طالبان کے ساتھ مذاکرات

طالبان کے ساتھ مذاکرات

مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں نواز شریف نے لاہور میں اپنی پارٹی کے نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی باتیں ایسی کہی ہیں، جنہیں اُن کے پالیسی بیان پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ طالبان کے ساتھ بیٹھ کر بات کیوں نہ کروں؟ اُن کی تقریر نپی تُلی اور متوازن تھی، یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی اسے سراہا، اس تقریر میں میاں نواز شریف نے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے کہا کہ کراچی کے حالات درست کریں، ہر ممکن تعاون کریں گے، لیکن لاشیں نہیں گرنی چاہئیں۔

پاکستان ایک عشرے سے زیادہ مدت سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہ حالات افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی آمد کے بعد پیدا ہوئے ہیں، امریکہ نے وہاں طالبان کی حکومت ختم کر کے اقتدار صدر حامد کرزئی کے سپرد کیا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت تو ختم ہو گئی، لیکن طالبان افغان معاشرت اور معاشرے کا حصہ ہیں، انہیں وہاں سے بزور قوت نہیں نکالا جا سکتا، البتہ اُن کا اثرو رسوخ ضرور کم کیا جا سکتا ہے، ایک وقت میں محسوس بھی ہوتا تھا اور امریکہ دعویٰ بھی کرتا تھا کہ طالبان کی کمر توڑ دی گئی ہے اور وہ امریکہ کے خلاف کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیںرہے، اب امریکہ اگلے سال کے آخر تک خطے سے جانا چاہتا ہے اسے واپسی کے لئے محفوظ راستہ چاہئے جو پاکستان سے جاتا ہے اس لحاظ سے اس معاملے میں پاکستان کی پوزیشن اہم ہے، لیکن سپر طاقت ہونے کے باوجود امریکہ نے مکالمے اور مذاکرات کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا، وہ طالبان کا دشمن نمبر ایک ہے، لیکن جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں وہ مذاکرات بھی کرتا ہے، خود حامد کرزئی نے متعدد بار طالبان سے کہا کہ وہ ہتھیار رکھ کر الیکشن لڑیں اور اگر الیکشن جیت کر برسر اقتدار آنا چاہیں تو آ جائیں۔

پاکستان میں طالبان کی سرگرمیاں افغان طالبان سے مختلف ہیں۔ اُن کے مطالبات کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سابق دورِ حکومت کے آخر میںطالبان نے مذاکرات کی جو پیشکش کی تھی اس پر غور و خوص کے کئی مراحل تو طے ہوئے، لیکن بالآخر فیصلہ کوئی نہ ہو سکا۔ اِس سلسلے میں ایک آل پارٹیز کانفرنس اے این پی اور دوسری جمعیت العلمائے اسلام(ف) نے منعقد کی۔ اِس دوران الیکشن آ گئے، انتخابی مہم شروع ہوگئی، لیکن بدقسمتی سے یہ تشدد آمیز تھی۔ اے این پی کو اِس دوران خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا اس کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کراچی میں اے این پی کے ایک انتخابی امیدوار کی جان بھی گئی، لیکن اے این پی میدان سے نہیں بھاگی۔ اگرچہ اُسے انتخابات میں شکست ہو گئی، لیکن اُس کی قیادت نے شکست تسلیم کی۔ میاں نواز شریف نے اب اگر طالبان سے مذاکرات کی بات کی ہے تو اس کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لے کر آگے بڑھنا چاہئے اور ممکن ہو تو مذاکرات کی میز سجانی چاہئے، دُنیا میں طول طویل جنگوں کے بعد بھی بہت سے معاملات مذاکرات کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ برطانیہ نے اپنے ہاں دہشت گردی کا مسئلہ کئی سال تک لڑائی لڑنے کے بعد بالآخر مذاکرات سے حل کیا، امریکہ نے چار سالہ خانہ جنگی کے بعد بالآخر مذاکرات کا ڈول ڈالا، ہتھیار رکھ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا مسائل کے حل کی راہ دکھاتا ہے، اِس لئے مذاکرات کا موقع آئے تو اس سے گریز غیرمناسب ہے۔      ٭

مزید : اداریہ


loading...