی پالیسی شامل ہیں۔

انتخابی مہموں اور انتخابات میں کچھ سیاسی جماعتوں نے کھل کر سودا بیچا اور کچھ کو بوجوہ اس کا موقع فراہم نہ ہوا۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا کہ کسی بھی سودے کی قومی سطح پر پذیرائی نہیں ہوئی۔ سبھی بڑی چھوٹی جماعتوں کے پیغامات نے ملک کی مخصوص پاکٹوں کو متاثر کیا۔ اسے اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کے کچھ حصے ایسے تھے، جہاں پہلے سے موجود سوچ کو وہاں پہنچنے والے پیغامات سے مطابقت ملی اور وہ وہاں اثر کر گئے۔

 میں سبھی بڑی جماعتوں اور ان کے پیغامات کا الگ الگ جائزہ پیش کروں گا۔

 اس سے قبل یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس کھیل کے تمام کھلاڑیوں کو پوری آزادی کے ساتھ لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اترنے نہیں دیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ انہیں موقع ملتا تو وہ اپنا موقف پیش کرکے عوامی سوچ میں اپنے حق میں کچھ مزید تبدیلی لے آتے۔ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کو تو میدان میں اترنے کی اجازت ہی نہیں ملی۔ تبدیلی کے لئے تیسری آپشن کا جو مقبول تصور سامنے آیا تھا، اس میں یقینا ان کا ایک موثر حصہ تھا، جسے بروئے کار لانے کا صرف تحریک انصاف کو موقع دیا گیا۔

ملک میں دہشت گردی کی ایک فضا مسلسل چلی آ رہی ہے جو انتخابی مہم اور انتخابات کے دوران بھی برقرار رہی۔ دہشت گردوں نے کوئی پردہ رکھنے کی بجائے اپنے کارڈ واضح طور پر شو کر دئیے۔ یہ ضروری نہیں کہ جن جماعتوں کو انتخابی مہم میں ٹچ نہ کرنے کا اعلان کیا ہو، ان کی دہشت گردوں سے کوئی ملی بھگت بھی ہو۔ آئندہ وجود میں آنے والی حکومت کو ان دہشت گردوں کے بارے میں سیاسی اور فوجی فیصلے بھی کرنے ہیں، اس لئے قدرتی طور پر انہوں نے اپنی طرف سے ان جماعتوں کو گرین سگنل دیا، جن سے وہ بہتر سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کی جماعت نے کھل کر اپنی مہم چلائی۔ دہشت گردی کے خوف سے پیپلزپارٹی اور اے این پی کی لیڈر شپ تو میدان میں ہی نہیں اتری، البتہ ایم کیو ایم نے محدود طریقے سے کچھ کام کیا۔ اگر آل پاکستان مسلم لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی اور پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کو کھل کر انتخابی مہم چلانے کا موقع ملتا تو وہ نتائج پیدا کرسکتے تھے۔

سیاسی جماعتوں کی قوت اور ان کی عوامی حمایت کا اندازہ لگانے کا یقینا انتخابات ہی بہت بڑا پیمانہ ہیں۔ بشرطیکہ تمام جماعتوں اور ان کے امیدوارں کو کھل کر میدان میں اترنے اور اپنی انتخابی مہم چلانے کا پورا موقع ملے۔ دہشت گرد وںنے کچھ ناپسندیدہ جماعتوں کو اس عمل سے دور رکھنے کے لئے دہشت اور خوف کا سہارا لیا، جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن نے بھی سب لوگوں کو برابر کا موقع فراہم کرنے میں آئیڈیل کردار ادا نہیں کیا۔

کہتے ہیں کہ صرف اچھا ہونا ضروری نہیں، اچھا نظر بھی آنا چاہیے۔ فخر الدین ابراہیم کی چیف الیکشن کمشنر بننے سے قبل اچھی شہرت تھی جس کی بناءپر انہیں اس اہم عہدے کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن ان کی قیادت میں بننے والا الیکشن کمیشن اچھا نظر نہیں آیا۔

موجودہ الیکشن کمیشن کے قیام کے بعد ان سیاسی جماعتوں سمیت جنہوں نے اس کے ارکان نامزد کئے تھے، سبھی سیاسی جماعتیں اور ان کے ممکنہ امیدوار پہلی مرتبہ باقاعدہ خوفزدہ ہوئے کہ یہ کمیشن تو تمام کتابی ضوابط پر پوری طرح عمل درآمد کرنے جا رہا ہے۔ جب الیکشن کمیشن نے سخت سکروٹنی کا عندیہ دیا تو امید پیدا ہوئی کہ اب صرف اچھے ریکارڈ اور اچھے کردار والے لوگ ہی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، لیکن جلد ہی یہ سکروٹنی کا عمل نہ صرف مذاق کا نشانہ بن گیا، بلکہ کمیشن کے عزائم کے بارے میں شک و شبہات پیدا ہوگئے۔اگر الیکشن کمیشن برے ریکارڈ یا برے کردار والے امیدواروں کو انتخابی عمل سے باہر کر دیتا تو شاید کمیشن سے نیک توقعات وابستہ کرنے والے افراد کو کوئی اعتراض نہ ہوتا، لیکن ریٹرننگ آفیسروں نے کلمہ گو امیدواروں کو مسلمانی کا سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کا فریضہ سنبھال کر اپنا مذاق اڑوایا۔ برے ریکارڈ یا برے ریکارڈ والے کچھ افراد کو روکا گیا، لیکن عدالتوں نے آہستہ آہستہ سب کو کلیئر کرنا شروع کر دیا۔ بیرون ملک آباد نصف کروڑ کے قریب ووٹروں کو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے انتخابات میں شرکت سے محروم رکھا۔

کراچی میں جزوی پولنگ کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے جس ضد بازی کا مظاہرہ کیا، وہ اس اہم قومی ادارے کے بالکل شایان شان نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن کیا ایک عام آدمی بھی بتا سکتا تھا کہ وہاں اگر ایک بڑی سیاسی جماعت اس میں شرکت نہیں کرے گی تو وہی یک طرفہ نتیجہ نکلے گا جو سامنے آیا ہے۔ اگر سب جماعتیں شریک ہو جاتیں تو جزوی پولنگ میں کوئی ہرج نہیں تھا، لیکن اگر وہ یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ اس حلقے کی مکمل پولنگ دوبارہ کرائی جائے تو اسے مان لینا چاہیے تھا۔ مقصد تو اس حلقے کے عوام کی صحیح رائے حاصل کرنا تھا۔ الیکشن کمیشن کو نظر آ رہا تھا کہ جزوی پولنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا، لیکن پھر بھی اس نے جزوی پولنگ کرانے کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا، ہم تو اصل میں انتخابی نتائج میں سے رائے عامہ کی جھلک دینے کی کوشش کر رہے تھے اور درمیان میں الیکشن کمیشن کا معاملہ آگیا، جس کا جائزہ لینا بھی ضروری تھا۔

بہرحال سب سے پہلے پیپلز پارٹی کا معاملہ لیتے ہیں۔ ”چاروں صوبوں کی زنجیر .... بےنظیر بےنظیر،، کا نعرہ عوام نے جھٹلا دیا۔ اس پارٹی کی صرف سندھ میں پذیرائی سے یہ واضح ہوگیا کہ اس پارٹی کو تمام تر خامیوں کے ساتھ قبول کرنے والا اس کا غیر مشروط وفادار کارکن اب صرف سندھ میں پایا جاتا ہے۔ اس صوبے میں بڑے وڈیروں کی صورت میں اس پارٹی کا سیاسی تسلط قائم ہے اور وہاں ترقیاتی کام بھی انہوں نے کافی کئے ہیں۔ اس لئے پیپلز پارٹی کے خلاف چلنے والی ملک گیر لہر کے اثرات اندرون سندھ تک پہنچتے پہنچتے برائے نام رہ گئے۔

پیپلز پارٹی کو پورے ملک میں عموماً اور پنجاب میں خصوصاً کرپشن، حکومت کی ناقص کارکردگی، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی جیسے بنیادی عوامی مسائل کے حل میں ناکامی پر مسترد کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف پیپلز پارٹی نے نسبتاً زیادہ ٹھوس رویہ اختیار کیا، جس کی سزا اسے خیبرپختونخوا اور کچھ کچھ بلوچستان میں بھی ملی۔ بھٹو خاندان سے ہمدردی اور اس کا کرشمہ اندرون سندھ سے باہر جلوہ نہ دکھا سکا۔ اس کی اشتہاری مہم نے اگر تھوڑا بہت اثر کیا تو پورے میڈیا کی اس کی کرپشن کے خلاف مہم نے اسے کافی حد تک Neutralizeکردیا۔ اس کے امیدواروں نے اپنے طور پر تھوڑے بہت ہاتھ پاﺅں مارے، لیکن اس کی لیڈر شپ کے میدان میں موجود نہ ہونے سے یہ پارٹی نفسیاتی جنگ تو میدان میں اترنے سے پہلے ہی ہار چکی تھی۔ (جاری ہے)        ٭

مزید : کالم


loading...