وزیرستان میں فورسز کی کارروائی، ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، اسلام آباد کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا امکان

وزیرستان میں فورسز کی کارروائی، ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، اسلام آباد ...
وزیرستان میں فورسز کی کارروائی، ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، اسلام آباد کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا امکان

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی کارروائی کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کئے جانے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شمای وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے جس کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کی سیکیورٹی پاک فوج کے 10 کور کے حوالے کئے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے بعد خیبرپختونخواہ کے 12 اضلاع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے تمام اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، پشاور، نوشہرہ، مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان سمیت تمام حساس اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی کے اقدامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق شمالی وزیرستان میں دوسرے روز بھی سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور تمام علاقوں میں گزشتہ روز نافذ ہونے والا کرفیو بھی برقرار ہے۔ ماچس کے علاقے میں جمعرات کی صبح سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپ خانوں سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں جمعرات کے روز سیکیورٹی فورسز کی بمباری سے متعلق خبروں کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جمعرات کو شمالی وزیرستان میں فضائی حملے نہیں کئے گئے۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز پاکستان فضائیہ کے حملوں کے ردعمل میں بھاری اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے جمعرات کو شمالی وزیرستان میں ایک فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیا جس کا سیکیورٹی فورسز نے موثر انداز میں جواب دیا۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ روز میر علی میں جھڑپ کے دوران زخمی ہونے والے سپاہیوں کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید : اسلام آباد /Headlines