حکومت سندھ اور پاکستان فشر فوک فورم کے تعاون سے ماہی گیروں میں آئس باکس کی تقسیم

حکومت سندھ اور پاکستان فشر فوک فورم کے تعاون سے ماہی گیروں میں آئس باکس کی ...

کراچی (اکنامک رپورٹر)حکومت سندھ اور پاکستان فشر فوک فورم کے مشترکہ تعاون سے کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت گذشتہ روز ابراہیم حیدری میں چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والے مستحق ماہی گیروں میں آئس باکس کے تقسیم کی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی کیمونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے پروگرام ڈائریکٹر اعجاز مہیسرتھے، جبکہ صدارت پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے کی۔ تقریب میں ابتدائی طور پر 100 ماہی گیروں میں آئس باکس تقسیم کئے گئے، جبکہ مختلف مراحل میں 480 چھوٹے مستحق ماہی گیروں میں دوران ماہی گیری کشتی میں مذکورہ آئس باکس تقسیم کئے جائیں گے۔

 اس کے علاوہ ٹھکڑی جال والی چھوٹی کشتی کی ترقی کیلئے بھی کام کرایا جائیگا، اس مد میں دو سال کے اندر 480 کشتیوں اور ناخداﺅں میں 3 کروڑ کی لاگت کی اشیاءتقسیم کی جائیں گی، تقریب میں آئس باکس اور کریٹ کی تقسیم کے بعد موجود سینکڑوں ماہی گیروں سے خطاب کرتے ہوئے کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے پروگرام ڈائریکٹر اعجاز مہیسر نے کہا کہ سندھ حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ میں کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت ہم نے پاکستان فشر فوک فورم کے ساتھ مل کر پہلے ٹھٹہ اور اب کراچی میں ماہی گیروں کو آئس باکس اور کریٹس اور بوٹ موڈیفکیشن کا پروجیکٹ کانٹریکٹ پر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کمیونٹی سے بلواسطہ رابطہ کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہے اس لئے ان تنظیموں کا انتخاب کرتی ہے جو کمیونٹی بنیاد پر کام کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے 110 پروجیکٹس چل رہے ہیں، جن میں 5 پروجیکٹس ماہی گیروں کیلئے مختص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کا پاکستانی معیشت میں اہم کردار ہے اور مچھلی ایک طاقتور اور صحت مند غذا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ صفائی سے مچھلی کو شکار کرنے کے بعد مارکیٹ تک پہنچایا جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے آئس باکس اور کریٹس دیئے ہیں، ہمارا ساتھ کامیابی تک جاری رہے گا۔ پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماہی گیروں کو آئس باکس یا کریٹس دینا عارضی طور پر ماہی گیروں کی مدد ہے، لیکن اگر حکومت ماہی گیروں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو مستقل بنیادوں پر کشتی کو بہتر کرنے اور اس میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے بوٹ موڈیفکیشن کی جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ بجٹ میں کراچی فشرمینز ڈولپمنٹ پیکیج کا اعلان کر کے بوٹ موڈیفکیشن کی رقم مختص کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والے ماہی گیر غریب ہیں جو آئس باکس کے 35 ہزار روپے بھی جمع نہیں کرسکتے، اس لئے پاکستان فشر فوک فورم نے سندھ حکومت کے پی اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کر کے ان سے یہ سہولیات حاصل کی ہیں جنہیں آج تقسیم کیا جارہا ہے۔۔ اس موقع پر حکومت سندھ اور پاکستان فشر فوک فورم کے اس مشترکہ پروجیکٹ کی تفصیلات سے پروجیکٹ مینیجر سارہ مرتضیٰ، پاکستان فشر فوک فورم کی پروجیکٹ مینیجر قرت مرزا، کراچی کے صدر مجید موٹانی، جنرل سیکریٹری سعید بلوچ، ابراہیم حیدری یونٹ کے صدر حاجی تاج محمد و دیگر نے خطاب کیا۔

مزید : کامرس