رہ نما رستے کی طرف دیکھیں !

رہ نما رستے کی طرف دیکھیں !
رہ نما رستے کی طرف دیکھیں !

  


یہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی سے ایوان وزیراعلیٰ میں ظہرانے پرہونے والی ون آن ون گپ شپ تھی ، میں نے انہیں سب سے پہلے پنجاب بھر میں انتخابات کے پرا من انعقاد پر مبارک باد دی اور کہا کہ اب سیاسی جماعتوں کوآگے کی طرف دیکھنا چاہئے جہاں بہت سارے مسائل کسی عفریت کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں۔لاہور کے انتخابی معرکوں اوردھاندلی کے الزامات پر بھی تفصیل سے بات ہوئی اور اس پر تو میرا پوائنٹ آف ویو پہلے ہی بہت واضح ہے کہ اگر ہمارے معاشرے میں موجودہ بیوروکریسی چاہے وہ عدلیہ سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتی ہو،اس کے ذریعے ان سے بہتر انتخابات کے انعقاد کا فی الحال سوچا بھی نہیں جا سکتا، ہاں، آپ جمہوریت کو چلاتے رہیں، انتخابی عمل کو بار باردہراتے رہیں، خامیوں کا مشاہدہ کرتے اورانہیں دور کرتے رہیں۔ میں نے بلاخوف تردید کہا کہ اگر آپ لاہور کی بات کرتے ہیں تو یہاں دھاندلی کی صلاحیتیں اور مواقع مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف ،د ونوں جماعتوں کے امیدواروں اور کارکنوں کے پاس مساوی رہے بلکہ دھاندلی کے خلاف شور مچانے والے پی ٹی آئی کے کارکن پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ہی نہیں بلکہ اندر بھی موجود تھے، وہ نواز لیگ کے متوالوں کے مقابلے میں تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ زیادہ کمٹڈ اور زیادہ چارجڈ نظر آ رہے تھے۔

صدر مملکت لاہور تشریف لائے ہیں تو انہوں نے یہاں سیفما اور پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں کے ساتھ بات چیت میں انتخابات میں دھاندلی اور ریٹرننگ افسران کے مبینہ جانبدار روئیے کا سوال اٹھا دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی قومی اور بین الاقوامی اداروں کی سازشوں کا شکار ہوئی، محترم رسول بخش رئیس نے تبصرے میں جناب آصف علی زرداری کی اس رائے کو وزنی قرار دیا کہ ایران کے ساتھ گیس کے معاہدے کی وجہ سے امریکہ پیپلزپارٹی سے ناراض ہو گیا۔ مجھے یہاں نہایت ادب کے ساتھ عرض کرنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایرانی حکومت کے ساتھ گیس کی خریداری کا میری نظر میں قابل اعتراض معاہدہ اپنے دور کے آخری دنوں میں کیا، پیپلزپارٹی اس وقت بجلی اور گیس کے بدترین بحران کی وجہ سے عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کررہی تھی مگر یہ بات طے تھی کہ اس معاہدے کے بعد اور الیکشن سے پہلے پاکستان میں توانائی کے بحران میں کسی قسم کی کمی واقع نہیںہوگی، اگر پیپلزپارٹی کے قائد واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں یہ معاہدہ کرتے ہوئے امریکہ کو ناراض کر دیا اوراس نے ان کی پارٹی انتخابات میں ہروا دی تو انہیں یہ معاہدہ چار ، ساڑھے چار سال پہلے کر لینا چاہیے تھا تاکہ وہ توانائی کے بحران کا خاتمہ کر کے عوامی حمایت حاصل کر لیتے اور آہستہ آہستہ امریکہ کی ناراضی بھی دور کرلیتے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کسی بھی مشین کے خراب ہونے کی صورت میں جب تک آپ اس کے اصل خراب پرزے تک نہیں پہنچیں گے، مشین کو دوبارہ استعمال کے قابل نہیں بنا سکیں گے۔ پیپلزپارٹی کے ووٹوں والی مشین قومی او ربین الاقوامی اداروں کے اوپر گرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی آئیڈیالوجی اور پرفارمنس کے اندرونی میکانزم کے جواب دینے کی وجہ سے خراب ہوئی ہے۔ بھٹو خاندان کے پارٹی سے رخصت ہونے کے بعد اس کے بدن میں غریب ووٹر ہی لہو بن کے دوڑ سکتے تھے مگرلوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کی بجائے صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے متنازعہ اور مشکوک پروگرام سے ملنے والے ماہانہ ہزار ، دو ہزار روپے ان کے مسائل حل نہیں کر سکے۔ آپ نے پارٹی رحمان ملک، فردوس عاشق اعوان، میاں منظور وٹو، مخدوم احمد محمودجیسے رہنماو¿ں کے حوالے کر دی جن کا جیالوں سے کوئی رشتہ اور کوئی تعلق نہیں تھا ایسے میں اگر پیپلزپارٹی کے حقیقی ووٹر اس میں ٹھہرے رہتے تو یہ حیرت کی بات ہوتی۔پیپلزپارٹی کے قائد کو زمینی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے، وہ ایوان صدر کی قید سے آزاد ہوتے اور لاہور میں ڈیرے ڈالتے ہیں تو لاہور انہیں خوش آمدید کہے گا کہ یہ سیاسی وژن اور جذبہ رکھنے والوں کا شہر ہے مگر سوال یہ ہے کہ پورے شہر میں ان کی جماعت نے سوالاکھ ووٹ لیا ہے۔ سوا لاکھ جیالے تو اب بھی اس شہر میں ان کے ساتھ ہیں مگر ان کے پریشان حال ووٹروںنے اپنے لئے نواز شریف یا عمران خان کی صورت میں نیا لیڈر ڈھونڈ لیا ہے اور اس ووٹر کو ان کے مضبوط جال سے نکال کر واپس لانا کوئی آسان کام نہیں۔

بہرحال بات نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے کی ہوئی باتوںکے حوالے سے ہو رہی تھی اور میں نے وہاں بھی ریٹرننگ افسران سمیت دیگر ایشوز کو حل کرنے بارے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہر ضلعے میں تمام تین یا چار متحرک سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے تھی جس کی سربراہی متعلقہ ڈی سی او کرتا، وہاں جس جماعت یا جس امیدوار پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام ہوتا، کسی افسر کی جانبداری کا سوال اٹھایا جانا ہوتا یا ریٹرننگ افسران کی تقرری کا ایشو ہوتا، معاملہ اس کمیٹی میں پیش ہوتا اور باہمی اتفاق رائے یا دو تہائی اکثریت سے اس پر فیصلے کر لئے جاتے۔ ملک میں مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 272 حلقوں میں انتخاب ہوتا ہے اور یہ کوئی بڑا ایشو نہیں کہ ریٹرننگ افسران کے ناموں پر بھی متعلقہ اضلاع میں اتفاق رائے ہوجائے مگر یہ بہتری تب ہی ہو سکتی ہے جب جمہوری عمل چلتا رہے، سننے میں آ رہا ہے کہ جناب آصف علی زرداری نے عمران خان صاحب کی ٹیلی فونک عیادت کی ہے ، اس ٹیلی فونک عیاد ت میں تیر اور بلے نے مل کر دھاندلی کی پٹائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اب تیر اور بلے کے اشتراک کو پی ٹی آئی کے کارکن کیسے لیتے ہیں ، یہ ایک الگ موضوع ہے مگر ایشو تویہ ہے کہ دھاندلی کی پٹائی کرتے کرتے یہ لوگ جمہوریت کی پٹائی نہ کردیں، اس کی ٹانگ ہی توڑ دیں، اس کا سر ہی نہ کھول دیںکیونکہ سیاسی افواہ بازوں کے مطابق عمران خان نئی جمہوری حکومت کو دوسے اڑھائی سال سے زیادہ برداشت نہیں کر پائیں گے، دھاندلی کا شو ر مچا کے آنے والے کل کی بنیاد تو نہیںر کھی جا رہی ؟

ملاقات میں میرے سامنے قومی اسمبلی کا حلقہ 125 تھا جہاں تحریک انصاف نے اس وقت تک احتجاجی کیمپ لگائے رکھا جب تک ڈیفنس کے رہائشیوں اور مسلم لیگ نون کے کارکنوں سے باقاعدہ لڑائی نہیں ہو گئی۔ مختلف ٹی وی پروگراموں میں حامد خان دھاندلی کے حوالے سے ” میڈیا ٹرائیل“میں سعد رفیق کے سامنے کوئی اچھی پرفارمنس نہیں دے سکے ۔ یہ ڈیفنس جیسے پوش علاقے پر مشتمل حلقہ سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیفنس، عسکری اور کینٹ کے کچھ علاقے کے ا س حلقے میں صرف اٹھارہ فیصد ووٹرز ہیں، باقی بیاسی فیصد ووٹرز کچی آبادیوں اور دیہات میں رہتے ہیں جیسا کہ امرسدھو اور پیکجز کے علاقے کی صرف تین یونین کونسلوں میں نوے ہزار ووٹررجسٹرڈ ہیں۔ تحریک انصاف نے عملی طور پر خود کو پوش علاقوں یا خوش خیالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑھے لکھے لوگوں کی نمائندہ جماعت ثابت کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار جن علاقوں سے پانچ ، سات ہزار کی اکثریت سے جیتے ہیں، وہ کھاتے پیتے لوگوں کے علاقے ہیں مگر جیسے ہی آپ باگڑیاں، ہربنس پورہ اور شاہدرہ جیسے علاقوں میں جاتے ہیں، وہاں آپ کو مسلم لیگ نون کے امیدوار ، پی ٹی آئی والوں سے دوگنے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر انہیں ہراتے دکھائی دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافے کے لئے ڈاکٹر یاسمین راشد کے حلقے کے ان باون ہزار ووٹو ں کو بنیاد بنانا چاہیے جو وہ میاں نواز شریف کے مقابلے میں لینے میں کامیاب رہیں، تحریک انصاف نے لاہور جیسے سیاست کے مرکزشہر میں مسلم لیگ نون کے مقابلے میں مضبوط امیدوار اور ان امیدواروںسے کہیں زیادہ مضبوط ووٹر اور سپورٹر پیدا کر لئے ہیںجو اسے جلد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میںبہت فائدہ دے سکتے ہیں۔ میرا کہنا تو یہی ہے کہ تحریک انصاف ہی نہیں، پیپلزپارٹی کو بھی دھاندلی کے الزامات سے باہر نکل کے آگے دیکھنا چاہئے، کہیں الزامات کی اس دھند میںہمارے رہ نما اصل راستہ ہی نہ کھو دیں جو کارکردگی کا راستہ ہے، وہ راستہ جس پر چلنے کے لئے پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں پہلا تو اسی طرح پیپلزپارٹی کو سندھ میں شائد آخری موقع دیا ہے ۔۔۔ سو پیارے لیڈرو، جھگڑے کا کمبل چھوڑو اوراپنی کارکردگی سے ثابت کر دو کہ تم عوام کی خدمت اور مسائل حل کرنے میں دوسروں سے بہتر ہو !!!

مزید : کالم


loading...