حکومت فوج کے مقابلے میں ایک چینل کیساتھ پارٹی بن گئی سینٹ میں مسلم لیگ (ق) کی تنقید

حکومت فوج کے مقابلے میں ایک چینل کیساتھ پارٹی بن گئی سینٹ میں مسلم لیگ (ق) کی ...

             اسلام آباد(اے این این) سینٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ(ق) کے سینیٹر کامل علی آغا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے معاملے میں حکومت کے کردارپر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کسی چینل کی وکالت نہ کرے بلکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ، اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہاہے کہ حکومت پارلیمنٹ کو مکمل نظر انداز کررہی ہے، وہ اسی شاخ کو کاٹ رہی ہے جس پر بیٹھی ہے ۔بدھ کوایوان بالامیں سیاسی صورتحال پربحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ نجی ٹی وی چینلز کیلئے ضابطہ اخلاق ضروری ہے اور پیمرا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کیلئے کردار ادا کیا ہے اور صحافتی اداروں کو اعتماد میں لیا۔ پیمرا بھی تیار ہوگیا مگر اس کے چیئرمین پر سیاسی خودکش حملہ کردیا گیا۔ میڈیا کو جان بوجھ کر تقسیم کیا جارہا ہے۔ حکومت کسی چینل کی وکالت نہ کرے ، ۔ فوج کے مقابلے میں ایک ٹی وی چینل کے ساتھ پارٹی بن گئی ہے۔ بھارت میں پاکستان دشمن نریندر مودی وزیراعظم بن رہا ہے ہمیں پاک فوج کا مورال بلند کرنا ہے ۔ ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے لیکن حکومت بھی قبلہ درست کرے۔ پارلیمنٹ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ اب پھر جمہوریت اور نظام کے خاتمے کی بات ہورہی ہے ۔ سیاستدانوں کو بدنام کرنا وطیرہ بن چکا ہے۔ ایک سال بعد انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا جارہا ہے تاکہ پارلیمنٹ کی اہلیت چیلنج کی جاسکے ۔ عمران خان اور طاہر القادری کو آگے لایا جارہا ہے ۔18 ویں ترمیم واپس کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ سیاسی بحران کے حل کیلئے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے ۔

مزید : علاقائی