آٹا ،چینی ،پتی اور دالوں سمیت اشیاءخورد و نوش میں ملاوٹ عروج پر

آٹا ،چینی ،پتی اور دالوں سمیت اشیاءخورد و نوش میں ملاوٹ عروج پر

                                                  لاہور(اپنے نامہ نگار سے)ملک بھر میں کھانے پینے کی روزمرہ کی اشیاءمیں ملاوٹ عروج پر پہنچ گئی ہے آٹا،دالیں،چاول یہاں تک کہ پینے کے مشروبات اور مصالحہ جات میں بھی مضر صحت اشیاءملاوٹ کی جا رہی ہے اس ملاوٹ کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں یہ ہی وجہ سے کہ بے شمار ہسپتال ہونے کے باوجود مریضوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے اس کے علاوہ ان مضر صحت اور غیر توانائی بخش اشیاءکے استعمال کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل میں قوت مدافعت کی شدید کمی ہو کئی ہے مزید یہ کہ ان کے استعمال کی وجہ ملکی اوسط عمرمیںبھی بتدریج کمی آ رہی ہے ان خیالات کاظہار صوبائی دارالحکومت کے تاجروں اور شہریوں نے " پاکستان"سروے سے گفتگو کرتے ہوئے کیادکاندار محمد لیاقت نے بتایا کہ سب سے زیادہ ملاوٹ مرچوں میں ہوتی ہے منڈی سے گلی سڑی مرچیں عام مل جاتی ہیں ان کو کلر ڈال کر پیس لیا جاتا ہے اور روغنی مرچ کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے ان مرچوں کو بنانے کے لئے نجی سطح پر لوگوں نے چکیاں بنا رکھی ہیںاس کے علاوہ گندم کا چھلکا جسے عام زبان میں چوکر کہتے ہیں کو رنگ کر کے مرچوں میں ملا دیا جاتا ہے اور بیچا جاتا ہےشہری اعجاز منیر نے بتایا کہ آٹے میں کچھ ملیں روٹی کے سوکھے ٹکرے ملا کر بیچتی ہیںیہ ٹکرے بوسیدہ اورپھپھوندی زدہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیںاس آٹے سے بننے والی روٹی کالی بنتی ہے تاجر محمد رمضان نے بتایا کہ کھانے کاکھلا تیل جانوروں کی چربیسے تیار کیا جاتا ہے گھروں میں کھلی ہوئی بھٹیاں ان چربیوں کو پگھلا کر تیل تیار کرتی ہیںاس کے علاوہ چینی کی فیکٹریاں جانوروں کی ہڈیوں کو بطور کیلشیم چینی بنانے میں استعمال کرتی ہیںجو کہ صحیح نہیں محمد عامر نے بتایا کہ گرمی آتے ہی بازار میں جعلی اور مضر صحت مشروبات اور بوتلوں کی بھرمار ہو گئی ہے مارکیٹ میں برینڈ کی بوتل دکاندار کو انیس روپے تک ملتی ہے مگر جعلی بوتل چھ روپے کی دستیاب ہے دکاندار منافع کے لئے ان بوتلوں کو بیچ کر گاہکوں کی صحت سے کھیل رہے ہیںتاجر محمد وسیم نے بتایا کہ ماش کی دال میں اور مونگ کی دال میں فرق بتانا بہت مشکل ہوتا ہے جبکہ ان کی قیمت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے مونگ کی دال پچاس روپے جبکہ ماش کی دال ایک سو تیس روپے ہوتی ہے دکاندار موتھ کی دال ماش کی دال کہہ کر بیچ دیتے ہیںدکاندار محمد شاہد نے بتایا کہ بازار میں جوس جو لوکل کمپنیوں میں تیار ہوتے ہیں وہ تمام کے تمام حلوہ کدو سے بنتے ہیںان میں سینس کی ملاوٹ کر کے منہ مانگے داموں بیچا جاتا ہے مارکیٹ میں یہ جوس 350 روپے فی کارٹن ملتا ہے گاہک محمد حمزہ چوہدری نے بتایا کہ کھلی پتی میں لوگ کالے چنوں کے چھلکے رنگ کر کے ملا دیتے ہیں اس حوالے سے کے ٹو چائے بہت مشہور ہے اس میں رنگ ایسا ڈالا جاتا ہے کہ چائے کا رنگ بہت تیز آتا ہے اور صارفین اس کو بہترین سمجھ کر استعمال کرتے رہتے ہیں کالے چنے کے چھلکوں والی چائے کو عام زبان میں سوڑی کہا جاتا ہے تاجر علی نے کہا کہ باکر خانیاں اب بالکل بھی ٹھیک نہیں آ رہی ہیں ان کو لوگ گھروں میں بنا رہے ہیں اور اب یہ آٹے کی بنائی جا رہی ہیںاس کے علاوہ برینڈ والی کمپنیاں بھی اب ان کو بنانے کی بجائے لوکل مارکیٹ سے ان کو خرید کر بیچ رہی ہیںگاہک محمد عثمان نے کہا کہ کھلی نمکو جو کہ اصل میں بیسن کی ہونی چاہیے لیکن آٹے میں رنگ ڈال کر اس اسے بیسن کی شکل دے دی جاتی ہے اس کے علاوہ جس تیل میں اس کو تلا جاتا ہے وہ گاڑیوں میں استعمال شدہ موبل آئل کو ریفائن کیا ہوا تیل ہوتا ہے دکاندار عبدالرشید نے بتایا کہ مارکیٹ میں سگریٹ جعلی آ رہے ہیں یہ سگریٹ گھٹیا تمباکو سے بنائی جاتے ہیں جو کہ برینڈڈ کمپنیوں کے نام سے بیچے جاتے ہیں ان کا استعمال نہایت مضر صحت ہوتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1