روس کی شام کا معاملہ آئی سی سی کو بھیجنے پر ویٹو کی دھمکی

روس کی شام کا معاملہ آئی سی سی کو بھیجنے پر ویٹو کی دھمکی

ماسکو۔قاہرہ(ثناءنیوز) روس نے شام میں جاری خانہ جنگی کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی )کو بھیجنے کی مخالفت کردی ہے اور اس سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے۔روس کے نائب وزیرخارجہ گیناڈی گیٹلوف نے یہ اعلان فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد کا مسودہ پیش کیے جانے کے بعد کیا ہے۔اس مجوزہ قرارداد میں شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے ذمہ داروں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زوردیا گیا ہے۔روس پہلے بھی شام کا معاملہ آئی سی سی کو بھیجنے کی مخالفت کرچکا ہے اور اب نائب وزیرخارجہ گیٹلوف نے دوٹوک الفاظ میں اس سے متعلق قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے۔

مصری اور روسی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ''اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔اگر اس پر رائے شماری کا وقت آیا تو ہم اس کو ویٹو کردیں گے''۔واضح رہے کہ روس شامی صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حامی ہے اور وہ چین کے ساتھ مل کر اس سے پہلے بھی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کی گئی تین قرارداروں کو ویٹو کرچکا ہے۔ان قراردادوں میں بشارالاسد حکومت کی اپنے ہی عوام کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی اور شام کے خلاف پابندیوں کی دھمکی دی گئی تھی۔روس اور امریکا نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے جنیوا میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی کی ثالثی میں امن عمل کی حمایت کی تھی لیکن اب یوکرین بحران پر روس کے مغرب کے ساتھ تنازعے کی وجہ سے یہ امن عمل تعطل کا شکار ہوچکا ہے اور روس کی اب یوکرین کے علاقے کریمیا کو ضم کرنے اور وہاں فوجی مداخلت کے معاملے پر امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کے ساتھ محاذ آرائی جاری ہے۔

مزید : عالمی منظر