حضرت پیرا شاہ غازی قلندر ؒ دمڑی والی سرکار

حضرت پیرا شاہ غازی قلندر ؒ دمڑی والی سرکار

کے ڈی چودھری

خطہ کشمیر کا سب سے بڑا روحانی مرکز دربا ر عالیہ قادریہ کھڑی شریف ضلعی صدر مقام میر پور سے چھ کلو میٹر دور نہر اپر جہلم کنارے مرجع خلائق ہے جہاں برصغیر کے عظیم قلندر حضرت پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکارؒ اور عالمی شہرت کے حامل صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخشؒ مصنف ’’سیف الملوک‘‘ کے مزار ات مقدسہ ہیں یہاں روزانہ سینکڑوں، ہزاروں عقید تمند اورزائرین روحانی تسکین کی خاطر حاضری دیتے ہیں۔دمڑی والی سرکار ؒ کے سالانہ عرس مبارک کی مذہبی و روحانی تقریبات 13-14شعبان المعظم کو دربار عالیہ قادریہ کھڑی شریف میر پور آزاد کشمیر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منعقد ہو رہی ہیں۔ قلند ردوراں حضرت پیرا شاہ غازی دمڑیاں والی سرکارؒ 1665ء بمطابق1076ھ موضع بہرام ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ والدین نے آپ کا نام پیر محمد رکھا مگر پیار سے آپ کو ’’ پیرا‘‘ پکارا جانے لگا۔ابتدائی چھ سال والدہ ماجدہ اور والد گرامی سے تربیت پائی اور اس کے بعد موضع بہرام کی مرکزی جامع مسجد سے ملحقہ مدرسہ میں اموردینیہ کے علوم کے علاوہ قرآن پاک حفظ کیا۔ آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو سامعین پر وجد طاری ہو جاتا اور قرآن سے اتنی محبت اور عقیدت تھی کہ گلے میں ڈالے رکھتے اور دورہ کے دوران جہاں قیام فرماتے وہاں لوگوں کو قرآن کی آیات مقدسہ پڑھ کر سناتے اور ان کے معنی اور تفسیر بھی بیان کرتے۔ آپ اپنے بیان میں ایسی بات کبھی نہ کہتے جس سے کسی کی دل آزادی ہو۔ مخلوق کی دینی اور روحانی خدمات آپ کا طرہ امتیاز تھا۔

آپ جوانی میں مغلیہ فوج میں بھرتی ہوگئے کیونکہ جذبہ جہاد آپ کے لئے اندر بدرجہ اتم موجود تھا۔ وہ دورا ورنگ زیب عالمگیر محی الدین کا تھا۔ مرہٹوں اور ہندو ؤں نے ملک کے اندر اودھم مچارکھا تھا مغلیہ فوج میں ملازمت کے دوران حضرت پیر شاہ غازی قلندرؒ نے جرات، پامری اور دلیری سے جان ہتھیلی پہ رکھ کر کفارسے جہاد کیا اور کئی بارشدید زخمی ہوئے۔ جہاد میں حصہ حصول شہادت کے لئے لیتے تھے۔ عسکری خدمات کے صلہ میں آپ کو غازی اور امیر العسا کر کے خطبات سے نوازا گیا اور آپ نے اورنگ زیب عالمگیر کی وفات تک عسکری خدمات جاری رکھیں۔ عسکری خدمات کے بعد تزکیہ نفس کی غرض سے شیخ کامل کی تلاش میں نکلے اورخداوند تعالیٰ کی راہنمائی سے حجرہ شاہ مقیم پہنچ کر حضرت شاہ محمد حیات المیر بالا پیر گیلانی قادریؒ کے دست مبار ک پر بیعت سے سرفراز ہوئے۔ روحانی مرشد نے آپ کو تاج خلافت سے سرفراز فرمایا۔ بیعت کے بعد مرشد پاک کے حکم کی تعمیل میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ اللہ کریم نے آپ کو دو صاحبزادوں سے نوازا۔ ان کے اسمائے گرامی حضرت میاں ساون جی اور حضرت میاں شہباز عرف ڈھیروتھے۔ حضرت پیر شاہ غازی ؒ نے عبادت وریاضت کی غرض سے اپنے آبائی قصبہ بہرام سے سکونت ترک کرلی اور مختلف مقامات پر چلہ کشیاں شروع کردیں۔ آپ کا زیادہ وقت ریاضت زہدو مجاہد میں گزرتا اور ان عبادات میں علاقہ کھڑی شریف کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور دیگر مقامات میں ٹھٹہ موسیٰ، پیروشاہ، موضع ملدی، قلعہ روہتاس، بوڑا جنگل، بیلہ موضع مناورملوٹ(میرپور) جبوٹ اور سموال شریف قابل ذکر ہیں۔ آپ نے جن مقامات پر عبادت وریاضت کے ایام گزارے۔ اہل عقیدت وارادت مندوں نے ان مقامات کو محترم جانا اور انہیں غازی قلندرؒ کی بیٹھک کے نام سے پکارا جانے لگا۔حضرت پیر شاہ غازی قلندرؒ بزرگان سلف کی طرح لالچ وطمع سے بہت دور رہتے تھے اور وہ خود کو آرام طلبی عیش وعشرت سے بہت ور رکھتے تھے وہ اپنے عقیدت مندوں پر کبھی بوجھ نہ بنے اور نہ ہی مالی طور پر کسی کو آزمائش سے دو چار کیا۔ اگر کوئی محبت وعقیدت سے نذر ونیاز پیش کرتا تو صرف ایک دمڑی قبول فرماتے۔ حضرت پیرا شاہ غازی قلندرؒ کو ایک روز دینہ کے قریب بوڑا جنگل میں شدید زخمی حالت میں پایا گیا گہرے و شدید زخموں کی مرہم پٹی کی گئی ۔ لیکن جب حضرت ذکر الہٰی کی وجہ سے شیر کی سی گرج کی طرح’’اللہ‘‘ کرتے تو ٹانکے کھل جاتے اور سر کے بال کھڑے ہو جاتے اور آپ کو اس کی قطعی پرواہ نہ ہوتی۔ آپ کے عقیدت مند وہاں سے پالکی میں ڈال کر کھڑی شرف(میر پور آزاد کشمیر) لے آئے اور آپ4شعبان1155ء بمطابق1742ء وصال فرما گئے۔ وصال کی اس تاریخ کو ہر سال آپ کا عرس مبارک انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ اندرون ملک کراچی سے خیبر تک اور مناور سے تاؤ بٹ تک دیوانے، پروانے ،مستانے، ملنگ ، شاہ وگداقطار درقطار اور ہجوم درہجوم کھڑی شریف کے روحانی مرکزی کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر گزشتہ دو سالوں سے دربار شریف کے ایریا میں جدید اسلامی علوم کو یونیورسٹی کے قیام کا مژدہ سناتے رہے لیکن شائد فنڈز کی کمی آڑے آتی رہی اور وہ اپنی روحانی عقیدت کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ چیچیاں بازار سے دربار شریف تک تقریباً ایک فرلانگ سڑک درست کر کے پانی کی نکاسی کا اہتمام کرلیا جائے تو غازی قلندرؒ کے زائرین دعا ئیں دیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1