شریف برادران کی توجہ کا منتظر جھنگ

شریف برادران کی توجہ کا منتظر جھنگ
شریف برادران کی توجہ کا منتظر جھنگ

  

چند روز پہلے کی بات ہے کہ مَیں نے جھنگ کا سفر کیا۔ لاہور سے صبح7بجے مَیں نکلی کچھ خواتین کو ساہیوال سے ساتھ لینا تھا، ساہیوال تک سفر قدرتی نظارے اور لہلہاتے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے گزر رہا تھا کہ اچانک فون کی بیل آئی اور وہ خواتین جو میرے ساتھ جھنگ تک ہم سفر بننا چاہ رہی تھیں وہ موٹر وے کے آخری حصے پر میرے انتظار میں کھڑی تھیں۔ مَیں نے کہا صرف دو منٹ کا فاصلہ ہے، مَیں پہنچ رہی ہوں، فون بند کیا اِس فون نے میرے سر سبز نظاروں کا تسلسل تو توڑا، مگر پھر وہی نظارے میری آنکھوں میں سمانے لگے، اچانک میری نظر سڑک پر کھڑی گاڑی پر پڑی یہی وہ جگہ تھی جہاں مجھے رُکنا تھا، دوست خواتین سے ملاقات ہوئی اور وہ بھی ہمارے ساتھ ہمسفر بن گئیں۔ جھنگ میرا پہلا وزٹ تھا۔ جھنگ کے بارے میں جو علم نہیں تھا، مَیں نے ان خواتین سے پوچھا، بات چھڑ گئی ان دوست خواتین نے جھنگ کی داستانیں سنانی شروع کر دیں۔ مَیں یہ سب سُن کر حیران ہو رہی تھی کہ یہ دوست مسلم لیگ(ن) کی شیدائی کیسے بن گئیں۔ شریف برادران کی تعریف شروع کر دی جو کہ پورے سفر میں ختم ہی نہ ہونے پا رہی تھی، شریف برادران کے لئے جو وہ الفاظ بول رہی تھیں وہ قابل تعریف بھی تھے اور قابل ِ رشک بھی، سب سے زیادہ وہ خوش تھیں جو وہ دریا کے اوپر برج بننا شروع ہوا ہے کیونکہ وہاں کے عوام کشتیوں میں سفر کرتے ہیں کشتیوں کے ڈوبنے سے کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور مالی نقصان بھی غریب عوام کو بھگتنا پڑا۔ ان لوگوں کے حوصلے کتنے بلند ہیں کہ کئی برسوں سے وہ یہ سب برداشت کر رہے ہیں، مگر شریف برادران کا یہ کارنامہ دیکھ کر اُن کے چہروں پر خوشی کی لہر گردش کرنے لگی، نہ ختم ہونے والے شریف برادران کی تعریفوں کے قصے دوست سُنا رہی تھیں،کہنے لگیں ایک تو کاروبار بہتر ہو رہا ہے، دوسرا یہ کہ اس شہر کی طرف کسی نے کبھی توجہ نہیں دی۔

 اس شہر اور گاﺅں کے لوگوں کا ماضی دیکھیں کہ ملک میں قابل ترین لوگوں سے جڑا ہوا ہے جیسا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو لے لیں جنہوں نے نوبل انعام حاصل کر کے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ پھر عابدہ حسین اور فیصل صالح حیات نے جھنگ کا نام سیاست میں بہت روشن کیا اس سے آگے چلیں تو شاعروں میں جعفر طاہر، شیر افضل جعفری اور مجید امجد بہت مشہور ہوئے۔ فیصل صالح حیات اورسیدہ عابدہ حسین نے اپنے شہر کی طرف توجہ نہیں دی، نہ کوئی وہاں یونیورسٹی ہے اور نہ کوئی اے لیول کی کلاسز کا تعلیمی ادارہ۔ یہاں پر ہیر رانجھا کا قصہ مشہور ہے اور ہیر کا مزار جھنگ میں ہے اور پھر وہ یہ بتانے لگیں کہ کئی سال یہاں پر پیپلزپارٹی کی حکومت رہی۔ انہوں نے اس شہر کو ترقی دینے کا سوچا ہی نہیں، باقی سیاست دانوں کو ہم کیا کریں ہمیں تو شریف برادران نے سب سے بڑی خوشی یہ دی کہ ساہیوال سے فیصل آباد کا راستہ منٹوں میں طے ہونے کا انتظام کروا دیا وہ بھی دریا پر پُل بنا کر۔ یہاں پر کئی قابل لوگ ڈوب کر جہاں سے رخصت ہو گئے ہیں۔ مَیں نے پوچھا کہ جھنگ کو بھی اس پُل کی سہولت ہو گی؟ کہنے لگیں کیوں نہیں، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ کے لوگ لاہور سے ہو کر اسلام آباد جاتے تھے اب سب ساہیوال سے فیصل آباد جایا کریں گے اور وہاں سے اسلام آباد اس سے تین گھنٹے کا سفر کم ہو گا۔

 جھنگ تقریباً 20منٹ کے بعد آنے والا تھا، میری نظر لیفٹ سائیڈ پر پڑی تو کئی مربع زمین مجھے خالی نظر آئی۔ مَیں نے پوچھا یہ کس کی زمین ہے، بولیں کہ یہ گولڑہ شریف والوں کی زمین ہے، زمین دیکھ کر مَیں حیران تھی کہ زرخیز زمین بے کار کیوں پڑی ہے۔ گولڑہ شریف والوں کو چاہئے کہ یہاں ہسپتال، تعلیمی ادارے بنا کر جھنگ کے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔ جھنگ کا سفر دو منٹ بعد ختم ہونے والا تھا، جن کے ہم مہمان تھے اُن کی طرف ایک گائیڈ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ہم نے وہاں پہنچ کر اُسے فالو کیا اور اُس مقام پر پہنچ گئیں جہاں خواتین ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ میرے لئے لوگ اجنبی تھے، شہر کی ہسٹری تو معلوم تھی، مگر لوگوں سے آشنائی نہیں تھی، پُرجوش طریقے سے استقبال ہُوا، خواتین پھولوں کی پتیاں لے کر کھڑی تھیں، میوزک چل رہا تھا، ہال کو پھولوں کی خوشبو سے مہکایا ہُوا تھا۔ ڈاکٹر شافیہ پیش پیش تھیں اُن کے چہرے کی خوشی دیکھ کر مَیں نے اپنے آپ کو اجنبی نہ سمجھا۔ یوں لگا جیسے کئی برسوں سے یہ چہرے دیکھے ہوئے ہیں، شاندار استقبال ہُوا جھنگ کی خواتین سے تعارف کروایا گیا، کوئی بھی ایسی خاتون نہیں تھی جو تعریف کے قابل نہ ہوتی۔ ان میں ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، شاعرہ، بزنس وویمن جیسی ہستیاں تھیں۔

جھنگ کی خواتین کو دیکھ کر یوں لگا کہ یہاں پر بہت اعلیٰ یونیورسٹیاں ہوں گی، مگر افسوس یہ ہوا کہ یہاں تو کوئی یونیورسٹی ہے ہی نہیں، بچے دوسرے شہروں میں پڑھنے جاتے ہیں۔ تعلیم کا معیار تو اچھا ہوتا ہے، مگر جھنگ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی، یہاں کی خواتین بیک آواز ہو کر بول رہی تھیں کہ ہماری آواز شریف برادران تک پہنچا دیں ہم منتظر ہیں کہ دوسرے شہروں کی طرح ہمارے شہر جھنگ میں بھی یونیورسٹی اور کالج بنا دیں تاکہ ہمارے بچے اپنے شہر میں ہی تعلیم مکمل کر لیں۔کہنے لگیں کہ ہمیں شریف برادران پر مان ہے کہ وہ تعلیم پھیلا رہے ہیں اس لئے ہمیں امید ہے کہ ہمارے شہر پربھی اُن کی خاص نظر ہو گی۔مَیں ان خواتین کی باتیں سننے کے بعد اِس نتیجے پر پہنچی کہ واقعی شریف برادران کی جھنگ کے عوام کو ضرورت ہے کہ وہ ان کے لئے تعلیمی آسانیاں پیدا کریں۔

پروگرام اچھا ہوا، پُرتکلف کھانا دیا گیا، جھنگ کی خواتین کی میٹھی زبان اور قابلیت سے مَیں بہت متاثر ہوئی۔ مجھے لاہور واپس پہنچ کر ایک شادی میں شامل ہونا تھا اس لئے3بجے جھنگ سے لاہور واپسی کے لئے مَیں نکل آئی، چند لمحے ان خواتین کا استقبال میرے ذہن پر رہا لیکن اُس کے بعد مَیں سوچنے لگی کہ تمام ٹی وی چینل دیکھنے سے تو یوں لگتا ہے کہ شریف برادران کچھ کرتے نہیں ہیں، مگر جھنگ اور ساہیوال کے عوام کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ شریف برادران مخالفوں کے بھی ہیرو بن گئے ہیں۔ ترقی کے کام بول رہے ہیں۔ عوام اپنی سہولتیں دیکھ رہے ہیں۔ جمہوری حکومت اس وقت بھاگ دوڑ کر کے پاکستانی عوام کو خوشحال کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، مگر اپوزیشن اپنی کوشش کر رہی ہے کہ ہم حکومت کو گرا دیں۔

 مَیں اتنا کہوں گی اپوزیشن مضبوط ہے اور جہاں مضبوط اپوزیشن ہوتی ہے وہاں جمہوری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ مضبوط اپوزیشن نے میلے لگا کر جمہوری حکومت کو مزید مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ اگر جمہوری حکومت غلطیاں کرنا بھی چاہے تو مضبوط اپوزیشن کی وجہ سے وہ غلطیاں نہیں کر پاتی۔ جمہوری حکومت عوام کی طاقت ہوتی ہے، بہترین طریقہ یہ ہے کہ جمہوری حکومت کی کامیابی میں اپوزیشن اپنا رول ادا کرے، تنقید کرے اور غلط کاموں سے روکنے کی کوشش کرے، مگر جہاں ملک کی سلامتی اور بہتری نظر آئے وہاں خاموشی اختیار کرے یہی جمہوریت کے تقاضے ہیں۔ بہرحال جھنگ کا سفر ساہیوال تک دوست خواتین کے ساتھ یہی سوچتے سوچتے ختم ہوا، دوست خواتین کو ساہیوال ڈراپ کیا اور لاہور کے لئے اپنا سفر شروع ہو گیا، پھر وہی سر سبز نظارے کھیتوں کے، چری کی فصل کی بھینی بھینی خوشبو، کہیں گندم کٹ رہی ہے، کہیں تربوز کے ڈھیر، کہیں پھول بک رہے ہیں اور کہیں ٹریفک کے ہجوم نے گاڑی کی سپیڈ کم کر دی ہے۔ یہ سفر جھنگ سے لاہور چند گھنٹوں میں بغیر تھکاوٹ کے طے ہو گیا۔مَیں نے سوچا کہ ٹی وی دیکھنا بند کردوں تاکہ جمہوری حکومت کی عوام کی آواز سننے کسی نہ کسی شہر میں چلی جایا کروںاور براہ راست مشاہدے سے معلومات حاصل کروں۔

مزید : کالم