پرنٹ میڈیا بھی ہوشیار باش!

پرنٹ میڈیا بھی ہوشیار باش!
پرنٹ میڈیا بھی ہوشیار باش!

  

پرسوں (20مئی 2014ئ) آپ الیکٹرانک میڈیا پر وہ ہنگامہ تو دیکھ اور سن چکے ہوں گے،جس میں پیمرا (PEMRA) کے آدھے اراکین کا قبلہ مشرق کی طرف تھا اور آدھے کا مغرب کی طرف.... شام سے لے کر آدھی رات تک دونوں فریق ایک دوسرے کو جھٹلاتے رہے اور پھر جھٹلاتے جھٹلاتے صبح ہو گئی۔ہم نے 21مئی کو صبح جب اخبارات دیکھے تو اس میں بھی یہی جگالی کی ہوئی تھی کہ ایک فریق کے مطابق جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹر ٹینمنٹ کے لائسنس معطل کئے جا چکے تھے اور دوسرے کے مطابق کچھ بھی نہیں ہوا تھا اور فیصلہ 28مئی کو ہونے والا تھا.... 28مئی بھی کچھ دور نہیں:دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔

ہمارے ہاں نیوز چینلوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ حامد میر پر حملے تک تو سب ”ہندی چینی بھائی بھائی “ تھے، لیکن اس کے بعد ”حقائق“ کے دروازے کھلتے گئے۔ پہلے آئی ایس آئی اور اس کے ڈی جی کی تصویر اور 8گھنٹے تک مسلسل براہ راست اس نامور قومی ادارے کو رگیدنا اور بالواسطہ پاک فوج کو بدنام کرنا.... پھر آنسہ وینا ملک کی شادی پر شادی پر شادی کا ڈرامہ اور وہ بھی روائت سے ہٹ کر رات کو نہیں، دن کی روشنی میں نشر کرنا اور اس دھماچوکڑی میں اہل ِ بیت کی توہین اور پھر تین چار روز بعد ایک اور آنسہ شائستہ لودھی کی طرف سے معافی کی خواست گاری والی اشک شوئی.... اور ثم بعد جیو کہانی پر خلافت ِ عثمانیہ کے ڈرامے میں قرآنِ حکیم کی آیاتِ صریح کے مخالف حقائق دکھلانا اور دل آزاری والے مکالمے .... ان کے بعد پاکستان بھر میں جگہ جگہ جیو کی بندش کے مطالبے، جلسے، جلوس اور ریلیاں.... اور اس تمام پراسس کے دوران حکومت کا ٹس سے مس نہ ہونا!

وہ مخصوص صحافی جو ”جیو نیوز“ پر آکر ہر شب منڈلی لگایا کرتے تھے، سارے کے سارے منقار زیر ِ پر ہو گئے۔ ان کی جگہ دیگر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کی ایک دوسری کھیپ منظر عام پر آ گئی.... گویا رات کے بعد دن نکل آیا اور شب کی سیاہی کے بعد صبح کا دودھیا اجالا پھیل گیا۔.... اب یہی اجالا دوپہر بننے والا ہے۔

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

ٹی وی چینلوں کے اس جمعہ بازار کا بازار اس وقت مزید گرم ہوگیا جب مسلم لیگ(ن) کی اتھاہ خاموشی اور تحریک انصاف کی بے باک حق گوئی کھل کر ایک دوسرے کے مقابل آ گئے۔

اب قارئین کو28مئی کا انتظار ہو گا۔ معاملات سپریم کورٹ تک جا پہنچے ہیں اس لئے انتظار کیا جانا چاہئے۔ لیکن ایک بات جس کا مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ پیمرا (PEMRA) کی طرز پر ایک اور اتھارٹی کا قیام ہے جو شائد پاپ مرا (PAPMRA) کہلائے یعنی ”پاکستان پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی“۔ .... اس ”پاپمرا“ کے قیام پر ابھی تو محض قیاس ہی کیا جا سکتا ہے، لیکن ”پیمرا“ کے رول کے بارے میں بھی تو ابھی ماضی قریب تک صرف قیاس ہی کیا جا رہا تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس کے کتنے اراکین ہیں، اس کا منشور کیا ہے، اجلاس کب کب بلائے جاتے ہیں اور اس کے اختیارات کی حدود کیا ہیں۔ وہ تو جب وزارت دفاع کی جانب سے ”پیمرا“ کو ”سرکاری چٹھی“ بھیجی گئی کہ آئی ایس آئی Bashing کا جواب دیا جائے اور جیو نیوز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تو اس اتھارٹی کی پرتیں کھلیں۔

مجوزہ ”پاپمرا“ کا نام کچھ اور بھی رکھا جا سکتا ہے۔ مَیں نے تو ”پیمرا“ کے وزن اس اصطلاح کو وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا بھی ایک عرصے سے ایسی حرکات کر رہا ہے جو بعض اوقات بالواسطہ اور بعض اوقات براہ راست ہوتی ہیں۔.... مَیں یہاں قارئین کی خدمت میں ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔

بھارت میں انتخابات ہوئے۔ ان میں کانگریس کی الائیڈ جماعتوں (UPA) کو شکست ِ فاش کا سامنا ہوا اور ان کی جگہ بی جے پی ایک بے مثال کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ جب یہ بات بدیہی نظر آئی کہ بی جے پی بھاری مینڈیٹ سے جیت گئی ہے تو ہمارے وزیراعظم نے نریندر مودی صاحب کو مبارکباد دی اور نہ صرف یہ بلکہ ان کو ساتھ ہی پاکستان آنے کی دعوت بھی دے دی۔ مجھے معلوم نہیں یہ مشورہ ان کو سرتاج عزیز صاحب نے دیا تھا یاطارق فاطمی صاحب نے یا انہوں نے خود ہی آس لگا لی کہ گجرات والے مودی صاحب، دہلی آ کر اپنا چولا بدل لیں گے اور پاکستان کے حق میں لوہے سے موم بن جائیں گے۔.... اچھی ہمسائیگی اچھی چیز ہے۔ لیکن اچھی غیرت بھی بُری چیز نہیں ہوتی!

مَیں روزنامہ ”ڈان“ (DAWN) کا پرانا قاری ہوں۔.... جب فوج میں تھا تو ٹائم اور نیوز ویک میگزین کے علاوہ ”ڈان“ میرے دفتر میں باقاعدگی سے آتے تھے۔ اس روزنامے کی خبروں، تجزیوں اور کالموں کو دلچسپی سے پڑھا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ پرانے بادہ خوار اُٹھ گئے ہیں۔ نئی صراحی اور نئے بادہ و ساغر ہیں۔ اس لئے میرے جیسے مے نوش ”ھل من مزید“ کے طلب گار رہتے ہیں۔ دس بارہ برسوں سے دیکھ رہا ہوں کہ ڈان کا جھکاﺅ بھارت کی طرف پہلے سے زیادہ ہو چکا ہے (یا شائد مجھے لگ رہا ہے)۔ مثلاً گزشتہ اتوار (18مئی2014ئ) کا اخبار (لاہور ایڈیشن) سامنے ہے۔

اس میں صفحہ اول پر ایک ہی تصویر ہے اور وہ ہے جناب نریندر مودی کی!.... وہ کار کے بائیں دروازے کے باہر کھڑے ہیں۔ ان کے آگے ایک پولیس والا شائد ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو نزدیک آنے سے روک رہا ہے۔ سرخ گلاب کی پتیاں ونڈ سکرین پر بکھری ہوئی ہیں۔ گاڑی کی چھت بھی ان سرخ پتیوں سے ”نکو نک“ ہو رہی ہے اور خود مودی صاحب کا سارا سراپا برگ ہائے گلاب سے گویا لدا ہوا ہے۔ بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے وکٹری (V) کا نشانہ بنا کر ان کی مسکراہٹ، ان کی کِبر سَنی کو چھپانے کی بے سود کوشش کر رہی ہے۔

لیکن ہمیں نریندر مودی پسند ہوں یا ناپسند ہوں، بھارت کے سوا ارب لوگوں کے وہ پردھان منتری بن چکے ہیں۔ مَیں ڈان میں چھپنے والی اس تصویر پر دو پہلوﺅں سے تبصرہ کرنا چاہوں گا۔

ایک تو یہ کہ جب ہمارے وزیراعظم محمد نواز شریف گزشتہ برس بھاری مینڈیٹ سے الیکشنوں میں فتح یاب ہوئے تھے تو کیا کسی بھارتی انگریزی اخبار نے ان کی تصویر بھی صفحہ اول پر چھاپی تھی؟.... مجھے بھارتی روزنامے دیکھنے کا پرانا مرض ہے اور اب انٹرنیٹ کی سہولت نے تو اس مرض میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آپ جب چاہیں، کسی بھی اخبار کے سارے صفحے دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ بھارت کے کسی اخبار (مثلاً ہندو، ٹریبون، ٹائمز آف انڈیا، ایکسپریس، ارلی ٹائمز، انڈیا ٹو ڈے، دی ٹیلی گراف، زی نیوز وغیرہ) نے ہمارے نواز شریف کی ایسی ہی تصویر صفحہ اول پر شائع کی ہو۔ یہ خبر ہندوستانی اخباروں میں دو کالمی یا تین کالمی خبرکے ساتھ آخری (یا پہلے) صفحہ پر دوسری کئی تصاویر کے ساتھ شائع کی گئی تھی۔ اگر کسی قاری کو میری بات سے اتفاق نہ ہو تو ازراہِ کرم وہ مجھے کسی انڈین اخبار کا حوالہ بتائیں جس میں نواز شریف صاحب کی ”اکلوتی تصویر“ اسی طمطراق سے شائع کی گئی ہو کہ جس آن بان اور کروفر سے ہمارے ”ڈان“ نے مودی صاحب کی یہ تصویر لگائی ہے۔

دوسرے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ تصویر کسی اندرونی صفحے پر لگائی جا سکتی تھی اور اگر کسی اخبار والے کو ان سے زیادہ چاہت کا اظہا ہی مقصود تھا تو صفحہ ¿ آخر پر کسی جگہ اس کوFit کیا جا سکتا تھا۔

بھارت کے بارے میں ہمارے عوام میں دو طرح کے خیالات کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں۔.... ایک تو وہ ہیں جو مسئلہ کشمیر کے حل کو دونوں ممالک کے درمیان ”اچھی ہمسائیگی“ کا بیرو میٹر سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو اپنے تجارتی مفادات کی خاطر بھارت کو ”پسندیدہ ترین ملک“ قرار دینے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ ”امن کی آشا“ والے راگ کا انجام تو آپ نے دیکھ لیا۔ اس لئے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہمارے پرنٹ میڈیا کو کسی کاروباری مفاد کے لئے ریشہ خطمی نہیں ہونا چاہئے۔

 یہ میڈیا کی بیداری کا زمانہ ہے۔ ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے چلے جاتے ہیں! پرنٹ میڈیا کے اپنے ریگولیٹری ادارے بھی ہیں۔ ان کو اپنے اپنے اجلاس بلا کر جیو/جنگ حمایت اور مخالفت کی موجودہ لہر کے اس فال آﺅٹ کا جائزہ بھی لینا چاہئے جو کل کلاں پرنٹ میڈیا پر پڑ سکتا ہے۔.... کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ ادارے (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) وغیرہ) خود ہی اپنے اراکین کی ایک کمیٹی بنا دیں جو قومی اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے مواد کی چھان بین کیا کرے کہ وہ اخلاقی، مذہبی اور تہذیبی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں یا باٹم لائن کراس کر جاتے ہیں۔ ان اراکین کو مختلف اخبارات کی گروپ بندی کر کے ان کی Gleaning بانٹ دی جائے اور پھر ان کی ایگزیکٹو باڈی ماہانہ یا سہ ماہی اجلاس میں اس کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ پر غور کیا کرے اور اپنی ادارتی ٹیموں کو مناسب ہدایات اور مشورے دے کر خود احتسابی کی وہ مثال قائم کرے جس سے تغافل برتنے پر آج پاکستان کے نیوز چینلوں کے لئے ایک خانہ جنگی کا منظر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ویسے میرا خیال ہے ایسا بندوبست پہلے ہی موجود ہو گا۔ مجھے چونکہ اس پہلو کی خبر نہیں اس لئے لکھ رہا ہوں۔ اگر آل ریڈی یہ انتظام موجود ہو تو اس کو مزید فعال بنانے کی طرف توجہ کی جا سکتی ہے۔

مزید : کالم