ایران سعودی آویزش اور پاکستان ؟

ایران سعودی آویزش اور پاکستان ؟
 ایران سعودی آویزش اور پاکستان ؟

  


عرب و عجم کی آویزش اگرچہ صدیوں پر محیط ہے تاہم پاکستان کی ہمیشہ آرزو رہی ہے کہ یہ منافرت محبت میں بدل جائے بالخصوص سعودی عرب اور ایران میں ان دنوں جو محاذ آرائی چل رہی ہے اہل وطن بالعموم اس پر ناشاد و رنجیدہ ہیں۔ خصوصی وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کے برے اثرات براہ راست ہمارے کچھ حساس طبقات پر فوری ہویدا ہو جاتے ہیں ان دنوں سعودی عرب کی قیادت میں 39 مسلم ممالک کی جو اسلامی فورس تشکیل پائی ہے بد قسمتی کی بات ہے کہ اس میں بشمول ایران عراق مخصوص مسلک والے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اسے ایک سعودی مسلک کی فورس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فورس کی قیادت ہماری آرمی کے ایک سابق چیف کو سونپی گئی تو اندرونِ مُلک اس نوع کا اعتراض بھی سامنے آیا کہ ایسے نہیں ہونا چاہئے تھا اس لئے کہ ہماری سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے پالیسی غیر جانبداری پر مبنی ہے قیادت سنبھالنے سے یہ پالیسی متاثر ہو سکتی ہے دوسری طرف یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ بوجوہ ہمارے عوام، حکومت اور ادارے کا جھکاؤ کسی حد تک سعودی عرب کی جانب ہے جو حرمین شریفین کے وارث ہونے کا بہت بڑا اعزاز رکھتا ہے اس کے باوجود یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ سعودی عرب میں بھیجے گئے ہمارے فوجی دستے ایران کے خلاف کسی طرح بھی استعمال نہیں ہوں گئے۔سعودی عرب اور ایران کے باہمی تعلقات اور ان میں پاکستان کے رول کا جائزہ لینے سے قبل مناسب ہو گا کہ ہم یہاں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے اس مسئلے پر تازہ بیان کا تذکرہ کریں جو ہمارے اس کالم کی بنیاد ہے۔ تہران کے ایک کالج میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حقائق پر مبنی کچھ چشم کشا باتیں کی ہیں، جن سے ایرانی سوسائٹی میں موجود فکری و نظری تفاوت کی نشاندہی بھی ہوئی ہے۔ اپنے قدامت پسندوں کی طرف سے گزشتہ برس تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد مقدس میں سعودی قونصلیٹ پر حملے کو انہوں نے تاریخی حماقت اور غداری قرار دیا ہے۔ پہلے واقعہ سے ہمارے نمٹنے کا طریق کار موثر نہیں تھا۔ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کونسل کو سعودی سفارت خانے پر حملے کی توقع تھی اس کے باوجود حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے۔تہران ان دنوں عالمی طاقتوں کے ساتھ نیو کلیئر معاہدے کے قریب پہنچ چکا تھا جب سعودی سفارت خانے اور خلیج میں 10 امریکی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے واقعات پیش آگئے‘‘۔ ایرانی وزیر خارجہ کے الفاظ ہیں ’’اگر یہ تاریخی حماقت جو غداری کے زمرے میں آتی ہے، نہ ہوئی ہوتی تو آج حالات قطعی مختلف ہوتے‘‘۔

ہمارا یہ نقطہ نظر ہے کہ اقوام کی خارجہ پالیسیاں جذباتیت یا ہنگامی مفادات کی بنیاد پر استوار نہیں ہونی چاہیں،بلکہ شعور تدبر اور دیرپا قومی مفادات کو ان کی بنیاد بننا چاہئے۔ تمام مسلم ممالک کو اس وقت اندرونی و عوامی سطح پر شعور کے بالمقابل انتہا پسندی یا جنونیت کا ملتا جلتا چیلنج در پیش ہے، جس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ممالک میں جہاں جمہوریت اور روشن خیالی کو فروغ دیا جائے وہیں جنونیت و انتہا پسندی پھیلانے والے خیالات و نظریات کی بیخ کنی کا بھی خاطر خواہ اہتمام کیا جائے، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ حکومتیں اپنے وقتی چھوٹے مفادات کے لئے اس بڑی ذمہ داری کو کماحقہ ادا کرنے سے احتراز کرتی ہیں،بلکہ کئی مواقع پر توشدت پسندی کی پشت پناہی کرتی دکھائی دیتی ہیں نتیجتاً وہ وقت آتا ہے،جب وہی حکومت جس نے اپنے شدت پسند گروہوں کو مخصوص مفادات کے لئے استعمال کیا ہوتا ہے اس کی مرہون منت یا یرغمالی بن جاتی ہے، پھر وہ اپنے خالص قومی مفاد میں بھی اگر کوئی ٹھوس دیر پا شعوری اقدام اٹھانا چاہتی ہے تو یہ متشدد گروہ اس کی راہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ افسوسناک صورتِ حال ہے جس کے خلاف ایرانی وزیر خارجہ تلخ نوائی پر مجبور ہوئے ہیں۔ پاکستان افغانستان اور ایران کی طرح سعودی عرب کو بھی متشدد شدت پسندی کا سامنا ہے۔ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ نائین الیون کرنے والے 19 میں سے 17 دہشت گردوں کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ بن لادن اور القاعدہ کی اٹھان بھی بنیادی طور پر یہیں سے ہوئی تھی۔ ایران عراق طویل خونی جنگ کے مفاسد کویت پر صدام حسین کے قبضے اور سعودی عرب کے لئے دہشت کی صورت سامنے آئے۔ سعودی سرزمین پر امریکن فورسز کے خلاف خودکش حملوں کا بد ترین آغاز ہوا یوں سعودی حکومت کو جائز طور پر اپنی بقا کا مسئلہ درپیش چلا آرہا ہے یمن میں حوثی باغیوں نے ایرانی پشت پناہی میں جو اود ہم بپا کر رکھا ہے عالمی حالات پر نگاہ رکھنے والے کسی فرد سے ان کی سنگینی پوشیدہ نہیں ہے شام کی خونریزی اس کے علاوہ ہے حتیٰ کہ داعش اس وقت سعودی حکومت اور سماج کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے جو سعودی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا چاہتی ہے عرب ممالک میں اس وقت شیعہ سنی کی تقسیم و منافرت اتنے زوروں پر ہے کہ ہمیں پاکستان میں بیٹھے اس کا پورا ادراک نہیں۔ عراق سے منسلک سعودی خطے جہاں تیل کی دولت سے مالا مال ہیں وہیں مذہبی و مسلکی افتراق کے باعث سعودی عرب کے لئے مستقل درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں اگر سعودی حکومت دہشت گردی کے خلاف سخت سٹینڈ لیتی ہے تو یہ قابلِ فہم ہونا چاہئے۔

آج ایرانی وزیر خارجہ اپنی حکومتی کوتاہی کا خود اعتراف کر رہے ہیں کہ اتنے خطرناک جذباتی حالات میں سعودی سفارت خانے کو کامل سیکیورٹی فراہم کرنے کی بجائے اسے شدت پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، جنہوں نے آگے بڑھ کر اسے آگ لگا دی، جس میں نہ صرف ایران سعودی تعلقات جل گئے،بلکہ ایران اور مغرب کے نیوکلیئر ایشو پر جاری مذاکرات کو بھی بقول ایرانی وزیر خارجہ ایسا نقصان پہنچا کہ ایران آج تک اس کی قیمت چکا رہا ہے۔پاکستان کا سعودی عرب کی طرف جتنا بھی جھکاؤ ہے اس کے باوجود یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس مملکت خدا داد نے ایران کے ساتھ بھی ایک توازن بنائے رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ شاہ کے دور میں بھی ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی تھے اور خمینی انقلاب کے بعد بھی یہ کوشش جاری رکھی گئی ایران عراق جنگ میں بھی پاکستان کا رول صلح جو کا رہا اور آج بھی پاکستان کے اندر ایران کے لئے ایک مضبوط آواز موجود ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا اتنا بڑا حقائق شناسی پر مبنی اعتراف تمام مسلم اقوام کی حکومتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے شدت پسند جنونی گروہوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے، بلکہ عوامی سطح پر میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے شدت پسندی پر مبنی سوچوں کی بیخ کنی کا خاطر خواہ اہتمام بھی کرنا چاہئے انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وقتی مفادات اور جعلی سمجھوتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس خطرناک ایشو پر چاہے انہیں اپنی حکومتوں کی قربانی دینی پڑ جائے تو دے دیں، لیکن اصولی و مستقل قومی و انسانی مفاد پر سمجھوتہ نہ کریں۔ اسی طرز فکر و عمل سے ہمارے دین پر لگنے والے سیاہ دھبے بھی دھل سکتے ہیں اور اسی سے مسلم اقوام دیگر مہذب اقوام عالم کے دوش بدوش چل سکتی ہیں اسی سوچ کے زیر اثر ہم نان ایشوز کی جنگ سے نکل کر حقیقی انسانی مسائل اور دُکھوں کا حل نکالتے ہوئے انسانی ترقی و خوشی کے نئے دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔

مزید : کالم