جنوبی اشیاءمخصوص طبقوں کی اجارہ داری بد عنوانی کا خاتمہ مشکل خطہ شیطانی چکر میں پھنسنا ہے ٹراسپیرنسئی

جنوبی اشیاءمخصوص طبقوں کی اجارہ داری بد عنوانی کا خاتمہ مشکل خطہ شیطانی چکر ...

                             کھٹمنڈو (اے این این) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جنوبی ایشیاءمیں بدعنوانی کے خاتمے کو مشکل امرقراردیتے ہوئے کہاہے کہ خطے میں انسداد بدعنوانی کےلئے کوشاں ادارے اختیارات کی کمی کا شکار ہیں اور انہیں بدعنوان سیاستدانوں اور اہلکاروں کے بارے میں تحقیقات کرنے کی آزادی حاصل نہیں ، خدشہ ہے کہ مستقبل میں ہونے و الی ترقی اور خوشحالی کا فائدہ صرف اور صرف طاقتور طبقات کو ہی ہو گا، جنوبی ایشیا کے غربت کی چکی میں پسنے والے نصف ارب باشندے بدستور خالی ہاتھ رہیں گے دراصل یہ خطہ ایک شیطانی چکر میں پھنسا ہوا ہے جہاں سیاسی شعبے پر احتساب سے ماورا مخصوص طبقات کی اجارہ داری قائم ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن میں قائم تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی یہ رپورٹ بدھ کو نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے جاری کی ۔ اس رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو ایک ایسا خطہ قرار دیا گیا ہے جہاں بدعنوانی کا راج ہے لیکن یہ کہ کرپشن کے انسداد کے لیے کوشاں بہت سی ایجنسیوں کو بدعنوانی کے واقعات کی چھان بین کے لیے یا تو حکومت کی اجازت کی ضرورت پڑتی ہے یا پھر انہیں اپنی تحقیقات کے دوران بڑے پیمانے پر سیاسی دبا و¿ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے ایشیا اور بحرالکاہل سریراک پلیپاٹ نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ یہ خطہ ایک شیطانی چکر میں پھنسا ہوا ہے جہاں سیاسی شعبے پر احتساب سے ماورا ایسے مخصوص طبقات کی اجارہ داری قائم ہے جن کے زور کو کوئی بھی نہیں توڑ پا رہا کیونکہ وہ خود پر انگلی اٹھانے والے عناصر کو منصوبہ بندی کے ساتھ خاموش کروا دیتے ہیں۔۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ بہت سے کیسز میں جنوبی ایشیا کے بدعنوانی کے خاتمے کےلئے کوشاں اداروں کو خود انہی کی حکومتیں کمزور بنا دیتی ہیں۔ مزید یہ کہ سرکاری عہدیدار اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے یا پھر اپنے طاقتور حامی عناصر کو بچانے کےلئے ان ایجنسیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں منعقدہ انتخابات میں رائے دہندگان نے اس کانگریس پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا، جسے اپنے دس سالہ دورِ حکمرانی میں بدعنوانی کے متعدد اسکینڈلز کا سامنا رہا نیپال میں جہاں یہ رپورٹ جاری کی گئی ہے ۔ خود انسدادِ بدعنوانی کے قومی ادارے کے سربراہ کو کئی سال تک بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا ہے اور آج کل اس کے خلاف کئی تحقیقات چل رہی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے جن ملکوں کو جانچا گیا ہے، ان میں سوائے سری لنکا کے باقی تمام ملکوں میں ایسے قوانین موجود ہیں، جو عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کی حفاظت کرتے ہیں تاہم شہری ان قوانین سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے کیونکہ سرکاری اہلکار ان کی طرف سے کی جانے والی شکایات اور درخواستوں پر کوئی عملی قدم اٹھانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس مطالعاتی جائزے کے مطابق جنوبی ایشیا میں بدعنوانی کا پردہ چاک کرنےوالے عناصر کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے کوئی قوانین نہیں ہیں، جو انہیں بچا سکتے ہوں مزید یہ کہ جو سرکاری عہدیدار بدعنوانی کو منظر عام پر لاتے ہیں، انہیں یہ خطرہ رہتا ہے کہ یا تو ان کا تبادلہ کر دیا جائے گا یا پھر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائےگا۔ ٹرانسپیرنسی

 

مزید : علاقائی