دھاندلی کی تحقیقات مکمل پریذائڈ نگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کے اعداد و شمار میں تضادات

دھاندلی کی تحقیقات مکمل پریذائڈ نگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کے اعداد و شمار ...

                                 اسلام آباد (مانٹیرنگ ڈیسک ) الیکشن کمشن نے حلقہ این اے 68سرگودھا میں دھاندلی سے متعلق عمران خان کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ تحقیقات میں پریذائیڈنگ اور ریٹرننگ افسران کے اعداد و شمار میں واضح تضادات سامنے آئے ہیں۔ پریذائیڈنگ آفیسرکے مطابق میاں نواز شریف کو پولنگ سٹیشن 262 سے 779 ووٹ ملے جبکہ ریٹرننگ آفیسر کے مطابق ووٹوں کی تعداد 7 ہزار 879 تھی۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پولنگ اسٹیشن پر مجموعی ووٹوں کی تعداد ہی 1500 ہے۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے اس پر اعلی سطحی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عام انتخابات میں این اے 68 سرگودھا پانچ سے وزیر اعظم نواز شریف کامیاب قرار پائے تھے۔دریں اثناالیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ این اے 68 میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی، ووٹوں کی گنتی میں فرق ٹائپنگ کی غلطی تھی۔بدھ کوالیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن سید شیر افگن نے کہا کہ این اے 68 سرگودھا کے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی، اس حلقے میں جیتنے والے امیدوار نے ایک لاکھ چالیس ہزار ووٹ لئے ہیں۔ اس حلقے میں 15امیدوار تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عام انتخابات کے بعد یہ سیٹ خالی کردی تھی اور ضمنی الیکشن میں اضافی ووٹوں کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ ضمنی الیکشن میں جیتنے والے امیدوار نے68 ہزار اور ہارنے والے نے 42 ہزار ووٹ لئے ۔ دھاندلی کے الزامات کے بعد اس سارے معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 246 میں ٹائپسٹ کی غلطی سے زیادہ ووٹ لکھے گئے تھے، اس پولنگ سٹیشن پر ووٹوں کی تعداد ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھی،8ہزار بیلٹ پیپر سرے سے پولنگ اسٹیشن پر موجود ہی نہیں تھے ٹائپنگ کی غلطی میں بدنیتی کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے سیٹ خالی ہونے کے بعد 7ہزار کا ایشو ہی ختم ہوگیا تھا۔ فارم 16 جاری ہونے کے بعد الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار اپنی گنتی بھی کرتے ہیں اور شکایت فوراً آجاتی ہے جسے الیکشن کمیشن ٹھیک کرلیتا ہے اور جیتنے والے امیدوار کا نوٹیفکیشن جاری ہو جاتا ہے۔ عام انتخابات میں جس کسی کو بھی کوئی شکایت تھی اس نے الیکشن ٹریبونلز سے رجوع کیا ہے اور کئی معاملات زیر سماعت ہیں، بہتر ہے کہ فیصلے متعلقہ فورم کو کرنے دئیے جائیں۔

مزید : صفحہ اول