20 نکاتی ایجنڈے کا اطلاق ٹی وی چینلز پر کیوں نہیں ہوتا؟

20 نکاتی ایجنڈے کا اطلاق ٹی وی چینلز پر کیوں نہیں ہوتا؟

  

 نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سیمینار میں کور کمانڈر کراچی کے بین السطور سول حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کی بحث ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کے ذریعے اتنی طویل ہوچکی ہے کہ بعض اینکر پرسنز لسی کی چاٹی سے مکھن نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹی وی کی ہر شاخ پر بیٹھا اینکراس تقریر کو اپنے معنی پہنا کر مستقبل کا سیاسی نقشہ تشکیل دے رہا ہے۔ سانحہ صفورا جس میں سفاک دہشت گردوں نے اسماعیلی فرقہ کے بے ضرر پُرامن 45افراد کو تختہ مشق بنایا ،ان کے قتل کی ذمہ داری بیڈ گورننس کے نام پر سندھ کی صوبائی حکومت پر ڈال دی گئی، لیکن وزارت خارجہ اور کچھ ہم خیالوں نے جلد بازی میں سانحہ صفورا کی ذمہ داری’’ را‘‘ پر ڈال دی تاہم پولیس نے انڈو پاک داعش گروپ کے 4 اہم ارکان کو گرفتار کر لیا،جس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ برصغیر داعش گروپ پاکستان میں اپنا وجود قائم کرچکا ہے اور وزیر داخلہ چودھری نثار کا فرمان غلط ثابت ہوا کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں، حالانکہ کراچی، کوئٹہ، پشاور اور پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں جگہ جگہ دیواروں پر داعش کے حق میں نعرے لکھ کر اپنے وجود کا احساس دلارہی ہے اور اب تو شہروں اور دیہاتوں میں داعش کا لٹریچر بھی تقسیم ہورہا ہے اور لٹریچر تقسیم کرتے ہوئے لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں، لیکن اس امر کے باوجود ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں سول حکومت کے خلاف زہریلے پراپیگنڈہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور ان کی کوشش جاری ہے کہ سول اور عسکری قیادت کو الگ الگ دکھایا جاسکے۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں اینکر اس بات پر سیخ پا تھا کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی واقعہ کے روز کراچی کیوں نہیں پہنچے،حالانکہ وزیراعظم سابق صدر آصف علی زرداری اور تقریباً پوری قومی قیادت اے پی سی کے فوری بعد غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کے لئے کراچی پہنچ گئی، تو وزیر داخلہ کا وہاں جانا کیا نہ جانا ایک بے معنی سی بات تھی گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اعلان کیا کہ پولیس نے سانحہ صفورا کے چار مرکزی ملزمان کو جنوبی پنجاب اور کراچی سے گرفتار کرلیا ہے، جو بہت خوش آئند امر ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ میں سب سے اہم کردار پولیس کو ادا کرنا ہوتا ہے، کیونکہ پولیس اپنے علاقہ کے حدود اربعہ اور مکینوں سے کسی حد تک آشنا ہوتی ہے، جبکہ پیرا ملٹری فورسز پولیس کے لئے مدد گار کا کردار ادا کرتی ہیں سندھ میں دہشت گردوں کی بیخ کنی میں جتنا اہم کردار پولیس اور اس کی قیادت نے انجام دیا وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ سندھ میں چودھری اسلم سمیت بے شمار افسروں اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ کے پی کے، پنجاب اور بلوچستان میں بھی پولیس افسران کی قربانیاں لازوال اور بے مثل ہیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردوں سے جنگ لڑنے کے لئے پولیس کے پاس تربیت موجود ہے، لیکن چاروں صوبوں میں پولیس ضروری ہتھیاروں اور اس جنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے اس بات کا برملا اظہار کراچی کور کمانڈر آفس میں ہونے والے اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں کہہ دیا کہ اس جنگ میں ہمارے لئے سب سے بڑی رکاوٹ وفاق کی طرف سے پولیس کو جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے مزین کرنے کے لئے عدم دستیابی فنڈز ہیں، جس پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو کہنا پڑا کہ وہ پولیس کے لئے سامان کی فہرست دیں پاک فوج ان کی ضروریات پوری کرے گی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاق میں سول حکومت کی موجودگی میں ایک وزیراعلیٰ کو آرمی چیف سے یہ سوال کیوں کرنا پڑا۔ کیا وزیراعظم پاکستان اتنے بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ وزارتِ خزانہ کو صوبوں کی ضروریات کے مطابق بروقت فنڈز کے اجرا کا حکم نہیں دے سکتے اس قسم کی خبروں سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ معاملات سول حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ عسکری قیادت تن تنہا لڑرہی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کی شہادتوں کے بعد ملک کی پوری سیاسی و عسکری قیادت اور پاکستان کے عوام نے مُلک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متحدہ جنگ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ بات قابلِ فخر ہے کہ مسلح افواج نے آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا اور بھاری کامیابیاں حاصل کیں اس جنگ میں ہمارے درجنوں آفیسر اور جوان شہید ہوئے اور دہشت گردوں کے بڑے گروپوں کی کمر توڑ دی اور بچے کھچے سرحد پار چلے گئے، لیکن تین چار ماہ کی خاموشی کے بعد دہشت گردوں نے پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں بالخصوص کراچی اور جنوبی پنجاب میں اپنے ٹھکانے بنالئے۔ ان شہروں میں ان کے ٹھکانے ختم کرنے کے لئے ہمیں مربوط انٹیلی جنس نیٹ ورک اور پولیس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے اس وقت پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے ہمیں میٹرو بس اور نئے پلوں سے زیادہ ریاست کو درپیش خطرات سے باہر نکالنا ہے اور ریاست سے دہشت گردی کے ناسور کی بیخ کنی کے لئے اپنے وسائل قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس پر صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں نیشنل ایکشن پلان کے 20نکاتی ایجنڈہ پر من و عن عمل کرنے کے لئے چاروں صوبوں میں مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار جائزہ رپورٹ بنانے کی ضرورت ہے۔20 نکاتی ایجنڈہ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ٹی وی پروگرامز میں مذہبی نفرت پھیلانے پر مکمل پابندی ہوگی، لیکن یہ عمل مسلسل جاری ہے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں تحریک انصاف کے رہنما نے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید پر مذہب مخالف ہونے کے سنگین الزامات عائد کئے، حالانکہ پرویز رشید نے کراچی میں ایک پروگرام میں محض اتنا کہا تھا کہ مدارس کی اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن بعض علماء اور ٹی وی اینکر فنکاروں نے اسے بات کا بتنگڑ بنا دیا، حالانکہ اصلاح مدارس نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی حکومتی عہدیدار یا وفاقی وزیر ان کے دفاع میں بولنے کے لئے سامنے نہیں آیا اور یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ یہ پرویز رشید کے ذاتی خیالات ہیں پرویز رشید نے 20 نکاتی ایجنڈے کے حوالے سے بات کی، لیکن اب حکومتی ارکان ان کی حمایت سے کنی کترارہے ہیںیہ بات اس امر کا ثبوت ہے کہ خود حکمران جماعت کے اہم ارکان دہشت گردی کی جنگ میں یکساں خیالات نہیں رکھتے۔ بہرحال وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنے پالیسی بیان میں پرویز رشید کے موقف کی توثیق کردی اور کہا کہ ملک میں 400 مدرسے ایسے موجود ہیں جہاں سے دہشت گردوں کی تربیت کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹھوس شواہد ملنے کے باوجود بھی ایسے مدارس کے خلاف ابھی تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی، پاکستان میں اس وقت مختلف مسالک کے 28 ہزار مدارس میں درس و تدریس کا کام ہو رہا ہے، لیکن ابھی تک مدارس کے یکساں نظام تعلیم کا اہتمام نہیں ہو سکا اور نہ ہی ان مدارس کو قومی نیٹ ورک میں شامل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ وفاق اور صوبوں میں قائم ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو مدرسوں کی زبوں حالی کے خاتمہ اور علماء اور مشائخ کے مشورہ سے نئے نصاب تعلیم کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی جاسکتی ہے ۔یہاں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ان مدارس کو ملنے والی غیر ملکی امداد کو بند کرانے کے لئے بھی وفاقی حکومت وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ خارجہ نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔ اس سلسلہ میں حکومت کو مدارس کے لئے بجٹ میں خصوصی فنڈز مختص کرنے چاہئیں اور انہیں وفاقی اور صوبائی محکمہ تعلیم کے ذریعے ریگولیٹ کرنا چاہئے تاکہ مدارس کو غیر ملکی امداد کی ضرورت باقی نہ رہے۔

مزید :

کالم -