جیو کا معاملہ حل کرنے کا اختیار پیمرا کو ہے،پرویز رشید

جیو کا معاملہ حل کرنے کا اختیار پیمرا کو ہے،پرویز رشید
جیو کا معاملہ حل کرنے کا اختیار پیمرا کو ہے،پرویز رشید

  

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ فوج کے ہاتھ میں کسی سیاسی جماعت کا پرچم نہ تھمایا جائے ٗ میڈیا دفاعی ادارے کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کرنے والے ہاتھوں کو بے نقاب کرے ٗ پیمرا کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ٗ دبئی چھپ کر نہیں گیا تمام سٹیک ہولڈرز سے بات کرنا میرے ذمہ داری ہے ٗ مبشر لقمان کو اختیار نہیں کہ وہ قومی اداروں میں اختلافات پیدا کرے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزارت قانون میں جیو کے معاملے پر اپنی رائے پیمرا کو بھجوادی ہے ۔جیو کا معاملہ حل کرنے کا اختیار پیمرا کو ہے ۔پیمرا اتھارٹی نے اپنا نکتہ نظر دے دیاہے ہم پیمرا کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ۔انہوں نے کہاکہ میں حکم نامے جاری نہیں کرتا قانونی رائے لینے میں وقت لگتاہے کسی وزیر کو اختیار نہیں کہ دوسرے اداروں کو ہدایات دے ۔پیمرا کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے کمیشن بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بطور وزیر اطلاعات میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام میڈیا کے سٹیک ہولڈرز سے بات کروں ۔ اس سلسلے میں میں نے تمام ٹی وی چینلز کے مالکان سے بات کی ہے ۔ صرف ایک میڈیا گروپ ٹِکر چلاتا دکھاتا رہاہے کہ میں میر شکیل الرحمن سے ملنے دبئی گیا۔میں کسی سے چھپ کر دبئی نہیں گیا تھا۔مبشر لقمان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مبشر لقمان کون ہے ؟ کیا وہ کوئی میجر جنرل یا کرنل ہے کہ وہ بیٹھ کر رائے دیتاہے ۔فوج اور حکومت میں اختلافات کی باتیں کرتاہے ہم فوج کا احترام کرتے ہیں ۔کسی کو اختیار نہیں کہ وہ اداروں میں اختلافات پیدا کرے ۔ فوج کے ہاتھ میں کسی سیاسی جماعت کا پرچم نہ تھمایا جائے۔ آرمی کے ہاتھ میں پاکستان کا پرچم ہے۔انہوں نے کہاکہ جیو کے حوالے سے پیمرا اتھارٹی کے احکامات کو مانتے ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ کسی بھی ادارے کے معاملات میں مداخلت کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ شائستہ لودھی کی معافی کو بہت اہمیت دیتا ہوں ،ہمیں بھی اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے ۔ مہذب معاشرے میں معافی مانگنا ایک عہد ہوتاہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کفر کے فتوے سب سے زیادہ میرے خلاف لگے ہیں۔

مزید : قومی