امریکہ کو خطے کے معاملات سے دور رکھا جائے چین نے ایشیائی ہلاک بنانے کی تجویز دیدی

امریکہ کو خطے کے معاملات سے دور رکھا جائے چین نے ایشیائی ہلاک بنانے کی تجویز ...

                          شنگھائی(اے این این) چین نے سلامتی کے شعبے میں علاقائی تعاون پر مبنی نیا ایشیائی ڈھانچہ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اس نئے ڈھانچے سے باہر رکھا جائے جبکہ خطے کے ممالک کسی تیسری طاقت کے ساتھ فوجی اتحاد مضبوط بنانے سے بھی گریز کریں۔ شنگھائی میں ایشیاءمیں رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں سربراہ کانفرنس( سیکا) سے خطاب کرتے ہوئے چین کے صدر زی ینگ پنگ نے کہا کہ ایشیائی ملکوں کو خطے کے مسائل اور معاملات خود حل کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی تیسری طاقت کے ساتھ فوجی اتحاد مضبوط کرنا علاقائی سلامتی برقرار رکھنے کیلئے مفید نہیں، ایشیاءکے معاملات بالآخر ایشیاءکے ملکوں نے ہی حل کرنے ہیں اور خطے کے ہر ملک کو علاقائی سلامتی کے تحفظ کیلئے کردارادا کرنا چاہیے۔ کسی ایک ملک کو اپنی سلامتی کی خاطر دوسروں ملکوں کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے نہ ہی سیکورٹی معاملات پر کوئی اجارہ داری قائم ہونی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ 24رکن ممالک پر مبنی سیکا کو سیکورٹی ڈائیلاگ کا پلیٹ فارم بنایا جانا چاہیے ۔ چینی صدر نے علاقائی گروپ کی بنیادپرسیکورٹی تعاون کے لئے ایک نیا ایشیائی ڈھانچہ قائم کرنے پرزوردیا جس میں روس اور ایران بھی شامل ہوں لیکن امریکہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علاقے میں سیکیورٹی تعاون کے اختراعات اور نئے علاقائی سیکورٹی تعاون کا ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ صدرزی ین پنگ نے ایشیائی ممالک میں دہشت گردی، بین الاقوامی جرائم، سائبر سیکورٹی، توانائی کے تحفظ اور قدرتی آفات سمیت بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے لئے صفر برداشت ہونی چاہئے اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنا نا اور تین قوتوں کے خلاف جنگ کو تیز کرنا چاہیے ۔واضح رہے کہ ایران، عراق ، قزاقستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان ، جنوبی کوریا، چین، روس، فلسطین، منگولیا، قرغزستان، ازبکستان، تاجکستان، جمہوری آذربائیجان، ترکی ، متحدہ عرب امارات ، بحرین، مصر اور تھائی لینڈ سیکا تنظیم کے رکن ممالک ہیں۔داوسری طرف ایران کے صدرحسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی حکمت عملی اور دینی و اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر ایٹمی ہتھیاروں کامخالف ہے لیکن پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے کو اپنا اورتمام ملکوں کا حق سمجھتا ہے، مہلک ہتھیاروں کے خطرات کو دور کرنے کا واحد راستہ انہیں تلف تباہ کردیناہے۔ چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ ، ایشیا میں باہمی رابطے اور اعتماد سازی کےاقدامات کے بارے میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے دونوں فریقوں کی کامیابی کو مد نظر رکھنے اور توسیع پسندی سے دور رہنے سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جاری مذاکرات میں حتمی سمجھوتے تک پہنچا جا سکتا ہے ۔ حسن روحانی نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں اجلاس میں عالمی برادری کو درپیش مشکلات سے باہر نکالنے کے حوالے سے تجاویز اور طریق کار پیش کیا تھا اور جنگ کے مقابلے میں امن کے مفید اور سودمند واقع ہونے پر زوردیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف دنیا نامی منصوبے کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے اور سیکا کے بہت سے ممبر ملکوں نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ایشیا ، عالمی مذاہب اور مختلف مکاتب فکر کا گہوارا ہونے کی حیثیت سے بدستور تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف نبرد آزما ہے ۔ انہوں نے مہلک ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے سیکا کے ممبر ملکوں کی مشترکہ کوششوں کی ضرور ت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ ان ہتھیاروں کے خطرات کو دور کرنے کا واحد راستہ ان کو تباہ کردیناہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ سیکا کے ممبر ملکوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری اور اقتصادی بندھنوں میں استحکام ہی ، عالمی معیشت میں علاقائی تعاون کے ارتقا کا سبب بنے گا ۔ سیکا تنظیم کا سربراہی اجلاس 4 سال میں ایک بار ہوتا ہے جبکہ وزرائے خارجہ کا اجلاس 2 سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ ایشیائی ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں 1992 میں سیکا تنظیم کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی تھی جبکہ سرکاری طور پر 1996 میں اس کی تشکیل عمل میں آئی ۔

چین

 

مزید : علاقائی