افسر ہوٹلوں میں موجیںاڑاتے رہے، چینی انجن ٹھیک کرنیکی تربیت نہ لینے پر کئی انجن فیل

افسر ہوٹلوں میں موجیںاڑاتے رہے، چینی انجن ٹھیک کرنیکی تربیت نہ لینے پر کئی ...

لاہور( سٹاف رپورٹر)ریلوے افسروں کے غیر ملکی دوروں کے دوران تکنیکی معاملات سمجھنے کی بجائے مخصوص ہوٹلوں میں وقت گزارنے کا خمیازہ چینی انجنوں کے فیل ہونے کی صورت بھگتنا پڑ گیاجس کے باعث ریلوے کی ساکھ کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جب بھی دوسرے ممالک سے انجن اور بوگیاں خریدنے کا معاہدہ ہوتا ہے تو انجنوں اور بوگیوں کے نقص اور مرمت کرنے کی تربیت لینے کے لئے ریلوے کی طرف سے ایک وفد بھیجا جاتا ہے جو ریلوے افسروں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ اصولی طور میں وفد میں ٹیکنیکل سٹاف کو شامل کرنا چاہیے جنہیں شامل نہیں کیا جاتا رہا ۔ذرائع نے بتایا کہ اگر انجنوں میں کوئی نقص ہوتا ہے تو اسے ٹیکنیکل سٹاف ہی ٹھیک کرتا ہے اگر ٹیکنیکل سٹاف کو بیرون ملک جائے گا ہی نہیں ،تو پھر وہ اس انجن اور بوگیوں کے نقص کو ٹھیک کرنے کے فن سے محروم رہے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ جب ریلوے وفد بیرون ملک انجنوں اور بوگیوں کو ٹھیک کرنے کے حوالے سے تربیت لینے جاتے ہیں تو وہ مناسب وقت تربیت لینے میں نہیں گزارتے بلکہ وہ مخصو ص شوق میں ہی ساراوقت گزار دیتے ہیںاس حوالے سے ایک کیس منظر عام پر بھی آیا تھا کہ چین سے پاکستان واپس آتے ہوئے شعبہ مکنیکل کا ایک افسر رفیق خان شراب پی کر قومی ائیر لائن کی پرواز میں بڑھکے لگار رہے تھے جس انہیں طیارے سے اتار دیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افسر انجنوں اور بوگیوں کے حوالے سے تربیت نہیں لیتے ،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ تربیت سے محروم رہتے ہیں ۔دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ریلوے انجنوں کو ٹرین ڈرائیور نے چلانا ہوتا ہے جسے تربیتی وفد کے ہمراہ نہیں بھیجا جاتا جس کی وجہ سے انجنوں کو چلانے کے بارے میں وہ مہارت سے محروم رہتا ہے اوریہ ہی وجہ ہے کہ چین سے منگوائے جو انجن آجکل فیل ہورہے ہیں انہیں صیح طریقے سے چلانا نہیں آرہااور ٹرین ڈرائیورپاکستان میں چین سے آئے ہوئے انجنوں میں با ر بار کو ئی نہ کوئی نقص پیدا کردیتاہے جو کہ کروڑوں روپے مالیت کے انجن میں خرابی بڑھانے کا سبب بن رہا ہے ۔

انجن فیل

مزید : علاقائی