آلو ،کرکٹ اور ٹی وی ملازمین!

آلو ،کرکٹ اور ٹی وی ملازمین!
آلو ،کرکٹ اور ٹی وی ملازمین!

  

موضوعات کی توقلت نہیں، لیکن تقاضا تحریر کے تحت کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی ایک ہی مسئلہ پر مکمل بات کی جائے، لیکن آج ذرا تنہا چھوڑنے کو جی چاہتا ہے۔ جی! ہاں یہی من کی پسند ہے، تاہم تنہا چھوڑنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ ہم بھی وہ غلطی دہرائیں جو پہلے کی جائے اور پھر معافی مانگنا پڑے۔ہم پاسبان عقل کو بہرحال اتنا قریب ضرور رکھیں گے کہ کوئی گستاخی نہ ہونے پائے۔آج ہی ایک خبرنظر سے گزری کہ محترم وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آلو کے نرخ 47روپے فی کلو تک لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف موثر کارروائی کی ہدایت کی ہے جنہوں نے کولڈ سٹوریج کا سہارا لے کر آلو ذخیرہ کئے اور نرخ ستر روپے فی کلو تک پہنچا دیئے۔محترم وزیر خزانہ نے نوٹس لیا اور مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کے لئے ڈیوٹی فری آلو درآمد کرنے کی اجازت دے دی جو ہمسایہ ملک بھارت سے واہگہ کے راستے درآمد ہونے لگے۔اس سے مارکیٹ کے نرخ متاثر تو ہوئے، لیکن یہاں بھی ایک سے ایک بڑا کھلاڑی پڑا ہے۔پہلے تو بھارتی آلو ناقص قرار دیا گیا۔پھر حکومتی پالیسی ہی کے تحت سب سے پہلے یہ آلو چپس بنانے والی بڑی کمپنیوں کو فروخت کردیا گیا، اسی پر اکتفا نہ کیا گیا، بلکہ باقی آلو افغانستان کی طرف سمگل کر دیئے گئے جیسے خیبرپختونخوا جانے والا آٹا یا گندم کر دی جاتی ہے۔یوں کھلی مارکیٹ میں نرخوں پر کچھ زیادہ اثر نہ پڑا اور یہاں آلو بدستور 57سے 60روپے فی کلو بک رہے ہیں اور اسی قیمت کو 47روپے فی کلو تک لانے کا حکم دیا گیا ہے۔

جہاں تک آلو کا تعلق ہے تو اس کے نرخوں میں دوسری اشیاءکی طرح اتار چڑھاﺅ ضرور آتا ہے، لیکن اتنا چڑھاﺅ کہ آلو بھی عام آدمی کی قوت خرید سے کہیں اوپر چلا جائے۔پہلی بار ہوا ہے، اور اب آلو کے کاشتکار اپنے طور پر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر زبردستی قیمت کم کرنے کی کوشش کی تو آئندہ آلو کی کاشت ختم کر دی جائے گی۔یہ دھمکی دینے والے خود کو کاشتکاروں کا نمائندہ کہہ رہے ہیں، حالانکہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ اس مہنگائی کا فائدہ کاشتکار کو نہیں پہنچ رہا یہ تو درمیانی چکر باز حضرات ہیں جو دودھ کی بالائی کھانے کے عادی ہیں اور انہوں نے ہی کاشتکاروں سے تھوک کے حساب سے سستے داموں آلو خرید کر کولڈ سٹوریج میں ذخیرہ کیا ہے۔محترم وزیرخزانہ اس کا سدباب کریں تو کچھ ہو، ویسے اگر وہ محترم عابد شیر علی کی خدمات حاصل کرلیں تو یہ ذخیرہ اندوز آلو مارکیٹ میں لانے پر مجبور ہوں گے۔صرف عابد شیر علی ہی یہ جرات کرسکتے ہیں کہ کولڈ سٹوریج کی بجلی کے کنکشن بجلی چوری کے الزام میں کٹوا دیں، نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری، بجلی نہ ہوگی تو درجہ حرارت بڑھ جائے گا، آلو خراب ہوں گے، جنریٹر چلانا مہنگا کام ہے۔

آلو کا ذکر آیا تو ہمیں سابق وزیرخارجہ میاں خورشید محمود قصوری کے والد محترم سابق وزیرقانون میاں محمود علی قصوری بہت یاد آئے، جب کبھی بھی میاں محمود علی قصوری اپنے گھر پر کھانے کا اہتمام کرتے تو بلا مبالغہ آلو سے بنی تین چار ڈشیں تو ضرور ہوتی تھیں، وہ خود بھی آلو بڑے شوق سے کھاتے اور مہمانوں کو بھی کھلاتے تھے، اگرچہ وہ خود بھاری بھرکم تھے اور ماشاءاللہ آواز بھی بلند تھی کہ جب کبھی عدالت عالیہ میں دلائل دے رہے ہوتے تو ہائی کورٹ کے پورے احاطے میں آواز گونجتی تھی،آج اگر وہ ہوتے تو یقینا آلو کی قیمت کے حوالے سے عدالت کا رخ کرتے۔یہ فریضہ تو میاں خورشید قصوری بھی ادا کر سکتے ہیں کہ وہ بھی بیرسٹر ہیں۔

آلو کی بات اپنی جگہ، یہ دلچسپ کھیل تو اب وزیرخزانہ اور ذخیرہ اندوزوں کے درمیان جاری ہے۔دیکھیں کون میچ جیتتا ہے، لیکن جو کھیل کرکٹ کے میدان میں جاری ہے۔ اس نے جگ ہنسائی کا انتظام کر دیا ہے۔اس وقت کرکٹ بورڈ کی سربراہی کا مسئلہ سانپ اور سیڑھی کا کھیل بن گیا ہے۔ذکاءاشرف کو ہٹایا جاتا اور محترم نجم سیٹھی کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو وہ قذافی سٹیڈیم پہنچ کرنئے احکام جاری کرنا شروع کر دیتے ہیں۔عدلیہ ذکاءاشرف کو بحال کر دیتی ہے تو نجم سیٹھی کو آﺅٹ ہو کر ڈریسنگ روم میں جانا پڑتا ہے۔پھر وزیراعظم ان کی مدد کو آ جاتے ہیں۔ایک مرتبہ پھر ذکاءاشرف باﺅنسر کا شکار ہو کر باﺅنڈری پر کیچ ہو جاتے اور نجم سیٹھی پھر سے کرسی پر جلوہ افروز ہو کر نئے اقدامات شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے اس مرتبہ کوچوں کی تقرری، سلیکشن کمیٹی کا قیام اور معین خان پر دہری نوازش کر دی وہ بڑی پابندی سے قذافی سٹیڈیم دفتر جا کر معاملات کی نگرانی کررہے تھے کہ ایک مرتبہ پھر گگلی کو نہ سمجھ پائے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم سے پھر بولڈ ہو گئے اور چودھری ذکاءاشرف پھر وکٹ سنبھال کر کھڑے ہو گئے اور ڈبل کیا، بلکہ ٹرپل سنچری بنانے کا اعلان کردیا۔اس بار بھی انہوں نے اقتدار اعلیٰ(سرپرست اعلیٰ کرکٹ بورڈ) کو اطمینان دلانے کی کوشش کی اور کہا ”ذرا ہم پر بھی تو اعتماد کرکے دیکھو“.... لیکن یہ بھی کام نہ آیا اور وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ نے اپیل کر دی جس نے سماعت کے لئے منظور کرلی اور یوں چودھری ذکاءاشرف سانپ کے منہ تک آ گئے ہیں اور اب حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کا ہوگا۔نجم سیٹھی فاتحانہ انداز میں دفتر میں پھر داخل ہوں گے یا نہیں؟یہ سب ہوا، لیکن اس سے جو جگ ہنسائی ہو رہی ہے ، اس کی قیمت کا کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے۔

یہ تو ایسے دو معاملے ہیں جو عوام کو براہ راست متاثر کرنے کے علاوہ دنیا کی توجہ کے بھی حامل تھے، لیکن جو تماشہ میڈیا میں لگا اور جو کچھ اس میدان میں ہو رہا ہے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، اب تو گھر گھر جیو کی بات ہو رہی ہے، ہم نے اس حوالے سے اپنی فیڈریشن کے موقف کی پہلے بھی وضاحت کر دی تھی اور آج بھی اس پر قائم ہیں، لیکن دکھ اور تکلیف یہ ہے کہ بیلوں کی اس لڑائی میں گھاس کا نقصان ہوگیا ہے۔مزید افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس لڑائی نے میڈیا کو بہت بُری طرح تقسیم کر دیا ہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ صحافت کی جو آزادی ہمارے خون پسینے کی محنت سے حاصل ہوئی وہ کہیں لپیٹ ہی نہ دی جائے کہ ہم آج کل خود ہی آزادی صحافت اور اظہار کے نام پر اپنا ہی گلا گھونٹ رہے ہیں۔

واضح کیا تھا کہ ہماری فیڈریشن کے لئے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کوئی بھی چھوٹی یا بڑی غلطی کسی نہ کسی طرف سے ہٹ دھرمی یا غلط انتظامی اقدامات کی وجہ سے کارکنوں کے جان و مال کے خطرے کا باعث بن جاتی ہے، اگر کوئی ادارہ بند ہوگا تو یقینا یہ کارکنوں کا مسئلہ بنے گا، اگر کسی بھی ادارے (پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا) کی غلطی کو ادارے کی بندش تک لے جایا جائے گا تو بات مختلف ہوگی اگر اس غلطی کے مطابق ملکی قوانین کے تحت کوئی سزا ہو تو یہ دوسرا معاملہ ہے۔آج بھی ہم اسی صورت حال سے دوچار ہیں۔سب سے زیادہ دکھ خود کارکنوں کی تقسیم کا ہے اور اس سے بڑا صدمہ متاثرہ ادارے کے رویے کا ہے جو اپنی حمایت کے لئے غیرنمائندہ حضرات کو بھی نمائندہ بنا کر پیش کررہا ہے۔(کیا یہ انصاف ہے؟) اگر اتنا ہی ضروری تھا تو جن اشخاص نے انتخابات میں شکست کو قبول نہیں کیا اور متوازی تنظیم سازی کر لی ہے ان کو ان کے نام سے ہی یاد کیا جاتا تو بہتر تھا، بہرحال یہ اچھا نہیں اس سے مجموعی طور پر پوری صحافت کو نقصان ہوگا، اس حوالے سے ہمارے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ ہے، بہرحال کراچی اور لاہور میں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل امین یوسف اور صدر رانا عظیم کی قیادت میں سینئر حضرات نے جو موقف دیا وہی درست ہے۔

مزید : کالم