ہم تبدےلی چاہتے ہیں

ہم تبدےلی چاہتے ہیں
ہم تبدےلی چاہتے ہیں

  


معروف کالم نگار حسن نثار سے جب جیو شان سے کے ایک پروگرام میں پوچھا گیا کہ وہ الطاف حسین اور عمران خان میں سے کس کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تو ان کا جواب بڑا شاندار تھا کہ الطاف جمع عمران برابر پاکستان، اس وقت اس جواب کی سمجھ اور طرح سے آئی تھی ، اب اور طرح سے آرہی ہے!

الطا ف اور عمران نے انتخابات میں دھاندلی کے ایشو کو جس طرح سے کراچی کے حلقہ این اے 250تک محدود کرلیا اس پر خواجہ سعد رفیق یقینی طور پر بغلیں بجارہے ہوں گے، یعنی جو ایشو پورے ملک کا ایشو بننے جا رہا تھا اب محض ایک حلقے میں سرگرم دو پارٹیوں کے کارکنوں کا ایشو لگنے لگا ہے، ڈیفنس لاہور کے لالک جان چوک میں بیٹھے ہوﺅں کو کچھ نہ سوجھا سوائے اس کے کہ اپنے جھنڈے ڈنڈوں میں لپیٹ کر گھروں کو چلے جائیں!

کوئی مانے نہ مانے ہم تو کہیں گے کہ ساری کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب جیو ٹی وی کے الیکشن سیل کے سیٹ پر بیٹھے ہوئے حامد میر نے حلقہ 250میں جاری صورت حال پر لائیو تبصرہ شروع کیا، آغاز میں ان کے لب و لہجے سے لگتا تھا کہ ایم کیو ایم نے جان بوجھ کر پولنگ سٹاف کو بروقت پولنگ کے سامان سمیت پولنگ سٹیشنوں پر نہیں پہنچنے دیا لیکن بعد میں عقدہ کھلا کہ اس میں ایم کیو ایم کاکوئی ہاتھ تھا نہ پی ٹی آئی بلکہ سراسر الیکشن کمیشن کی نااہلی تھی ، تاہم گزشتہ رات جب حامد میر اسد عمر اور حیدر رضوی میں صلح کروانے کے لئے بے تاب تھے تو بھی ان کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ حامد میر کا مطلب پاکستان ہے!

عرض یہ کرنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں میڈیا کے ایک بڑے حصے نے نہ صرف انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہر ہ کیا بلکہ اپنے تبصروں میں بھی وہ جانبداری پر تلے رہے ہیں ، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج زہرہ شاہد ہم میں نہیں ہیں!

کشیدگی میں زہر ہوتا ہے، لہجوں کا زہر جب عمل کا روپ دھارتا ہے تو ہر طرف آگ پھنکارتا ہے ، کراچی میں ایسا ہی ہو رہا ہے، الطاف حسین بھی بیانات دے دے کر تھک چکے ہیں، ان کے کارکنوں کی بند مٹھیاں بھی کھلنے کو بے تاب ہیں، سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے، خاص طور پر ایسی سیاست میں جس کی اساس فرقہ بندی اور ذات برادری ہو، جہاں سرنگ نما نقطہ نظر ہو اور اپنے سوا کوئی اور برداشت نہ ہوتا ہو، ایم کیو ایم کراچی میں اپنے سوا کسی کو برداشت کرنے پر راضی نہیں، تحریک انصاف کے نوجوان اور خواتین امریکیوں کی نقل میں تبدیلی کے خواہاں ہیں ، حالانکہ جس کرپشن کے خلاف وہ سرگرم ہیں ، کلفٹن اور ڈیفنس میں اکثر بنگلے اور کوٹھیاں اسی کرپشن کا ثمر ہیں، پھر امریکہ میں لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے خلاف تبدیلی کی خواہش کی تھی ، Enronاوردیگر کارپوریشنوں میں جاری کرپشن کے خلاف تبدیلی کی خواہش نہ کی تھی ، لیکن ہمارے ہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے ، راقم جس انگریزی اخبار میں ملازمت کرتا ہے وہاں پر خاتون ریذیڈنٹ ایڈیٹر کی عمر ساٹھ کے قریب ہے، چیف رپورٹر کی عمر پچپن کے قریب ہے اور دیگر بزرگوں کی عمر ساٹھ سے اوپر ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام عمر رسیدہ افراد تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے کے گرویدہ ہیں ، انتخابات سے چارروز پیشتر ہم نے دفتری میٹنگ کے آغاز میں ہی یہ نکتہ میٹنگ میں رکھ دیا کہ اخبار کے چیف رپورٹر کو تبدیل کردیا جائے، ریذیڈنٹ ایڈیٹر کا ماتھا ٹھنکا، فوراً پوچھنے لگیں کہ کیوں، بتایا گیا کہ چیف رپورٹر نے رپورٹنگ سیکشن کے لئے جن کرسیوں کی خریداری کی تھی وہ انتہائی ناقص تھیں اور آج کوئی کرسی صحیح سلامت نہیں ہے، میڈم نے چلا کر کہا کہ اس میں چیف رپورٹر کا قصور نہیں کیونکہ یہ انتظامیہ کا معاملہ ہے، ہم نے پینترا بدلا کہ رپورٹنگ سیکشن میں کوئی کمپیوٹر ٹھیک کام نہیں کر رہا ہے اور چیف رپورٹر لکھ کر دینے کو تیار نہیں کہ کمپیوٹر تبدیل کئے جائیں، میڈم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ یہ معاملہ ہیڈ آفس کا ہے ، چیف رپورٹر کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، ہم نے اس کے باوجود آواز میں وزن پیدا کرکے کہا کہ میڈم آپ چیف رپورٹر کو تبدیل کردیں، جونہی انہوں نے کہا کیوں کردوں ، ہم نے فوراً جواب دیا کہ میڈم We want change، اس پر پوری میٹنگ جو لمحہ پہلے تک سکتے میں تھی بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑی، یہی نہیں ہم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ساٹھ کے اردگرد تمام سٹاف کو فارغ کردیا جائے اور ان کی جگہ Lumsکے نوجوانوں کو رکھا جائے جو سستے بھی ہوں گے اور انگریزی اور اکانومی کو بھی بہتر انداز میں سمجھتے ہوں گے ، لیکن ہمارے اس مطالبے کو بھی ہنسی میں اڑادیا گیا، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ changeایک انتہائی painfulیعنی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ، یہ پراسس جس قسم کی قربانی مانگتا ہے کیا ہمارے لوگ اس کے لئے تیار ہیں!

مزید : کالم


loading...