میر شکیل کے دفاع میں

میر شکیل کے دفاع میں
میر شکیل کے دفاع میں

  

ان دنوں میر شکیل الرحمن (ایم ایس آر) اور ان کا میڈیا گروپ ایک مشکل سے دوچار ہے۔ابھی وہ ایک مسئلے سے باہر نہیں آئے تھے کہ دوسرے مسئلے نے آن دبوچا۔ان پر مسلسل تنقید ہو رہی ہے اور مَیں پوری دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ الزامات لگانے والے ان سے انصاف نہیں کررہے۔مَیں ان معاملات پر خاموش تھا، لیکن جب الزامات کا سلسلہ حد سے بڑھنے لگا تو میں ان کے دفاع میں آواز بلند کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔کم از کم گزشتہ بارہ سال سے میرا ایم ایس آر سے کوئی رابطہ نہیں ہے، لیکن میں ان کے معاملات کا بہت دلچسپی سے جائزہ لیتا رہا ہوں۔لیکن اس سے قبل ان سے دو عشرے سے زائد عرصے کا ذاتی اور پروفیشنل تعلق رہا ہے۔ یہ تعلق جان پہچان سے کچھ زیادہ اور باہمی اعتماد کا تھا۔ مَیں احتیاطاً اسے دوستی نہیں کہہ رہا،لیکن بہت مرتبہ انہوں نے مجھ سے اپنی فیملی اور ادارے کے معاملات میں غیر رسمی مشاورت کا نہ صرف اعزاز بخشا، بلکہ میرے مشوروں کو سو فیصد قبول بھی کیا۔مَیں نے ان کو جتنا سمجھا ہے ، اس کے مطابق میری ہمیشہ سے ان کے بارے میں ایک اچھی رائے رہی ہے اور ایک طویل عرصے سے ان سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مَیں اس رائے پر قائم ہوں۔ اس وقت جب وہ ”ڈس انفارمیشن“ کا شکار ہوئے ہیں تو مَیں ان کے بارے میں ”انفارمیشن“ اگر شیئر نہ کروں تو گناہ کا مرتکب ہوں گا، لیکن ان کے اور ان کے ادارے کے بارے میں بات کرنے سے پہلے مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جن دو واقعات کی بناءپر تنقید کی جارہی ہے ، وہ اصل میں کیا تھے اور ان میں ادارے کا کردار یا قصور کیا تھا؟

حامد میر پر قاتلانہ حملے کا افسوسناک واقعہ ہوا۔وہ ہسپتال پہنچ کر زخموں سے بے ہوش ہو گئے، جس کے بعد ان کے بھائی عامر میر نے جیو ٹی وی پر بہت جذباتی انداز میں یہ الزام لگا کرہنگامہ پیدا کردیا کہ حامد میر پہلے ہی یہ شبہ ظاہر کر چکے تھے کہ آئی ایس آئی ان کے خلاف کارروائی کر سکتی تھی اور اگر ایسا ہوا تو اس کے سربراہ کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ہر طرف حامد میر کے لئے ہمدردی کی فضاءتھی اور جیو ٹی وی اپنی ٹیم کے ایک اہم رکن پر حملے کی سٹوری کو فلیش کررہا تھا۔حملے کی تفصیلات یا ہمدردی کے پیغامات کو نمایاں نشر کرنے میں کوئی ہرج نہیں تھا، لیکن ہمدردی کی جذباتی فضاءمیں جیو کے نیوز ایڈیٹروں سے یہ سنگین غلطی ہوئی کہ وہ آئی ایس آئی پر الزامات کو اس کے سربراہ کی تصویر کے ساتھ بار بار دہراتے رہے اور یہ عمل کئی گھنٹے جاری رہا۔

فوج اور آئی ایس آئی جیسے اہم قومی اداروں پر الزام کا ٹی وی پر ذکر ہی نامناسب تھا اور مختصر طور پر الزام کی خبر کے ساتھ اتنا ہی وقت دے کر فوج کا موقف بھی برابر نشر ہونا چاہیے تھا۔عامر میر کی طرف سے الزامات کو اگر براہ راست ہی نشر کرنا تھا تو اس کے ساتھ پروگرام کنڈکٹ کرنے والے سٹاف ممبر یا نیوز ریڈر کی طرف سے وضاحت آنی ضروری تھی کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، اسے ادارے کا سرکاری موقف نہ سمجھا جائے۔بہرحال جوہونا تھا ہوگیا۔اصل میں اس وقت ساری صورت حال ادارے کے ارکان کے قابو میں آ چکی تھی جو اپنے ایک زخمی ساتھی کی حمایت کرتے ہوئے بھول گئے کہ ان کی طرف سے کتنی بڑی کوتاہی ہو رہی ہے۔جیو کی اعلیٰ انتظامیہ مسلسل توازن پیدا کرنے کی ہدایات دے رہی تھی، جسے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ایم ایس آر مالک یا نگران ضرور ہےں، لیکن کمپنی کے پریذیڈنٹ نہیں ہیں۔وہ صرف خاص خاص ہنگامی مواقع پر مداخلت کرتے ہیں، جس وقت ان کی مداخلت سے آئی ایس آئی کے خلاف یک طرفہ پراپیگنڈہ بند ہوا، اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔

ٹی وی کے مارننگ شوز بہت ہیں اور ٹھوس موضوعات بہت محدود ہیں، اس لئے ان کے اینکرز مقابلے کی دوڑ میں جدت پیدا کرنے کے لئے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے پر بھی اتر آتے ہیں۔موجودہ قابل اعتراض پروگرام سے پہلے بھی ایسی بہت سی حرکتیں شائستہ لودھی کے کھاتے میں موجود تھیں۔گھر بیٹھی خواتین کو متوجہ کرنے والے یہ پروگرام محض کاروباری حےثیت رکھتے ہیں اور غیر سیاسی ہونے کے سبب ان کے مواد پر انتظامیہ زیادہ توجہ نہیں دیتی۔میری ہمیشہ سے شائستہ لودھی کے بارے میں بہت بُری رائے رہی۔اب تنوع پیدا کرنے یا بزنس حاصل کرنے کے لئے وینا ملک جیسی عورت کی دوبارہ شادی کرنے کا ڈرامہ رچایا جو پہلے ہی سستی شہرت یا بدنامی حاصل کرنے کو بے چین رہتی ہے۔یہ عورت دل ہی دل میں خوش ہو رہی ہوگی کہ کس عزت کے مقام پر بٹھایا جا رہا ہے۔اس قوالی کو بیک گراﺅنڈ میں چلا کر مقدس ناموں کو وینا ملک اور اس کے خاوند کے چہروں پر فٹ کرنے کا ناپاک آئیڈیا کس کا تھا، اس کی ضرور تفتیش ہونی چاہیے۔شائستہ لودھی، وینا ملک اور اس کا خاوند یقیناً اس ناقابل معافی گستاخی کے براہ راست ملزم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں، لیکن جیو کی اعلیٰ انتظامیہ یا اس کے مالک کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ وہ یقینا اس حرکت سے بے خبر ہوں گے۔ہاں! تفتیش ضرور ہونی چاہیے۔ اگر اس بات کا ثبوت مل جائے کہ جیو ٹی وی کے سربراہ یا انتظامیہ کے کسی رکن نے یہ قوالی چلانے کی ہدایت دی ہے تو پھر بلاشک انہیں ضرور گرفت میں لایا جائے۔اس کے بغیر مارننگ شو کے قابل اعتراض پروگرام کے لئے میر شکیل الرحمان پر الزام دھرنا مناسب نہیں ہوگا۔

مَیں نے ایم ایس آر کے کام کرنے کے انداز کو قریب سے دیکھا ہے، جس میر صاحب کو مَیں جانتا ہوں وہ ایک اچھے اصول طریقے والے انسان ہیں۔ وہ ہمیشہ اچھے اور اچھوتے آئیڈیا کی تلاش میں رہتے ہیں۔میڈیا مارکیٹ میں پہل کرنے کا انہیں بہت شوق ہے، جس کا ثبوت جیو ٹی وی کا آغاز ہے۔اس گروپ کا یہ دعویٰ درست لگتا ہے کہ انہوں نے جنگ کے ذریعے سب سے پہلے اسلامی صفحے کا رواج ڈالا۔ ”عالم آن لائن“ کا مقبول مذہبی پروگرام بھی جیو نے شروع کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میر صاحب یا ان کے گروپ کی اعلیٰ انتظامیہ ان ہر دو واقعات میں قصور وار ہیں یا نہیں۔ اس کے لئے ایم ایس آر کے کام کرنے کے انداز کا جائزہ لینا ہوگا،جس کی چھاپ اعلیٰ انتظامیہ پر بھی ہے۔صحافیوں میں عام طورپر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ آزادی دراصل مالکان کے لئے ہے کارکن صحافیوں کے لئے نہیں، لیکن اس گروپ میں شامل صحافیوں کو اپنی رائے کا جس آزادی کے ساتھ اظہار کرنے کا جو موقع ملتا ہے وہ بہت کم اداروں میں میسر ہے۔

مجھے افتخار احمد صاحب کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ اس گروپ کے اہم ارکان ایک دوسرے سے انتہائی متضاد، نظریات کے حامل ہیں۔اس گروپ میں ہی یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ ایک ہی صفحے پر بہت سے کالم نگار ایک دوسرے کے مخالف لکھ رہے ہوتے ہیں۔میر صاحب کو بھی چھپنے کے بعد دوسرے ریڈرز کی طرح یہ اختلافی کالم پڑھنے کو ملتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔

آئی ایس آئی کے خلاف جیوٹی وی پر جو کچھ کہا گیا ، اس کا دوسرے محبان وطن کے ساتھ مجھے بھی گہرا دکھ ہوا۔میری سابقہ تحریریں پڑھنے والے گواہی دیں گے کہ مَیں سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کا پہلے بھی حامی تھے اور آج پہلے سے زیادہ حامی ہوں۔فوج اور آئی ایس آئی نے دہشت گردوں کے خلاف، جس طرح پاکستان کا دفاع کیا ہے، اس کے اعتراف میں مَیں نے بے شمار کالم لکھے ہیں۔شائستہ لودھی کے مارننگ شو سے میرے بھی مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔اس میں شریک سستی حرکتیں کرنے والی وینا ملک سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی نفرت کرتاہوں۔میرا موقف صرف یہ ہے کہ اگر کوئی قابل اعتراض واقعہ ہوتا ہے تو اس کا الزام صرف اس پر لگنا چاہیے جو اس کا مرتکب ہوا ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے پہلے انتظامیہ یا اس کے سربراہ کو موردالزام ٹھہرانے سے پرہیز کیا جائے۔

مزید : کالم