وزیر اعلیٰ اور اعلیٰ حکام کے ٹارگٹ پر سی آئی اے سو فیصد نتائج دے رہی ہے محمد عمر ورک

وزیر اعلیٰ اور اعلیٰ حکام کے ٹارگٹ پر سی آئی اے سو فیصد نتائج دے رہی ہے محمد ...

                    لاہور (لیاقت کھرل) پنجاب پولیس کے ماہر تفتیشی افسر سی آئی اے لاہور کے سربراہ ایس ایس پی محمد عمر ورک نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں سی آئی اے سٹاف نہ ہو تو زندہ دلان لاہور کے دن کا سکون اور رات کا چین چھن جائے۔ شہریوں کی نیندیں حرام ہو جائیں اور ہر طرف ڈاکوﺅں کا راج ہو،پورے شہر کی پولیس کی کارکردگی ایک طرف اور سی آئی اے کی ایک طرف، وزیر اعلیٰ سے آئی جی اور سی سی پی او تک جس اعلیٰ افسر یا حکام بالا کی طرف سے جو بھی ٹارگٹ دیا جاتا ہے اس کے سو فیصد نتائج صرف سی آئی اے ہی دے رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ” پاکستان“ سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ محمد عمر ورک نے کہا کہ سی آئی اے پولیس نے ڈاکوﺅں ، راہزنوں اور خطرناک مجرموں کے بڑے بڑے نیٹ ورک کو توڑ کر انتہائی خطرناک ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، ممکنہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو بھی ناکام بنایا گیا ہے اور دہشت گردی کے منصوبوں سمیت دہشت گردی کے واقعات میں ملوث سمیت انتہائی خطرناک اور سفاک ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے پولیس جرائم کی روک تھام، جرائم پیشہ افراد، ڈاکوﺅں اور انتہائی خطرناک (ملک دشمن) ملزمان کی گرفتاری میں مکمل مہارت رکھتی ہے، جس کی زندہ مثال ہے کہ سی آئی اے پولیس نے لاہور میں ممکنہ دہشت گردی کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا کر خطرناک ملزمان کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ایک سوال پر محمد عمر ورک نے کہا کہ لاہور پولیس کے پاس وسائل کی کمی ضرور ہے لیکن اپنے پروفیشن میں مہارت کی کمی نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جس کے باعث پولیس کو وسائل میں کمی کا سامنا ہے، لیکن کم وسائل کے باوجود لاہور کی ایک کروڑ 68 لاکھ سے زائد آبادی کو لاہور پولیس مکمل احساس تحفظ کی فراہمی کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ لاہور پولیس نے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے ، بلکہ سی آئی اے پولیس کی کارکردگی کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس میں شہریوں کے بھی بے حد احسان مند اور ممنون ہیں کہ شہری سی آئی اے پولیس کی کارکردگی کو مکمل سراہتے ہیں، جس سے پولیس اور شہریوں کے درمیان باہمی تعلقات مضبوطی پکڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے پولیس نے وزیر اعلیٰ، آئی جی پولیس پنجاب اور سی سی پی او پولیس لاہور تک جس اعلیٰ افسر یا حکام بالا کی طرف سے جو بھی ٹاسک چلا ہے اس میں بھرپور انداز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے پولیس کا ہی خوف اور ڈر ہے کہ ڈاکو، راہزن اور خطرناک ملزمان خوف زدہ ہیں اور یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ زندہ دلان لاہور کے سکون اور چین میں بھی سی آئی اے پولیس کا ایک بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو یہ بات بھی کہنے میں فخر محسوس کروں گا کہ سی آئی اے پولیس نہ ہو تو ڈاکو ، راہزن اور خطرناک ملزمان شہریوں کا سکون اور چین بھی چھین لیں۔ اس سلسلے میں شہریوں کو مزید بڑھ چڑھ کر پولیس کے ساتھ تعاون اور ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں۔ اس سے کرائم کے خاتمے اور خطرناک ملزموں کی بیخ کنی میں مدد حاصل ہو سکتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کرائم فائٹرز پولیس اہلکار ان کی ٹیم کاحصہ جبکہ شہریوں کے ساتھ بلاوجہ زیادتی اور بوگس طریقہ سے شہریوں کو مقدمات میں الجھانے والے اہلکاروں کے خلاف احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ سی آئی اے پولیس کی پہلی ترجیح کریمنلز (ڈاکوﺅں) اور خطرناک ملزمان کا سراغ لگانا، دوسرا مرحلہ گرفتاری ، جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ ڈاکوﺅں اور راہزنوں کے ہاتھوں لٹنے والے شہریوں کے سامان کی برآمدگی کر کے ان کے حوالے کرنا ہے جس میں سی آئی اے پولیس اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔

 

مزید : علاقائی