انسانی سمگلروں کےخلاف مزید سخت قانون بنا رہے ہیں ،12سال تک قید،5لاکھ تک جرمانہ ہو گا ،غالب بندیشہ

انسانی سمگلروں کےخلاف مزید سخت قانون بنا رہے ہیں ،12سال تک قید،5لاکھ تک ...
انسانی سمگلروں کےخلاف مزید سخت قانون بنا رہے ہیں ،12سال تک قید،5لاکھ تک جرمانہ ہو گا ،غالب بندیشہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                               لاہور(زاہد علی خان سے) ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے غالب بندیشہ نے کہا ہے کہ انسانی سمگلروں کے خلاف مزید سخت قانون بنایا جا رہا ہے۔ ملازمتوں کی آڑ میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر بھجوانے والوں کو گرفتاری کے بعد 12سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو گا۔ روزنامہ پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ پر مشتمل 18اعلیٰ افسروں پر مشتمل گروپ جلد ہی 12ایسے ممالک کا دورہ کرے گا جہاں انسانی سمگلروں اور ان کے ایجنٹوں نے باقاعدہ ان ممالک کے لوگوں سے مل کر باقاعدہ گروہ بنا رکھے ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے حکومت پاکستان کو خطوط کے ذریعے آگاہ بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں دو ہزار سے زائد با اثر افراد انسانی گینگ میں ملوث ہیں جن کو اشتہاری قرار دے کر ریڈ بک میں نام دیئے گئے ہیں۔ ان کے بارے میں اندرون ملک اور بیرون ملک کریک ڈاﺅن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے ان افسروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے جن کے علم میں یہ لوگ ہیں اور وہ ان انسانی سمگلروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی نے بتایا کہ حکومت پاکستا ن نے 12ممالک کی جانب سے شکایات کرنے پر ایکشن لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ انسانی سمگلنگ کو کسی صورت ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ساﺅتھ افریقہ انسانی سمگلروں کا ”گڑھ“ ہے اور ایجنٹ ساﺅتھ افریقہ بھجوانے کے پانچ سے 9لاکھ وصول کر رہے ہیں جبکہ ملائیشیا، سپین، اٹلی دوسرے نمبر پر آئے ہیں۔ غالب بندیشہ کے مطابق 12ممالک نے اپنی سرحدی سکیورٹی مزید الرٹ کر دی ہے اور غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے والوں کو گولی بھی ماری جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایماندار افسروں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کیا جائے گا اور کرپٹ افسروں کو محکمے سے نکال دیا جائے گا اور ایسے افسروں کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جائیں گے۔

 مزید سخت قانون

 

مزید : صفحہ آخر