اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پری بجٹ سیمنار کا انعقاد

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پری بجٹ سیمنار کا انعقاد

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) ا سلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اے سی سی اے پاکستان کے تعاون سے چیمبر ہاو¿س میں پری بجٹ سیمنار کا انعقاد کیا جس میں ماہرین معاشیات، مالیاتی اداروں کے نمائندگان اور تاجر برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اپنے افتتاحی خطاب میں مائیکرو فنانس بنک کے چیف فنانشل آفیسر اور ممبر نیٹ ورک پینل ا ے سی سی اے پاکستان کے چیئرمین ملک مرزا نے کہا کہ ملک میں ایک منصفانہ اور شفاآف ٹیکس نظام کا قیام عمل میں لا کر ہی ٹیکس ریونیو یو میں اضافہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے ٹیکس دہندگان کا ٹیکس نظام پر اعتماد بہتر ہو گا اورملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ ملے گا۔ پریمیئر آئل کے فنانشل کنٹرولر اور اے سی سی اے پاکستان کی ٹیکس قائمہ کمیٹی کے رکن منیر اے ملک نے اے سی سی اے کی طرف حکومت کی بھیجی گئی بجٹ تجاویز پر روشنی ڈالی ۔ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ایڈوائزی کونسل کے چیئرمین اور ایف بی آر کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف نے معیشت کی مجموعی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی اور تجارتی خسارہ اس وقت ملک کے دو بڑے مسائل ہیں جن پر قابو پانے کیلئے حکومت کو ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر ٹیکس نظام کی آٹومیشن کرے، ایک منصفانہ ٹیکس نظام کو تشکیل دے جو ہر اہلیت رکھنے والے کو ٹیکس سسٹم میں لائے۔

، ٹیکسوں کی شرح کو کم کرے اورٹیکس نیٹ کو پھیلائے جس سے ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ اسلام آباد سٹاک ایکس چینج کے منیجنگ ڈائریکٹر میاں ایاز افضل نے کہا کہ پاکستان میں فنانشل لیٹریسی کی شرح صرف اعشاریہ تین فیصد ہے جو ٹیکس آمدن میں بہتری لانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں اور عوام میں ٹیکس کی اہمیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سٹاک ایکس چینج میں لانے کی کوشش کی جائے جس سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور ٹیکس ریونیو بھی بہتر ہو گا۔اسلام آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شعبان خالد نے کہا کہ حکومت تاجر برادری سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاوت سے بجٹ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کرے جس سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں آنا چاہتے ہیں حکومت ان کو دستاویزی تقاضے پورے کرنے میں کم از کم تین سال کی مہلت دے۔ ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کیلئے ایسے اقدامات لئے جائیں جس سے عوام کا اعتماد بہتر ہو۔ اس مقصد کیلئے ٹیکس کا موجودہ پیچیدہ نظام آسان بنایا جائے تاکہ اہل ٹیکس دہندگان بلاجھجک ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت محسوس کریں خالد مجید رحمان چارٹڈ اکاﺅنٹینٹس کی ڈائریکٹر بزنس ایڈوائزری سروسز عائلہ ماجد نے کہا کہ حکومت ٹیکس ریونیو کو عوام کے ترقیاتی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرے جس سے عوام میں ٹیکس دینے کی ترغیب بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے سے ٹیکس ریونیو میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے لہذا پاکستان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساے خطے کے ممالک سمیت عالمی سطح پر تجارت کر فروغ دینے کی کوشش کرے۔سیمنار کے اختتام پر اے سی سی اے پاکستان کی سربراہ نور آفتاب نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور اے سی سی اے کی طرف سے ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کیلئے کی گئی کوششوں پر مختصر روشنی ڈالی ۔

\

مزید : کامرس