جنرل اشفاق پرویز کیانی کا قوم کو خراج ِ تحسین

جنرل اشفاق پرویز کیانی کا قوم کو خراج ِ تحسین

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خطرے کے باوجود 11مئی کو باہر نکل کر اور ووٹ ڈال کر گمراہ کن اقلیت کو شکست دے دی، انتخابات میں عوام نے جرا¿ت مندی سے ثابت کیا ہے کہ ہم کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کے لئے ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔ ملکی خوشحالی اور قوم کی بالادستی کے لئے پُرعزم ہیں، ہمیں بے چہرہ دشمن سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کا وسیع تجربہ ہے، دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جدید طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔ امید ہے بین الاقوامی برادری کی مدد اور تعاون سے پاکستان اور یہ خطہ دیسی ساختہ بارودی سرنگوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دیسی ساختہ بم پوری دُنیا کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ بوسٹن حملے نے ترقی یافتہ ملک کی بے بسی بھی ظاہر کر دی ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے متعلق تشکیک اور شکوک و شبہات کے طویل گہرے سائے چھائے رہے، بڑے بڑے نام نہاد باخبر لکھاریوں نے اپنے کالموں میں گپ شپ کے انداز میں بار بار لکھا کہ انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔ یہ لوگ یہ بھی تاثر دیتے رہے کہ وہ حکمرانوں کے قریب ہیں۔ دوسرے انہیں اگر انتخابات کے انعقاد پر شک تھا تو اس وجہ سے بھی تھا کہ حکمرانوں نے اُن کے کان میں کہہ رکھا تھا کہ انتخابات نہیں ہونے جا رہے۔ ایک طرف تو یہ تاثر تھا اور دوسری طرف صدر سے لے کر وزیراعظم اور چیف جسٹس سے لے کر آرمی چیف تک یہ کہہ رہے تھے کہ انتخابات بروقت ہوں گے اور اس میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوگی، ان بیانات پر اعتماد ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ ”کاریگر“ لوگ پھر بھی شکوک و شبہات کے اظہار سے باز نہیں آ رہے تھے۔ دوسری طرف علم نجوم کے بعض نام نہاد ماہر تھے، جنہیں انتخابات کہیں نظر نہیں آتے تھے۔ وہ ٹیلی ویژن سکرینوں پر پتے چھانٹ چھانٹ کر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ انتخابات نہیں دیکھتے اور یہ اس وقت ہو رہا تھا جب انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا تھا، کاغذات نامزدگی داخل ہو چکے تھے اور امیدوار اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ اِس دوران جنگجوﺅں نے بھی دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ لوگ پولنگ سٹیشنوں پر نہ جائیں، لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی کے الفاظ میں ”پاکستانی قوم نے گمراہ کن اقلیت کو شکست دے دی، انتخابات میں عوام نے جرا¿ت مندی سے ثابت کیا ہے کہ ہم کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں“۔

 پاکستان کے یہ بہادر لوگ جو ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلے، اُن کا عزم مصمم تھا اور انہوں نے دھمکیوں کو پرکاہ کی حیثیت نہ دی اور گمراہ لوگوں کے پھیلائے ہوئے اس تاثر کو بھی غلط ثابت کر دیا کہ اول تو انتخابات نہیں ہوں گے۔ اگر ہو گئے تو ووٹر زیادہ تعداد میں گھروں سے نہیں نکلیں گے اور ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔لیکن دنیا نے دیکھا انتخابات وقت مقررہ پر ہوئے اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوئے، جس کے لئے الیکشن کمیشن ، پاک فوج، پاکستان کی عدلیہ اور انتظامیہ سارے ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ الیکشن میں حصہ لینے والوں کا بھی اس میں کردار ہے۔ پاکستان کے بہادر ووٹروں نے کسی خوف و خطر کے بغیر ووٹ ڈالے اور اتنی تعداد میں گھروں سے نکلے، کہ وقت کم پڑ گیا اور ووٹ ڈالنے کے وقت میں توسیع کرنا پڑی، پھر بھی کچھ لوگ پولنگ سٹیشنوں کے باہر رہ گئے، انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع نہ ملا۔ یہ ووٹر دھمکیاں دینے والے مسلح لوگوں کے مقابلے میں نہتے تھے مگر عزم و حوصلے کے ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ انہوں نے آزادانہ طور پر بلا خطر ووٹ ڈالے اور ایک ایسی قومی اسمبلی وجود میں لے آئے جس میں ایک پارٹی (مسلم لیگ(ن) کو اتنی واضح اکثریت حاصل ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر حکومت سازی کر سکتی ہے۔گزشتہ کئی انتخابات کے نتیجے میں ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آ رہی تھی۔2002ءمیں مسلم لیگ(ق) بڑی پارٹی تھی، لیکن حکومت سازی کے لئے اُسے کافی توڑ جوڑ اور توڑ پھوڑ کرنی پڑی۔ پیپلزپارٹی سے ایک دس رکنی گروپ الگ کیا گیا جسے ”پیٹریاٹ“ کا نام دیا گیا۔ بہت سے آزاد ارکان کی حمایت حاصل کی گئی، تب کہیں جا کر میر ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم بن سکے۔2008ءکے الیکشن میں بھی کسی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل نہ تھی، پیپلزپارٹی سب سے بڑی جماعت تھی اُس نے کئی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور آخر تک یہ سارے اتحادی پارٹی پر ایک طرح کا بوجھ بنے رہے اور اپنے مطالبات منواتے رہے، اِن دونوں الیکشنوں کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) اب اکثریتی جماعت ہے اور سادہ اکثریت کے ساتھ آسانی سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ یہ سب کچھ عوام کے سوچے سمجھے مینڈیٹ کا نتیجہ ہے۔ ووٹروں نے محسوس کیا کہ سابق حکومتیں اُن کے مسائل حل نہیں کر سکیں اِس لئے ایک ایسی جماعت کو ملک میں برسر اقتدار لانا چاہئے، جس نے 2008ءکے بعد پنجاب میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی تھی اور اس کے کام صوبے میں نظر بھی آتے تھے۔ عوام اگر خوفزدہ ہو کر، گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تو نتیجہ مختلف بھی ہو سکتا تھا، لیکن جو نتیجہ نکلا ہے وہ گمراہ اقلیت کے لئے ضرور پریشان کن ہے، جن کی تمام دھمکیاں بے اثر ثابت ہو گئیں۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ بھی قابل ِ تحسین ہے۔انہوں نے اِس ضمن میں سیکیورٹی فورسز کے عزم و حوصلے کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت کا احساس بھی دلایا ہے۔ انہوں نے بجا طور پر واضح کیا کہ دہشت گردی کے واقعات کے سامنے بعض اوقات ترقی یافتہ ممالک بھی بے بس ہو جاتے ہیں۔ اُن کا اشارہ بوسٹن کے واقعات کی طرف تھا جہاں سپورٹس ایونٹ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا۔ یہ درست ہے کہ یہ واقعہ ہوا، لیکن یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ امریکی اداروں کے متعلقہ اہلکاروں نے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا اور دوسرے کو جو سمندر میں ایک کشتی میں چھپا ہوا تھا، گرفتار کر لیا، بلکہ دہشت گردوں کے کچھ دوسرے ساتھیوں کو بھی بعد میں پکڑ لیا جو ان کے شریک کار تھے۔ اِس میں ہمارے لئے سبق یہ ہے کہ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد ہمارے ہاں ملزم فرار ہو جاتے ہیں اور عمومی طور پر پکڑے نہیں جاتے۔ امریکہ میں ملزموں کی گرفتاری سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انہیں معاشرے میں چھپنے کا موقعہ نہ مل سکا، ہمیں اس پہلو کا بھی جائزہ لینا ہے۔ بہرحال پاک فوج کے سربراہ کے خیالات خوش آئند ہیں اور انہوں نے اپنی بہادر قوم کو جس انداز میں خراج ِ تحسین پیش کیا ہے وہ بھی لائق تحسین ہے۔

مزید : اداریہ


loading...