دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے

دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے
دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مجھے تو لگتا ہے کہ ہم اچھی خاصی ہڑبونگ کا شکار ہو چکے ہیں، کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے؟ کوئی اندر ہی اندر نجانے کیسے کیسے انتشار کے بیج بو رہا ہے۔ مملکت اور حکومت تو گویا کسی اور دیس چلی گئی ہیں سارے فیصلے، ساری ڈوریاں نجانے کون کر رہا ہے کون ہلا رہا ہے؟ قوموں کی زندگی میں ایشوز تو سامنے آتے ہی ہیں ،مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ حکومت یا مملکت اپنی اتھارٹی ان ایشوز کو حل کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے دوسروں کے پاس گروی رکھ دیں، بدقسمتی سے اسی وقت ایسا ہی ہو رہا ہے، کل یہ بات مجھے انتہائی حیران کن لگی کہ پیمرا کے پرائیویٹ ارکان نے اپنا اجلاس کر کے جیو چینل کو بند کرنے کا فیصلہ سنا دیا، اس کے تھوڑی ہی دیر بعد پیمرا کے ترجمان کا یہ بیان سامنے آیا کہ اجلاس غیر قانونی تھا، اس کے فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں۔مجھے یوں لگا جیسے پیمرا بھی ایک انتشار زدہ میونسپل کمیٹی ہو، جس کے ارکان اختیارات کے لئے آپس میں لڑ رہے ہوں، ملک کا اتنا اہم فورم اور اتنا حساس معاملہ.... دوسری طرف سنجیدگی کا یہ عالم کہ ہر کوئی پیمرا کے آئین کی اپنی تشریح کر رہا ہے، سارے معاملے میں ایک بات بالکل واضح تھی کہ جلد بازی کا عنصر پوری طرح غالب آیا ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے، کون کر رہا ہے، حکومت مداخلت کیوں نہیں کر رہی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت کی دو بڑی وزارتیں یعنی وزارت اطلاعات اور وزارت مذہبی امور معاملے کی سنگینی سے بے پروا کیوں ہیں، کیوں اپنا کردار ادا نہیں کر رہیں۔ کیا ایسے معاملات خودبخود ختم ہو جاتے ہیں، جو انہیں وقت دیا جا رہا ہے۔

اگر ہم الٹی فلم چلائیں تو احساس ہوتا ہے کہ کس قدر سلجھنے والے معاملات تھے جنہیں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ اب ان کا کوئی سرا ہی نہیں مل رہا۔ خود سمجھانے والوں کو اس بات پر تشویش ہونے لگی ہے کہ جو کانچ ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر بکھر گیا ہے، اسے اکٹھا کیسے کریں۔ آج پیمرا کے ارکان جس قدر بے تابی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اگر اس سے آدھی بے تابی بھی وہ اس وقت ظاہر کرتے جب حامدمیر پر حملے کے بعد جیو چینل آئی ایس آئی چیف پر مسلسل الزامات کی خبر چلا رہا تھا اور اسے فوری رکوا دیتے تو شاید وہ سب کچھ نہ ہوتا جو اب تک ہوا ہے اور ابھی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ حیرت ہے کہ اس وقت پیمرا کے ارکان بیدار نہیں تھے اور آج منقسم ہیں۔ اس اہم موقع پر ان کے اندر پیدا ہونے والا عدم اتفاق پیمرا ہی نہیں، بلکہ پوری قوم کو ایک گہرے انتشار میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ہم اگر انتہا پسندی کا شکار ہیں، تو خود ہمارے معاشرے میں بھی انتہاپسندی کی سوچ ہر جگہ پروان چڑھ چکی ہے۔ اگر حامد میر پر حملے کے بعد آئی ایس آئی پر الزامات کی بوچھاڑ انتہا پسندی تھی تو اس کے بعد چینل کو بند کرانے کی مہم بھی انتہا پسندی کے زمرے میں آتی ہے، کیا وجہ ہے کہ ہم کوئی درمیان کا راستہ نہیں نکالتے، ایک خبر کے بعد چینل کو بند کر دینا شاید دنیا میں کہیں نہ ہوا ہو، بہت سی منزلیں اور تلافی کے بہت سے دوسرے راستے بھی تو ہیں۔ انہیں استعمال کئے بغیر سب سے آخری سزا کیوں تجویز کی جائے؟ ایسا راستہ مسائل کو ختم نہیں کرتا بلکہ ان میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ اقتدار، اختیار اور شہرت کو حاصل کر لینا کوئی کمال نہیں، انہیں برقرار رکھنا اصل کام ہے، کل چند اینکرز ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہہ رہے تھے کہ صحافتی آزادی میں یوٹرن کا وقت آ گیا ہے، مجھے ان کے منہ سے یہ بات اس لئے اچھی لگی کہ صحافتی آزادی کو یو ٹرن تک لانے میں اینکرز کا بھی بڑا کردار ہے ۔ اگر انہیں اس بات کا احساس ہونے لگا ہے تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ آزادیءصحافت کے لئے پاکستان میں جس قدر قربانیاں دی گئیں ان کی مثال نہیں ملتی، مجھے اب بھی یقین ہے کہ صحافت پر قدغنیں لگائی گئیں تو اہل صحافت انہیں کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ حالیہ دنوں میں خود میڈیا ہاﺅسز نے آزادی صحافت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ بُغضِ مخالفت اور بُغض ِ مفادات نے جب بُغضِ معاویہ کی شکل اختیار کی تو بات اپنی ہی جڑیں کاٹنے تک جا پہنچی۔ مجھے تو اس موقع پر سلطان باہو کا ایک مصرعہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے:

دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے

سجناں وی مر جاناں

میڈیا ہاﺅسز کے مالکان کی مجبوریاں اور مخالفتیں اپنی جگہ، لیکن آزادی¿ صحافت اور آزادی¿ اظہار کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنا چاہئے، کیونکہ ان کے پیچھے صحافیوں کی ان گنت قربانیاں ہیں اور آج بھی وہ ان کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ میڈیا کے تقسیم ہونے سے جو ایک خلاءپیدا ہوا ہے، اس سے بہت سی قوتیں فائدہ اٹھانے کے در پے ہیں۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ میڈیا ہاﺅسز ضرور تقسیم ہوئے ہیں، لیکن صحافیوں میں اپنے نصب العین کے حوالے سے کوئی دراڑ پیدا نہیں ہو سکی۔ وہ آج بھی اس یک نکاتی ایجنڈے پر کاربند ہیں کہ آزادی¿ صحافت کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، تاہم مَیں اس خدشے میں ڈوبا ہوا ہوں کہ ریاست کے چوتھے ستون نے اگر اپنی نا اتفاقی سے ریاستی اداروں کو اپنے وجود پر مسلط کر لیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا؟ ازالے سے یاد آیا کہ خود میڈیا کو بھی اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا چاہئے۔ مادر پدر آزادی کا دنیا میں کوئی تصور ہی نہیں، یہاں اس آزادی سے فائدہ اٹھایا جاتا رہا، جس کا خمیازہ اب بھگتنا پڑ رہا ہے۔ صحافت کوئی بے لگام گھوڑا نہیں، بلکہ ایک منظم، مستعد اور باوقار شعبہ ہے جس کے ذریعے معاشرے میں جمہوریت، سچ اور حقوق کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ خود احتسابی کا طریقہ یہی ہے کہ اب تک ہونے والے واقعات سے سبق سیکھا جائے اور حتی الامکان یہ کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسی صورت حال پیدا نہ ہو کہ قومی اداروں اور متبرک ہستیوں کی عزت و تکریم پر حرف آئے۔ اس حوالے سے ایک مربوط اور مضبوط ضابطہ اخلاق کی اشد ضرورت ہے۔

کسی بھی باشعور پاکستانی کے لئے موجودہ صورت حال دل خوش کن نہیں۔ اسے تو یہ تک پتہ نہیں کہ اس ساری صورت حال میں اس کے پاس پانے اور کھونے کے لئے کیا ہے۔ دعوﺅں، احتجاجوں، دھرنوں اور ریلیوں کے شور میں اسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا۔ چنگاری شعلہ بنتی جا رہی ہے اور پانی ڈالنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا۔ حیران کن حد تک حکومت اور سیاسی جماعتیں کنارے پر جا کھڑی ہوئی ہیں۔ یوں لگتا ہے انہیں اس بات سے کوئی غرض ہی نہیں کہ دریا میں کیا ہو رہا ہے؟ ضروری تو نہیں حکومت صرف اسی مسئلے کو حل کرے جس میں براہ راست ادھر سے تیر چل رہے ہوں۔ حکومت کو ایسے تمام معاملات میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہئے، جن کا تعلق عوام اور قومی اداروں سے ہو۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر سڑکوں پر عدالتیں لگا کر سزائیں سنائی جاتی رہیں گی اور پیمرا جیسے ادارے، اراکین کے مفادات اور اختیارات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

مزید : کالم