روس اور چین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا گیس معاہدہ

روس اور چین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا گیس معاہدہ
روس اور چین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا گیس معاہدہ

  

شنگھائی ( بیورورپورٹ) روس اور چین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا گیس معاہدہ طے پا گیا۔ روسی کمپنی گیس پروم اور چین کی قومی پٹرولیم کمپنی نے شنگھائی میں 4سو ارب ڈالر مالیتی گیس کے 30 سالہ معاہدہ پر دستخط کر دیئے، تاہم گیس کی سرکاری قیمت کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اس معاہدہ پر دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 10سال سے بات چیت کا عمل جاری تھا۔ معاہدہ کے مطابق روس چین کو 2018ءسے ہر سال 38 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس فراہم کرے گا اور اسے 61 ارب مکعب میٹر تک بڑھایا جائے گا۔ بین الاقوامی خبررساں ایجنسی رائٹر کے مطابق ”گیس سپلائی کے لئے نئی پائپ لائن تعمیر کی جائے گی۔ روس گیس کے مزید ذخائر کی تلاش اور پائپ لائن کی تعمیر پر 55 ارب ڈالر جبکہ بیجنگ اس ضمن میں ماسکو کو 20ارب ڈالر دے گا“۔ چین میں 2013ءتک 170ارب مکعب میٹر گیس کی کھپت تھی، جو 2020ءتک بڑھ کر 420 ارب مکعب میٹر تک پہنچ جائے گی۔ گو کہ یورپ روسی گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے اور 2013ءتک یورپ کو 160ارب مکعب میٹر قدرتی گیس سپلائی کی جارہی تھی لیکن یوکرائن بحران کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں کے باعث روس نے گیس سپلائی کے لئے ارد گرد دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ پابندیوں کے بعد روس نے چین سے گیس معاہدہ تو کر لیا ہے لیکن یہ یورپ کو دی جانے والی گیس کا صرف پانچواں حصہ بنتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی