چین اور روس میں گیس پر معاہدہ نہ ہو سکا

چین اور روس میں گیس پر معاہدہ نہ ہو سکا

 شنگھائی (این این آئی)چین اور روس کے درمیان چار سو ارب ڈالر کے قدرتی گیس کے ایک منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے جب کہ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ملکوں کے سیاسی مفادات کے تناظر میں یہ معاہدہ طے ہو جائے گا۔میڈیارپورٹ کے مطابق شنگھائی کے دورے پر گئے ہوئے روسی صدر ولادیمر پوٹن اور ان کے چینی ہم منصب ڑی جنپنگ نے توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے 49 معاہدوں پر دستخط کیے۔ تاہم اس پر بات پر اتفاق نہ ہو سکا کہ آئندہ 30 سالوں میں چین روس سے حاصل ہونے والی گیس پر کتنی ادائیگی کرے گا۔مبصرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایک ایسے وقت جب روس یورپ سے باہر اپنی گیس فروخت کرنے کے لیے کوشاں ہے اور چین کوئلے کی بجائے اپنی توانائی کی ضروریات متبادل ذرائع پر منتقل کرنے کا سوچ رہا ہے، یہ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کو وہاں ایک ریفرنڈم کے بعد روس میں شامل کرنے کی وجہ سے ماسکو پر بعض پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

صدر پوٹن کے ایک ترجمان دمتری پسکوف کا کہنا تھا کہ روسی صدر کے دو روزہ دورے کے اختتام سے قبل یہ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ان کے بقول قابل ذکر پیش رفت ہو چکی ہے اور معاہدے پر کسی بھی وقت دستخط ہو سکتے ہیں۔چین کے صدر ژی جنپنگ کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے نہ ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات کا ایک دوسرے کے بین الاقوامی قد کاٹھ کو بڑھانے میں کلیدی کردار ہے۔

مزید : عالمی منظر