امریکی حکومت اپنے شہریوں پر ڈرون حملے کرنے کا خفیہ میمو ظاہر کر دے گی

امریکی حکومت اپنے شہریوں پر ڈرون حملے کرنے کا خفیہ میمو ظاہر کر دے گی


واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف)یمن میں ستمبر 2011ء میں ڈرون حملے کے ذریعے القاعدہ کے ایک اہم راہنما انور الاعلاقی کو ہلاک کیاگیا ہے جو امریکی شہری بھی تھا۔ تب امریکی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا امریکی حکومت کو ڈرون حملوں کے ذریعے کسی امریکی شہری کو نشانہ بنانے کا اختیار رہے یا نہیں اس وقت میڈیا نے رپورٹ کیا تھا اس سلسلے میں ایک خفیہ میمو جاری ہوا ہے لیکن امریکی حکومت اس ہر تبصرہ کرنے سے انکار کرتی رہی تھی،اس میمو کی بازگشت ایک دفعہ پھر اس وقت سنائی دی جب صدر اوبامہ نے ڈیوڈ بیرن کو وفاقی اپیل کورٹ کا جج نامزد کیا اور معاملہ تو ثیق کیلئے سینیٹ کے سامنے پیش ہوا۔قبل ازیں موجودہ سال کے شروع میں وفاقی عدالت نے یہ فیصلہ دیاتھا کہ سی آئی اے محکمہ دفاع اور محکمہ انصاف کو فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں پر ان ڈرون حملوں کے بارے میں جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے ان درخواستوں میں خصوصی طور پر سوال اٹھا یاجاتا تھا کہ امریکی حکومت کس ضابطے کے تحت اپنے شہریوں پر ڈرون حملہ کرسکتی ہے۔

بعد ازاں 21 اپریل کو وفاقی اپیل کورٹ نے یہ فیصلہ تبدیل کردیا لیکن وفاقی حکومت نے اس کے خلاف اپیل نہیں کی جس سے مراد یہ ہے کہ اس نے اپیل کورٹ کا فیصلہ قبول کرلیا۔اب ایک ایسے شخص کو فیڈرل اپیل کورٹ کا جج نامزد کرنے کے صدر اوبامہ کے فیصلے کی توثیق کیلئے سینیٹ نے سوال اٹھادیا جو اس خفیہ میمو کے مصنفین میں شامل ہے سینیٹ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس میمو کو ظاہر کردیا جائے ورنہ وہ توثیق نہیں کرے گی، اس دباؤ کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے وہ خفیہ میمو ظاہر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو اس نے 2011ء میں جاری کیا تھا۔

مزید : علاقائی