اچھی حکومت عوامی خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے

اچھی حکومت عوامی خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے
اچھی حکومت عوامی خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے

  


عظیم فلسفی ابو نصر الفارابی نے دسویں صدی میں لکھا تھا کہ خوشی بذات خود ایک اہم شے ہے ، اس کی خواہش کوئی اور چیز حاصل کرنے کے لیے نہیں کی جاتی اور انسان اس سے زیادہ بڑی کوئی شے حاصل نہیں کر سکتا‘۔ اسی بات کو بارہویں صدی کے چینی مفکر شین لیانگ نے یوںبیان کیا ہے کہ جو چیز بھی لوگوں کی معقول ضروریات یا خواہشات کو تسکین بخشے جائز ہے ۔ چند صدیاں گذر جانے کے بعد امریکہ کے اعلان آزادی میں زندگی، آزادی اور خوشی کی تلاش کا نعرہ دیا گیا پھر 1973ءکے فرانس کے دستور میں اس پر اتفاق رائے کی سعی کی گئی کہ معاشرے کا مقصد مشترک خوشی ہے ۔ حکایات لقمان میں ہے کہ سورج اور ہوا آپس میں مقابلہ کر رہے تھے کہ دیکھیں بکریاں چرانے والے لڑکے کا چوغہ کون اتارتا ہے ۔ ہوا چلتی ہے تو لڑکا چوغے کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے لیکن جب سورج چمکتا ہے تو وہ چوغہ خود ہی اتار دیتا ہے ۔ یعنی حکومتیں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ اس وقت کرتی ہیں جب وہ قوت و تحکم استعمال کرنے کی بجائے، لوگوں کے نجی مفاد کی مطابقت میں کام کرتی ہیں۔ اچھا حکمران وہ ہوتا ہے جو اجتماعی مفاد کے لیے کام کرتا ہے ، صرف وہ نہیں کرتا جو ٹھیک ہے بلکہ وہ کرتا ہے جو فلاح عامہ کا سبب ہے ۔ برطانوی مفکربینتھم نے کہا تھا کہ ” اچھی حکومت وہ ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خوشی کا اہتمام کرے ۔ “

پاکستان میں 11 مئی کے الیکشن جس تناظر میں ہوئے وہ پاکستانی قوم کی خوشی کی تلاش ہے ۔آج ہر پاکستانی پریشان نظری کا شکار ہے ۔ ہر سمت آگ اور دھواں ہے ۔ نفرت و عناد کی بدبو چہار طرف پھیلی ہوئی ہے ۔آدھے سے زیادہ پاکستانی خط غربت کے اوپر نیچے لٹکے ہوئے ہیں ۔ بنیادی انسانی حقوق تو ایک طرف انہیں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ صحت اور تعلیم تک انہیں رسائی حاصل نہیں ۔لاقانونیت و بے انصافی عام ہے ۔ ہر پاکستانی مغموم اور پریشان ہے ۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی اور میاں برادران کی قیادت ابھر کر سامنے آئی ہے ۔ ہر پاکستانی نے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی ہیں ۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن)کو مختلف افراد، گروہوں اور سیاسی دھڑوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر ووٹ دیے ہیں لیکن اگر ان سب وجوہات کو کو جمع کر کے ایک نام دیا جاسکے تو کہا جاسکتا ہے کہ خوشی کے متلاشی پاکستانیوں نے صرف اور صرف ریاست کو خوشیوں بھری ریاست بنانے کے لیے تجربہ کار و معتدل مزاج میاں نواز شریف کو ووٹ دیا ہے اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ میاں محمد نواز شریف حکومت سازی سے حکمرانی تک جو بھی ایجنڈا دیں گے اس میں عوام کی خوشی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ تھامس جیفرسن نے کہہ رکھا ہے کہ

The care of human life and happiness and not their destruction, is the first and only object of good government.

ٹالسٹائی کا کہنا ہے کہ ”تمام خوش باش کنبے ایک ہی طرح سے خوش ہوتے ہیں اور تمام ناخوش کنبے مختلف طریقوں سے ناخوش ہوتے ہیں “۔ آج کے دور میں قومیں حیران کن طو ر پر یکساں انداز سے ناخوش ہوتے ہیں اس لیے نئی حکومت تشکیل دیتے وقت نئے حکمرانوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ وہ پاکستانیوں کو یکساں طریقے سے ناخوش کرنے کی بجائے خوش کرنے کے لیے عوامی مینڈیٹ کے حقدار قرار پائے ہیں ۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ میاں نواز شریف کے الفاظ ان کے اعمال میں کس طرح دکھائی دیتے ہیں ۔ حکومتیں اقتدار سنبھالنے کے بعد عموماً ایسے طریقے بروئے کار لاتی ہیںجو غیرشخصی ،تجریدی اور سرد مہرانہ ہوتے ہیں۔ یقینا قوم ایسی باتوں اور رویوں کی نئے خادموں سے توقع نہیں کر سکتی ۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میکیاولی نے کہہ رکھا ہے کہ ”اکثر اوقات وہ چیزیں جو حاکم کو فائدہ دیتی ہیں اس کے شہر کو نقصان کو پہنچاتی ہیں جبکہ وہ چیزیں جو اس کے شہر کو فائدہ دیتی ہیں ، حاکم کو نقصان پہنچاتی ہیں “۔ میاں صاحب کو ملک کی معاشی صورتحال پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ وہ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح معیشت ، دوسری ترجیح معیشت اور تیسری ترجیح بھی معیشت ہے ۔ میاں نواز شریف کے شخصی عقاید، ان کی ٹیم اور ساتھیوں پر قوم کو اس لیے بھی اعتماد ہے کہ وہ یہ سب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو ادھر ادھر ضائع کرنے کی بجائے اگر ان کا فوکس اچھی حکمرانی اور فلاح عامہ پر ہی رہا تو پھر اس ملک میں بہار کا امکان روشن ہو گا ۔ سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ

A government is the complexion of the people, healthy as they are and diseased as they are diseased.

اس کی روشنی میں ظاہری معنوں میں دیکھا جائے تو قوم کی صحت کے مطابق اچھی اور مفاد عامہ کی ضامن حکومت ممکن نہیں ۔ تاہم اگر قوم کی آرزوئیں ، مقاصد اور نصب العین کی کوئی حیثیت ہے تو پھر قوی امید ہے کہ عوامی توقعات کے عین مطابق نئی حکومت مستحکم اور روشن پاکستان کی علمبردار ہو گی ۔ ملک کی صورتحال بالخصوص مالی معاملات اور تکنیکی حوالوں سے کئی ٹیکنوکریٹ میاں برادران کو ڈرا دھمکا رہے ہوں گے کہ اس ملک کے مسائل لا علاج ہیں ۔ ایسے میں مجھے میاں محمد نواز شریف کو ایڈم سمتھ کی کہی ایک بات یاد کروانی ہے کہ دکھوں کی ماری قوم کو خوشیوں کی حامل قوم بنانے کا نسخہ زیادہ پیچیدہ اور مشکل نہیں بلکہ ایڈم سمتھ کہتا ہے کہ ” کسی ریاست کو بدترین بربریت سے اعلیٰ ترین درجے کی خوشحالی تک لانے کے لیے صرف اور صرف امن ، آسان ٹیکسوں اور قابل تحمل انصاف کی ضرورت ہے باقی ساری چیزیں خود بخود ہی چلی آئیں گی۔“

عوام کو خوشی دینے کی خواہش کرنا ایک بات ہے لیکن ایسا کرنے میں کامیابی حاصل کرنا دوسری بات ۔ بیشتر حکومتیں معاشی اصلاحات سے شروع کرتی ہیں اور نظم و ضبط و آزادی کا ایسا آمیزہ متعارف کروانے کی کوشش کرتی ہیں جس سے مصنوعی خوشحالی ممکن ہو سکے۔ مصنوعی خوشحالی خوشیوں کی بجائے دکھوں میں اضافہ کرتی ہے۔ عوام میاں نواز شریف سے خوشیوں کی ضامن اچھی حکومت کی تمنا کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کو اپنے لوگوں کے تحفظ اور خوشی کے لیے کسی حد تک جانا چاہیے یہ ہمیشہ کسی مطلق اصول کی بجائے فہم و تناسب کی بات خیال کی جاتی ہے ۔ جسے ہم آنے والے حکمرانوں کے فہم و تناسب پر چھوڑ دیتے ہیں ۔      ٭

مزید : کالم


loading...