پنجاب اسمبلی اپوزیشن نعرہ بازی حکومت قانون سازی کرتی رہی

پنجاب اسمبلی اپوزیشن نعرہ بازی حکومت قانون سازی کرتی رہی

                             لاہور( سپیشل رپورٹر)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور سپیکر کے ڈائس کے سامنے بھرپور نعرے بازی اور دھرنے کے باوجود حکومت نے اپنی بھاری اکثریت کی وجہ سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ‘ نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان‘ مینٹل ہیلتھ اور انڈسٹریل ریلشنز ترمیمی بل منظور کر لئے ہیں جبکہ اپوزیشن نے اس موقع پر ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے اپنے احتجاج کے باعث ان بلوں میں اپنی ترامیم پیش ہی نہیں کی تھیں ۔اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود ایجنڈے کی کارروائی مکمل کر نے کے بعد اجلاس آج صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔اس سے قبل اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ ا پوزیشن کو ترقیاتی فنڈز سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے جن حلقوں سے اپوزیشن کے اراکین منتخب ہو کر آئے ہیں وہاں پر شکست خوردہ عناصر کے ذریعے ترقیاتی فنڈز استعمال کر کے ان کے ناموں کی تختیاں لگائی جا رہی ہیں جو عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں التوائے کار کی تحریک آﺅٹ آف ٹرن پیش کر نے کی اجازت طلب کی لیکن قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا تو اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کردیا ۔اپوزیشن اراکین نعرہ بازی کرتے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ پھاڑ کر ہوا میں اور سپیکر ڈائس کی طرف اچھالتے رہے اسی وجہ سے کاغذ کے کچھ ٹکڑے سپیکر کے چہرے تک بھی جا پہنچے اوران کے پاﺅں میں گرتے رہے جبکہ اپوزیشن کے بعض ارکان نے سپیکر ڈائس کی ایک طرف دھرنا بھی دیا، اسی دوران ظہر کی اذان شروع ہوئی تو بھی سپیکر اور اپوزیشن کی آواز ایوان میں گونجتی رہی تاہم جب اذان اختتام کے قریب تھی تو سپیکر کو اذان کا علم ہوا تو وہ خاموش ہو گئے جس کے ساتھ ہی اپوزیشن نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دیدیا ۔اذان مکمل ہوتے ہی اپوزیشن نے پھر سے احتجاج اور نعرے بازی شروع کردی، اپوزیشن ارکان جعلی کارروائی بند کرو‘ لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے سمیت مختلف نعرے لگاتے رہے جس دوران کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ حکومت کے بعض ارکان نے بھی اپوزیشن کے جواب میں نعرے لگائے اسی نعرہ بازی اور شوروغل میں چاروں مسودات قانون منظور کر لیے گئے ۔ اس سے قبل صحافیوں نے بھی پریس گیلری سے علامتی واک آﺅٹ کیا ۔ایوان میں علامتی واک آﺅٹ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے ایوان اور صحافیوں کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت کسی طور پر کسی بھی اشاعتی ونشریاتی ادارے پر پابندی لگنے کے حق میں نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ کوئی اشاعتی یا نشریاتی ادارہ بند ہونے سے صحافی بھائیوں کے بے روزگار ہونے سے زیادہ صحافتی آزادی اور جمہوری آزادی اہم ہے ہم سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں اور حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ حامد میر کی جرا¿ت کو بھی سلام پیش کرتے ہیں وزیر قانون نے کہا کہ پیمرا کے پانچ ارکان کے اجلاس کا موقف کوئی فیصلہ نہیں ہے بلکہ ایک ایک موقف ہے اور اس کی وضاحت خود پیمرا کے ترجمان نے بھی کردی ہے اگر اس موقف کو بنیاد بنا کر کیبل آپریٹر نے چینل کی نشریات بند کردی ہیں تو ان کا یہ عمل غیر قانونی ہے کیبل آپریٹرز کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ محاذ اتھارٹی کے حکم کے بغیر غیر قانونی اقدامات کریں، کسی چینل کو بند یا اس کے نشریاتی نمبر تبدیل کریں۔

 

مزید : علاقائی