نادر شاہی دور

نادر شاہی دور

پاکستان، دُنیا بھر کے ممالک میں ایک برگزیدہ اور حسین ترین نام ہے جس کے معنے ہر خاص و عام پر عیاں ہیں یعنی ایک پاکیزہ سر زمین۔ ہونا تو اسے اسم با مسمےٰ چاہئے تھا لیکن صد افسوس کہ حالات اس کے برعکس ثابت ہوئے جو اس پاک نام کی عظمت کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔

جن لوگوں نے اس ملک کو وجود میں آتے دیکھا وہ فراموش نہیں کر سکتے کہ اس سر زمین پر قدم رکھتے ہی مہاجرین خوشی سے سرشار ہو کر بے ساختہ اس کی مٹی کو چومتے ہوئے اشکبار ہو جاتے۔ پھر احساس تشکر میں اس نئے وطن کی سختیاں بھی انہیں سہل معلوم ہوتیں اور کوئی شکوہ زبان پر نہ آتا۔

وہ بھی کیا گھڑی تھی جب لاہور ریڈیو سٹیشن سے معروف اناﺅ نسرمصطفےٰ علی ہمدانی نے رات کے بارہ بجے پاکستان کے وجود میں آنے کا اعلان کرنے کے بعد پاکستان زندہ باد کہا تو عوام نے اس کے ساتھ ایسے نعرہ ہائے مسرت بلند کئے کہ ماحول جھوم اٹھا۔

پھر پناہ گزینوں کے قافلوں پر قافلے آتے رہے اور انصار انہیں نہایت عزت و تکریم سے گلے لگا کر پناہ دیتے رہے۔ مختلف کیمپوں میں ان کے لئے کھانوں کی دیگیں فراہم کی جاتیں اور دیگر سہولتوں سے بھی نوازا جاتا۔

پاکستانی عوام کے ابتدائی ایام انہی سرگرمیوں میں گذرے۔ برسوں بعد یہی پناہ گیر صاحبِ حیثیت اور صاحب اقتدار بھی ہوتے چلے گئے۔ خالی خزانے معجزاتی طور پر عوام کی کفالت کے لئے اللہ تعالیٰ نے پر کر دیئے۔

اس دور میں نہ تو تعلیم کی کمی کی کوئی شکایت تھی اور نہ ہی روزگار کی۔ یہ قوم اپنے نئے وطن کی محبت میں سرشار انگریزوں اور ہندوﺅں کی غلامی سے چھٹکارہ پا کر مطمئن اور اللہ تعالیٰ کی ممنون و شکرگزار تھی۔

موجودہ پر آشوب دور میں زندہ رہنے والی وہی نسل خون کے آنسو بہار ہی ہے ،اسکے پاس سوائے کفِ افسوس ملنے کے اور کوئی چارہ کار نہیں۔ ہر حساس اور خوف خدا رکھنے والا شہری خوب سمجھتا ہے کہ یہاں شب و روز کیا ہو رہا ہے۔ زندگی کی اہم ضروریات مفقود اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محاورہ عملی صورت اختیار کر چکا ہے۔

پاکستان کی سر زمین کو ہر زور آور شخص غریب کی جو رو سب کی بھابی پر عمل کرتے ہوئے غصب کرنا چاہتاہے ۔ حکمرانوں اور عوام کے مابین ایک ایسی خلیج حائل ہے جسے پاٹنا کسی زبردست کے بس میں نہیں۔ اس مضبوط فصیل سے ٹکرانے والا خود کو فنا تو کر سکتا ہے لیکن اس کا کچھ بگاڑنے کا اہل نہیں۔ہم بھول چکے ہیں کہ یہ دنیا دارالمکافات ہے۔ مکافات کا عمل ازل سے جاری ہے اور تا ابد جاری رہے گا جس کا ہمیں ہر دم احساس ہونا چاہئے۔

پاکستان میں سیاسی شخصیات جمہوریت کا پرچار تو کرتی ہیں لیکن یہ نام نہاد جمہوریت محض بچہ جمورا ہے جو ڈگڈگی بجا کر اور ڈفلی پیٹ کر عوام کو مسحور کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن جزا اور سزا کا تصور اس کے تئیں بے معنی ہے۔

اس تصور پر کاربند رہنے والوں کو سزا نہ دینا جمہوریت کا اصول بن چکا ہے۔ تبھی تو عوامی دولت کو خورد برد کرنے پر بھی مجرموں کو چھوٹ دی جاتی ہے تاکہ لوٹ مار کرنے والوں کی مزید حوصلہ افزائی ہو اور وہ نڈر ہو کر اس کا ارتکاب کریں۔

اندھیر نگری چوپٹ راجہ

سونے کے بھاﺅ بھاجی اسی بھاﺅ کھا جا

پاکستان میں یہ محاورہ عملی طور پر کار فرما نظر آتا ہے۔

ہر دم یہ محسوس ہوتا ہے گویا نئے دور کا انسان پھر سے غاروں میں بسنے والا درندہ بن چکا ہے۔ دھات اور پتھر کا زمانہ لوٹ آیا ہے۔ عوام کے حقوق بیدردی سے غصب کئے جا رہے ہیں اور کوئی کان نہیں دھرتا۔ معاشرے میں اخلاص کا پہلو خارج ہے۔ حد یہ ہے کہ سگے رشتے بھی مخلصی جیسی قدر سے نا آشنا ہو چکے ہیں۔ ذاتی مفاد کے لئے ایک دوسرے کا خون بہانے کے در پے ہو جاتے ہیں۔

میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ بھارت کی نقل میں خواتین نے اسلامی شعائر کو بے طرح نظر انداز کر رکھا ہے۔ دوپٹہ تو درکنار مناسب لباس بھی تن پر نظر نہیں آتا۔ خود پر اسقدر نازاں ہیں کہ اپنے ہی سحر میں گرفتار شاداں و فرحاں ہیں۔ بالوں کو نہایت دلار سے سہلانا۔ بار بار جھٹک کر ماتھے پر پھیلانا اور پھر انہیں پیشانی پر بکھیرنا ان کی اداﺅں میں شامل ہے جنہیں دیکھ کر ناظرین کے ماتھے پر پسینہ آ جاتا ہے۔

مرد و زن کا رقص و سرود بے ڈھنگا اور بے سرا ہوتا ہے۔ رقص کے بھی انداز ہوتے ہیں فن کاری سے کیا جائے تو سراہا جاتا ہے ورنہ باعث تضحیک ہے۔ محض ٹانگیں چلانا اور دائروں میں گول گول گھومنا رقصِ ماکیاں معلوم دیتا ہے۔

کوئی بتلائے کہ ہم سمجھائیں کیا؟

لاتعداد خواتین دولت کمانے کی لالچ میں ماڈلنگ کے میدان میں نکل کھڑی ہیں جو اس خدا داد مملکت کے مزاج سے لگا نہیں کھاتا۔ قرآن حکیم کے ارشادات و احکامات کے مطابق خواتین اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور عاقبت کی خبر لیں۔ یہی جسمانی نمائش عذاب قبر کا باعث بن سکتی ہے ۔

کس لئے آئے تھے اور کیا کر چلے؟

چونکہ ا ٓوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے حکمرانوں کی بے راہ روی دیکھ کر عوام بھی بے باک ہو چکے ہیں۔ من مانی پر اتر آنے کی حد ہے کہ سودا سلف لینے جائیے تو اشیاءچوگنی قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں پھر بھی کھوٹا مال پلے پڑتا ہے۔ خالص اشیاءخواب بن کر رہ گئی ہیں بلکہ ناپید ہیں۔

حال ہی میں جعلی ڈگریوں کا پول بھی کھلا کہ ایسی ناممکن بات بھی ہو سکتی ہے۔ اسمبلیوں میں دھرنا دھرنے والے اس جرم کے مرتکب ہوں تو ایسی اسمبلیوں کا کیا بھرم رہ گیا؟ اگر جعلی ڈگری لینے والوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑی تو دینے والوں کا حشر بھی یہی ہونا چاہئے تھا لیکن دوہرے معیار کا بھلا ہو جس نے انہیں چھوٹ دیدی ہے۔

ویسے بھی رشوت دیکر قید خانوں سے آزاد ہونا کونسا دشوار کام ہے۔

لے کے رشوت پھنس گیا ہے۔ دے کے رشوت چھوٹ جا۔

پر عمل کرتے ہوئے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ڈگری حاصل کرنے والے جانتے ہیں کہ سالوں کی محنت ، جانفشانی اور عرق ریزی سے ڈگریاں حاصل کی جاتی ہیں۔

خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے

تب نظر آتی ہے اک مصرع تر کی صورت

پرانے دور میں ایسے جرائم کا وجود نہ تھا یہ موجودہ دور کی ایجاد ہے قوم سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کی بجائے دھوکہ دہی کی نت نئی ترکیبوں کو بروئے کار لا رہی ہے۔

پاکستان کا دورہ کرنے والے ایک روسی افسر نے کہا تھا کہ کسی قوم کا ڈسپلن دیکھنا ہو تو وہاں کے ٹریفک سے اس کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ وہ قوم کتنی مہذب ہے۔ یہاں ہماری تہذیب کا مظہر بے ہنگم ٹریفک ہے۔ سڑکوں پر بلاتکلف کہیں سے رکشا نمودار ہو رہا ہے تو دوسری سمت سے ٹیکسی، ریہڑے اور تانگے بھی نہایت شان سے رواں دواں ہیں پرائیویٹ گاڑیاں نہایت کروفر سے ٹکر مارنے کے نشے میں ان سے گذر جاتی ہیں کہ ہارٹ فیل ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے۔کھیلوں کے میدان سے منسلک لوگ بھلا اس کار خیر میں کیوں شرکت نہ کرتے؟کھلاڑیوں کے علاوہ امپائر بھی بے ایمانی کے گڑھے میں گر چکے ہیں۔ میچ فکسنگ کی بلا میں مبتلا ہو کر اپنے ہی ملک سے غداری کرتے ہوئے اسے نیچا دکھلانے سے نہیں چوکتے۔

منشیات فروشی عام ہے۔ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز افسران ملیں اور بلڈنگیں بنانے کے بہانے قرض لیتے ہیں بعدازاں انہیں ناکام ثابت قرار دیکر قرضے معاف کروا لیتے ہیں اور تمام بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ متوسط طبقہ اس دباﺅ تلے کچلا جا رہا ہے جسے کہیں سے ہمدردی حاصل نہیں۔

بجلی، گیس اور پٹرول غائب، ڈبل بل ہر ماہ حاضر۔

الغرض ہر چہار سمت اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ روشنی کی ننھی سی کرن بھی نہیں جس کے سہارے زندگی گذاری جائے۔ وطن کی محبت نے جکڑ رکھا ہے۔ دیار غیر میں ہجرت کرنے کی ہمت نہیں کہ یہاں کی مٹی بیحد عزیز ہے اور تمنا اسی سر زمین میں دفن ہونے کی ہے۔قومی ترانے کے خالق محترم حفیظ جالندھری نے کتنے ہر خلوص انداز میں اپنے وطن کی عظمت بیان کرتے ہوئے دعا فرمائی تھی کہ یہ نام نہاد پاکیزہ سر زمین ہمیشہ خوش و آباد رہے کیونکہ یہ ایک بلند پایہ عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کا نظام ایسی قوت ہو جو عوام کی باہمی ہمدردی اور محبت پر مشتمل ہو۔ یہاں کا نظام اسی صورت میں مضبوط ہو گا جب عوام باہمی محبت کا جذبہ رکھیں گے، تبھی یہ قوم اور سلطنت ایک ابدی اور پائیدار زندگی حاصل کرنے کی مجاز ہو گی۔ قومی ترانے کا تجزیہ کیجئے تو یہ تمام بلند عزائم مفقود نظر آتے ہیں۔ سوسائٹی تنزل کی طرف مائل ہے ۔ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے در پے ہے اس کے بلند عزائم میں لوٹ کھسوٹ، بے دردی، خود غرضی اور زندگی گذارنے کے ناجائز ذرائع شامل ہیں۔ اس عالم بے بسی میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آئندہ الیکشن میں اللہ ایسے دیندار سیاست دانوں کو کامیاب کرے جو عوامی خدمت کا سچا جذبہ رکھتے ہوں اور ان کی تقدیر کو بدلنے کے اہل ہوں، آمین !     ٭

مزید : کالم


loading...