پاک چین اکنامک کوریڈور: ترقی کا راستہ

پاک چین اکنامک کوریڈور: ترقی کا راستہ
پاک چین اکنامک کوریڈور: ترقی کا راستہ

  

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور پر سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اعتماد میں لینے کے بعد کافی حد تک تحفظات دور ہو گئے ہیں تاہم کراچی کے واقعہ کی وجہ سے وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو مزید دور کرنے کے ساتھ ساتھ اتفاق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے ایک اور اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے اور امکان ہے کہ یہ اجلاس کوئٹہ میں ہو گا ۔اگر یہ اجلاس کوئٹہ میں ہو گیا تو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نہ صرف اس اہم منصوبے کے متعلق بھارت اور امریکا کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ اس منصوبے کو جو لوگ تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور جو لوگ اس کا سیاسی سکورنگ کے لئے دھرنوں اور جلسوں میں مذاق اڑاتے رہے وہی لوگ اب اس کی افادیت پر بات کر رہے ہیں جس سے نہ صرف قوم پرستوں کے ذہنوں میں خدشات دور ہو جائیں گے بلکہ کراچی ،کوئٹہ اور خیبرپختونخوا اور فاٹا کے عام لوگوں کے ذہنوں میں غیر ملکی پروپیگنڈے اور میڈیا کے ذریعے جو خدشات ڈالے گئے ہیں وہ مکمل دور پر دور ہو جائیں گے ۔

وزیراعظم پاکستان نے روز اول سے اس منصوبے کے لئے جس شخص کا انتخاب کیا ہے وہ شخص نہ صرف اپنی قابلیت ،اہلیت اور دیانت کی وجہ سے پاکستان میں انتہائی قابل اعتماد آدمی ہیں بلکہ انہیں ان مسئلوں پر کافی عبور بھی حاصل ہے ۔احسن اقبال کو ترقی اور منصوبہ بندی کا وزیر بنانے کے ساتھ چائنہ کوریڈور کا کوارڈی نیٹر مقرر کرنے سے اس منصوبے کے بارے میں جو شکوک و شبہات تھے وہ آہستہ آہستہ دور ہورہے ہیں گزشتہ دِنوں احسن اقبال نے تمام شرکاء کو سلائیڈ اور پروجیکٹر کے ذریعے نہ صرف پورے منصوبے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی بلکہ غیر ملکی نشریاتی اداروں کی جانب سے کئے جانے والے پروپیگنڈے اور اس منصوبے کی اہمیت کے حوالے سے دنیا کے میڈیا میں آنے والی ریسرچ رپورٹوں سے بھی آگاہ کیا جس سے پوری قوم کل تک بے خبر تھی لیکن احسن اقبال نے نہ صرف منصوبے کے پرانے تمام نقشوں کو شرکاء کے سامنے پیش کیا بلکہ یہاں تک اعلان کر دیا کہ اگر ایک انچ یا ایک میٹر کے بھی نقشے میں تبدیلی کی گئی ہو تو وہ استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔

انہوں نے بیرونی دنیا کی جانب سے اس پروپیگنڈے کا نہ صرف جواب دیا کہ اس سے صرف پنجاب کو فائدہ ہو گا بلکہ احسن اقبال نے منصوبے کی اصلیت ظاہر کر دی کہ پرانے روٹ پر ہی منصوبہ بنے گا تاہم پورے ملک کے چاروں صوبوں،آزاد کشمیر،گلگت اور فاٹا کے علاقوں کو اس سے منسلک کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے لہٰذا پورے ملک کو اس منصوبے سے فائدہ دلانے کے لئے جو سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں اس کو نقشے میں تبدیلی کا نام دیا جارہا ہے حالانکہ یہ نہ نقشے کی تبدیلی ہے بلکہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی توانائی اور ترقی سے متعلق ویژن کا ایک حصہ ہے اور چین کے حکام نے خودخوشی کا اظہار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے کو پورے ملک سے منسلک کر دیا جاتا ہے تو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام جس میں دس کروڑ سے زائد نوجوان ہیں کو نہ صرف روزگار ملے گا بلکہ پاکستان کی ترقی کی منزل سالوں اور مہینوں کے بجائے ہفتوں اور دنوں کی بات ہو گی یہ منصوبہ نہ کسی ایک پارٹی کا ہے اور نہ کسی ایک حکومت کا ۔احسن اقبال نے یہ بھی بتایا کہ یہ اٹھارہ کروڑ عوام کے مفاد کا منصوبہ ہے اس لئے اٹھارہ کروڑ عوام کو منسلک کیا جارہا ہے اور اس کنکشن کو اگر کوئی منصوبے کی تبدیلی کا نام دیتا ہے تو وہ اس کا مطالعہ کرے کیونکہ سنی سنائی باتوں،بین الاقوامی دنیا کی پروپیگنڈے میں آکر بعض سیاستدانوں نے بغیر کسی تحقیق اور مطالعے کے پاکستان چین دوستی کے اس عظیم راہداری کے منصوبے پر تنقید شروع کر دی ہے۔

احسن اقبال کے مطابق چین کے حکام بھی اس امر پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ نہ تو حکومت پاکستان نے اور نہ چین کے حکام نے منصوبے میں کوئی تبدیلی کی ہے تو پھر پاکستان کے اندر سے جو سیاستدان اس تبدیلی کی بات کر رہے ہیں ان کو یہ معلومات کہاں سے ملی ہیں لہٰذا جب تک چین اور حکومت پاکستان نے تبدیلی کا کوئی اعلان نہیں کیا ہو اخباری رپورٹوں اور ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں بلکہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے قائدین جنہوں نے بڑے تدبر کے ساتھ قومی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کیا ہے انہیں ایک بار پھر اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ احسن اقبال کے مطابق وزیراعظم پاکستان کی خواہش ہے کہ پورے ملک اور خاص طور پر کر جنوبی پنجاب،اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا کو اس منصوبے کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ ان علاقوں میں خوشحالی آئے اگر پورے ملک میں حکومت پاکستان ترقی کے نئے راستے کھول رہی ہے اور اس کو گوادر پورٹ سے پاک چین راہداری سے منسلک کرنے کیلئے محمد نواز شریف نے پورے ملک سے سڑکوں کا ایک جال بچھانے ،توانائی کے منصوبے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔منصوبے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانا وزیراعظم کی دانشمندی کا ثبوت ہے اور یہ وزیراعظم کے اس ویژن کا حصہ ہے کہ پاکستان متحد ہو کر ترقی کرے گا۔

مزید :

کالم -