غریب کو مہنگائی کے عذاب سے بچائیں

غریب کو مہنگائی کے عذاب سے بچائیں

پنجاب سے خیبر پختونخوا کی خریدی ہوئی گندم اپنے صوبے میں لے جانے کو پنجاب کی صوبائی حکومت کی طرف سے روکنے کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت کی شکایت منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت ایسے غیر قانونی اقدامات سے اجتناب برتے۔پنجاب حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مصطفےٰ رمدے سے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 28مئی کو عدالت کو بتائیں کہ پنجاب میں کے پی کے حکومت کی خریدی گئی گندم خیبر پختونخوا لے جانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں اشیائے ضرورت کی مہنگائی کے خلاف لیاقت بلوچ کیس کی سماعت کرنے والے سہ رکنی بنچ نے حکومت پنجاب کے علاوہ باقی تین صوبوں کی حکومتوں سے بھی عوام کو آٹے کے علاوہ باقی اشیائے ضرورت فراہم کرنے سے متعلق جواب طلب کرلیا ہے۔ جسٹس جوادایس خواجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ حکومت ہے اور نہ ہی حکومت چلانا چاہتی ہے، لیکن لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا ۔اکتالیس سال گزر گئے عام آدمی کو صرف تجاویز پر ٹرخایا جارہا ہے۔ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر چمن کے راستے گندم ، آٹا اور دوسرا اناج سرحد پار بھجوایا جا رہا ہے۔ غریب آدمی کیا کرے ، مرجائے۔ ترپالوں کے نیچے گوداموں میں گندم پڑی سٹر رہی ہے، چوہے گندم کھا رہے ہیں۔گندم اگر شجر ممنوعہ ہے تو صرف غریب آدمی کے لئے۔کیا غریب داتا دربار چلا جائے یا حکومت آٹا کھانے کو دے گی؟ حکومت نے جو کچھ کرنا ہے خود کرنا ہے۔ ہم قانون سازی نہیں کر سکتے۔ حکومت پنجاب کا اصرار ہے کہ اس کے اقدامات غریبوں کے لئے انقلابی ہیں۔ تو عدالت پوچھتی ہے کہ کیا پنجاب کے لوگ خوش حال ہو گئے ہیں؟ اگر وہاں کے لوگوں کو گندم اور آٹا کم نرخوں پر میسر ہے تو ہم کیس ان کی حد تک بند کر دیتے ہیں۔ ہم ڈائریکٹو جاری نہیں کریں گے، وفاق اور صوبے غریب لوگوں کی ضروریات زندگی کی چیزوں کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنائیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کو آئین کے آرٹیکلز 9۔14 اور 38پر عمل درآمد کرانا ہو گا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے عوام کو ان کے دوسرے بنیادی حقوق دینے کے علاوہ گندم اور دوسری اشیائے ضرورت مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کے لئے مسلسل زور دیا جارہا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ عوام کے مسائل اور تکالیف کا احساس کیا جائے۔ اگر ہمارے ملک میں ایک دو کروڑ لوگ ایسے ہیں جو اپنی روزمرہ زندگی میں کھانے پینے کی اشیاءپر اسراف کر سکتے ہیں ،جن کی رہائش اور لباس ہر چیز سے نمود و نمائش کا اظہار ہوتا ہے اور جن کے اہل خاندان کو ہر طرح کا عیش و آرام میسر ہے، تو پھر ملک کے باقی عام لوگوں کی کم از کم خوراک اور لباس جیسی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ملکی وسائل یقینا کسی طرح سے کم نہیں ہیں۔ یہ صرف غالب طبقات کی خود غرضی اور حکومتوں کی بدانتظامی اور بے حسی ہے جس سے وطن عزیز کے کروڑوں عوام کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ تعجب اس با ت پر ہے کہ جن مسائل کا احساس پوری شدت کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فاضل ججوں کو ہے ان کا احساس کرنے سے سیاسی حکمران اس قدر ناکام کیوں ہیں؟ جس ملک میں خوراک کی ہر چیز پیدا ہوتی ہے ، جس کے کسان اور مزدور محنتی اور جفاکش ہیں، جس کو خالق حقیقی نے معدنی وسائل سے مالا مال کررکھا ہے، جس کے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد دنیا کے ہر ملک سے بڑھ کر برف کے وسیع ترین ذخائر موجود ہیں جو ہمارے دریاﺅں کو پینے ، بجلی بنانے اور آبپاشی کے لئے وافر پانی مہیا کرتے ہیں،لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے حاکم بے پناہ ملکی وسائل اور 18 کروڑ باہمت عوام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک کو جنت نظیر بنانے میں بُری طرح ناکام ہیں۔

 جس ملک کے وسائل یورپ و افریقہ اور ایشیا کے ممالک میں بے مثال ہیں وہ ملک آج دنیا کے لئے ایک روشن مثال ہونے کے بجائے اس حال کو پہنچ چکا ہے کہ اس کا عام آدمی روٹی اور سستی اشیائے ضرورت کو ترستا ہے۔ اس کے سٹوروں میں غلہ اور اشیائے خوراک موجود ہونے کے باوجود علاقہ تھر کے سینکڑوں بچے بھوک اور بیماریوں سے مرجاتے ہیں۔ اس کی لاکھوں ٹن گندم سمگل ہوجاتی ہے اور غریب آدمی اپنی ضرورت کے لئے ترس رہا ہے۔ ہم اپنے جن منصوبوں کی وجہ سے تیزی سے اقتصادی ترقی کی طرف جارہے تھے۔ وہ منصوبہ بندی فنی اور ٹیکنکل مہارت شاید ہم سے چھین لی گئی یا اس کے سلسلے میں قوم کے حافظے سے سب کچھ نکل گیا۔ ہم پٹڑی سے ایسے اترے کہ پھر ہماری قومی ٹرین کچی اور دشوار گزار گھاٹیوں ہی میں بھٹکتی رہی پٹڑی پر نہ چڑھ سکی۔ منصوبہ بندی ، خوش انتظامی اور خوش سلیقگی معلوم نہیں ہماری کن خطاﺅں کی وجہ سے ہم سے چھین لی گئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ کن طاقتوں نے ہمارے حاکموں کو قومی تعمیر و ترقی کے مقاصد سے دور کردیا۔ کرپشن اور میگا کرپشن کے ایسے منظم اور محفوظ سسٹم بنا دیئے گئے کہ پوری قوم کی نظروں کے سامنے قوم کے اربوں کھربوں لوٹے جارہے ہیں۔ کمزور طبقات کی اقتدار کے ایوانونںمیں کوئی آواز ہے نہ کوئی عام آدمی کی زندگی کا احساس کرنے کو تیار ہے۔ ان حالات میں غنیمت ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے حد سے گزری ہوئی زیادتیوں کا نوٹس لیا جارہا ہے اور حکمرانوں کو ان کے فرائض کا احساس دلایا جارہا ہے۔

ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور دوسروں کے راستے میں روڑے اٹکانے کا کام بھی ہمارے حکمران ساتھ ہی ساتھ کررہے ہیں۔ وہ اس بات سے گویا بے خبر ہیں کہ یہ ملک ایک وحدت ہے۔ مکران کے ساحلوں سے لے کر لنڈی کوتل تک ہمارے سب عوام کا مستقبل ایک ہے۔ ہماری خوشیاں اور غم ایک ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ملک کے ایک حصے کے لوگ کسی وجہ سے پریشان ہوجائیں ، مشکلات بھگتیں، لیکن دوسرے حصوں کے لوگ مزے اڑاتے رہیں۔ ایک حصے کو تکلیف پہنچے گی تو پورے قومی جسد کو تکلیف پہنچے گی۔پنجاب نے آج تک دوسرے صوبوں کا حق کسی طرح مارا نہیں دوسرے کے لئے اپنے حصے سے دیا ہے۔ ہمیشہ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بات کسی طرح بھی انصاف اور دانائی کی بات نہیں کہ پنجاب کے کسی محکمے یا بیوروکریسی کی طرف سے خیبر پختونخوا کی پنجاب سے خریدی ہوئی گندم وہاں جانے سے روکی جائے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اگر یہ گندم خریدی ہے تو صوبے کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور اپنی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے خریدی ہوگی۔ اس کے بجائے کہ سپریم کورٹ کے ریمارکس کے مطابق ملکی گندم ترپالوں اور گوداموں میں پڑی سٹرتی رہے اور اسے چوہے کھائیں ، بہتر یہ ہے کہ اس کی جہاں ضرورت ہے وہاں پہنچ جائے۔

ہمارے منصوبہ سازوں اور حاکموں کو اقتصادیات کا یہ سادہ اور بنیادی اصول نہیں بھولنا چاہئے کہ ترقی اس چیز کا نام ہے کہ جو چیزیں جہاں پیدا ہوتی ہیں وہاں سے وہ باآسانی اور بلا روک ٹوک اس جگہ پہنچ جائیں جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ نندی پور کے بجلی گھر کے لئے باہر سے آنے والی مشینری کا تلخ تجربہ قوم کرچکی ہے کہ یہ مشینری اس کے اصل مقام پر بروقت پہنچنے کے بجائے کراچی پورٹ پر پڑی گلتی رہی اور اس بجلی گھر کی لاگت تین گنا تک پہنچ گئی۔جہاں تک اشیائے خوراک کے ذخیرہ کرنے کا تعلق ہے اس سلسلے میں ہم آج تک انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم ایک سے بڑھ کر ایک بلڈنگ اور میگا سٹرکچر تعمیر کررہے ہیں، لیکن سب سے پہلی ضرورت خوراک کو محفوظ کرنے کے لئے ملک میں مناسب گوداموں کا انتظام آج تک نہیں کرسکے۔ پچاس سال قبل کی طرح آج بھی ہماری لاکھوں ٹن گندم پلیٹ فارموں پر ترپالوں کے نیچے سڑ رہی ہے یا دیہات کے کچے سٹوروں میں چوہوں کی خوراک بن رہی ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو گلنے سڑنے سے محفوظ کرنے کے لئے ہمارے پاس کولڈ سٹوریج کے انتظامات نہیں ۔ ہر سال لگ بھگ ایک کھرب روپے کا اناج اور پھل سبزیاں غفلت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ امریکہ جیسے ممالک نے اپنے ہاں ڈیم تعمیر کرکے اور بڑے بڑے سٹورز اور کولڈ سٹوریج بنا کر جہاں اشیائے خوراک کی قیمتوں میں استحکام پیدا کیا ہے وہاں اپنے ہاں پیدا ہونے والے ایک ایک دانے کو محفوظ کرنے کا انتظام بھی کرلیا ہے۔ امریکیوں نے تاریخ سے یہ معلوم کیا کہ دنیا میں اگر کہیں طویل تر خشک سالی آئی ہے تو وہ حضرت یوسفؑ کے زمانے میں مصر کی قحط سالی تھی جو سات سال تک چلی۔ اس کے پیش نظر امریکہ نے اپنے شہریوں کے لئے پانی اور خوراک محفوظ کرنے کا انتظام اس طرح کیا ہے کہ اگر سات سال تک امریکہ میں (خدا نہ کرے) ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور بارش کی ایک بوند بھی نہ برسے تو پھر بھی امریکی قوم اسی معیار کے مطابق خوراک اورپانی کی سہولتیں حاصل کرتی رہے گی۔ ایک زندہ اور متحرک قوم کی طرح امریکی حکومتوں نے اپنے عوام اور اپنی آئندہ نسلوں کی بنیادی ضرورتوں کا تحفظ کیا ہے ، لیکن ہم بقول سپریم کورٹ 41سال سے عوام کو ٹر خا رہے ہیں ۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے قومی و ملکی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعدکہا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے تمام ادارے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ ان اداروں کو سرگرمی سے قومی مقاصد کے حصول کے لئے منزل کی جانب گامزن ہونا چاہئے۔ بیرون ملک رکھے گئے ہمارے سیاستدانوں کے اثاثوں کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کے نوٹس سیاست دانوں نے وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ جب ملک میں قانون ،آئین اور عدالت کو یہ اہمیت دی جائے گی، تو پھر سپریم کورٹ کی طرف سے بار بار عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے کی بات پر بھی کون کان دھرے گا؟

ضرورت حکمرانوں کی طرف سے اس حقیقت کو سمجھنے کی ہے کہ بیانات سے عوام کے دلوں کو اور بھی زیادہ دُکھ پہنچتا ہے، جن کے بچے آج بھوکے بیٹھے ہیں مستقبل کی باتیں بتانے سے انہیں کچھ غرض نہیں۔ بجلی کا پنکھا بند ہونے سے جو آج بے ہوش ہو رہے ہیں پانچ سال بعد آنے والی بجلی کی بات انہیں مطمئن نہیں کرتی۔ آئین اور قانون کے تقاضے پورے کرنے اور قوم کے مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والے بیانات عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات ہے۔

مزید : اداریہ