پنجاب بینکوں کے کریڈٹ کارڈوں پر ہیکروں نے انٹر نیٹ کے ذریعے فراڈ شروع کر دیا

پنجاب بینکوں کے کریڈٹ کارڈوں پر ہیکروں نے انٹر نیٹ کے ذریعے فراڈ شروع کر دیا


لاہور (ملک خیا م رفیق) صو بائی دارالحکومت سمیت پنجا ب بھر میں مختلف بنکو ں کی جا نب سے عوام کی سہو لت کے لئے جا ری کیے جا نے والے کر یڈٹ کا رڈوں پرہیکر وں نے انٹر نیٹ کے ذریعے وسیع پیما نے پر فرا ڈ شروع کر دیا اور لوگوں کے علم میں لا ئے بغیر لا کھوں کی خر یداری کر ڈالی ہے۔دیپالپور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سائبر کرائمز کے ذریعے لوٹ مار کا انکشاف ہوا یونائٹڈ بینک اور بی آئی ایس پی کے فرنچائزرز نے ملی بھگت سے مستحقین کو ساڑھے چار کروڑ کا ٹیکہ لگادیاجبکہ کر یڈٹ کر یڈ ٹ کارڈسسٹم کو ہیکر وں سے محفو ظ بنا نے کے لئے الیکڑونک کر ائم یو نٹ اور سا ئبر کر ائم ونگ جیسے سر کا ری ادا رے بھی کوئی مناسب اقدا ما ت نہ کر سکے ہیں جس کی وجہ سے ہیکر مسلسل لو گوں سے فرا ڈ کر نے میں مصروف ہیں ۔صرف لا ہور میں ہی 4000ہزار سے زائد کا رو با ری ادارے جن میں پٹرو ل پمپ ، شاپنگ سنٹر وغیرہ شامل ہیں وہ کر یڈٹ کا رڈ کے ذریعے رقم کی وصولی کر تے ہیں ۔ کریڈٹ کارڈ کے نظام کو محفو ظ بنا نے کے لئے کا رڈ ہو لڈ ر کو ایک خفیہ کو ڈ بھی جا ری کیا جا تا ہے تا کہ اس کے غلط استعما ل کو رو کا جا سکے لیکن فرا ڈیے اس پن کوڈ کو توڑ لیتے ہیں ۔ذرائع کے مطا بق زیا دہ تر ہیکر پٹرول پمپوں اور انٹر نیٹ پر استعمال ہو نے والے کریڈٹ کا رڈوں کے نمبر اور دیگر تفصیلا ت چو ری کرکے لو گو ں کے اکا ؤنٹوں سے لا کھوں کی رقم نکا ل لیتے ہیں جبکہ ما لیاتی ادار ے شا ید اپنی ساکھ کو بر قرار رکھنے کے لئے اس طرح کے فراڈ کو منظر عا م پر لا نے سے اجتنا ب کرتے ہیں ۔ ابھی حال میں ہی دیپالپور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سائبر کرائمز کے ذریعے لوٹ مار کا انکشاف ہوا یونائٹڈ بینک اور بی آئی ایس پی کے فرنچائزرز نے ملی بھگت سے مستحقین کو ساڑھے چار کروڑ کا ٹیکہ لگادیا گیا۔ بیواؤں اور مستحق افراد کیلئے ہر تین ماہ بعد بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے 3600 روپے دیئے جاتے ہیں جس کے حصول کیلئے اے ٹی ایم کارڈ جاری کئے گئے ہیں جن کی تعداد 16 ہزار ہے جبکہ 16 ہزار کارڈ بننا ابھی باقی ہیں۔ خواتین جب فرنچائز پر گئیں تو بینک کا عملہ اور فرنچائز مالکان ان سے بدتمیزی کے ساتھ پیش آئے اور کہا کہ رات 11 بجے پیسے اے ٹی ایم سے نکل گئے۔ چار ہزار خواتین کی تین اقساط جبکہ کل 7 ہزار خواتین کی ساڑھے 4 کروڑ روپے سے زائد کی رقم یو بی ایل اور فرنچائز عملہ نے نکلوا کر ہڑپ کرلی ۔فرنچائز مالکان راتوں رات کروڑ پتی بن گئے جن میں حویلی لکھا کے کسٹمرز سروس عمیر، بھیرپور کے خلیل کسٹمر، دیپالپور کے سلامت عرف پپو شامل ہیں ان تمام فرنچائزز پر یو بی ایل عملہ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مستحق خواتین کے نکلوا لئے گئے جبکہ کئی خواتین کے کوڈ پھاڑ دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں خواتین اپنی رقوم وصول کرنے سے محروم ہوچکی ہیں۔امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانے اور شہریوں کی آزادی میں اضافے کی خاطر قانون بنائے جاتے ہیں لیکن یہاں قانون سازی کے دوران جان بوجھ کر ایسے خلا چھوڑ دیے جاتے ہیں جنہیں بعد میں، اکثر مذموم مقاصد کی خاطر استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون مجریہ دوہزار چودہ میں ٹیکنالوجی سے متعلق پہلے سے موجود قوانین اور ان میں تازہ ترین تبدیلیوں کو سمویا گیا ہے۔ یہ الیکٹرانک اور کمپیوٹرائزڈ بزنس میں، ای۔ دستخط جیسے اقدامات کے ذریعے زیادہ سہولت بلکہ قوانین، جیسے پاور آف اٹارنی ایکٹ، مجریہ اٹھارہ سواکیاسی میں بھی، وقت کی ضرورت کے مطابق تبدیلی کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔اگرمجموعی طور پر پورے ملک کا جائزہ لیں تو روزمرہ زندگی میں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا عمل دخل کم ہے لیکن زندگی کے جن شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو اس تک رسائی ہے ان کے درمیان، جدید تکنیکی سہولتوں کا استعمال بتدریج بڑھتا اور پھیلتا جارہا ہے۔ قوانین سازی ضرور کی جانی چاہیے۔سائبر کرائمز کی مختلف اقسام جیسے شناخت کی چوری، سائبر چھیڑ چھاڑ، ڈومین پر اثر اندازی سے لے کر بچوں کی فحش فلموں کی ترسیل تک، سنگین مجرمانہ سرگرمیوں کو مجوزہ قانون میں اْجاگر کیا گیا ہے جو بلاشبہ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے۔اسی طرح مسودے میں \'جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریاست کے خلاف جرائم کا ارتکاب\' اور \'نیشنل انفرا اسٹرکچر پر حملے\' میں الیکٹرانک آلات کے استعمال کا حوالے دیتے ہوئے، ساتھ ہی دیگر صورتوں میں \'ریاست کے مفادات کو درپیش اہم مسائل\' کی وجہ بیان کردی گئی ہے۔

مزید : علاقائی