سوشل سیکیورٹی ڈاکٹر بھی مطالبات منوانے کے لئے سراپا احتجاج

سوشل سیکیورٹی ڈاکٹر بھی مطالبات منوانے کے لئے سراپا احتجاج

سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ اُن کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور اُن کے ملازمتی ڈھانچے کو جلد از جلد مکمل کر کے اس کی تفصیلات کا اعلان بھی کیا جائے۔ڈاکٹر اپنے مطالبات منوانے کے لئے گزشتہ پانچ روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے دو روز تک کام بھی بند رکھا، جس کی وجہ سے علاج معالجہ کے لئے آنے والے مزدوروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں انہوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی دینے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات تحریری طور پر وزیر محنت اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائے ہیں، لیکن ان سے کسی حکومتی نمائندے نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔سوشل سیکیورٹی ہسپتال مزدوروں اور اُن کے اہل خانہ کے علاج معالجے کے لئے مخصوص ہیں، صوبے میں ان کی تعداد زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں میں بہت زیادہ رش رہتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اگر ڈاکٹر بھی دوسرے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کام کرنا بند کر دیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محنت کشوں اور ان کے اہلِ خانہ کو کتنی زیادہ مشکلات اور تکالیف برداشت کرنا پڑیں گی۔ سوشل سیکیورٹی ڈاکٹروں کی طرف سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے دوسرے تمام شعبوں کی طرح سوشل سیکیورٹی ڈاکٹر بھی پریشان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اپنے ملازمتی ڈھانچے کی تکمیل نہ ہونے سے بھی تشویش ہے۔ وزارت محنت کے متعلقہ اعلیٰ حکام اِس جانب توجہ دیں اور ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے اور ملازمتی ڈھانچے کے حوالے سے ضروری اقدامات کر لئے جائیں۔اِس بات کا انتظار نہ کیا جائے کہ ڈاکٹر بھی ڈیوٹی چھوڑ کر سڑکوں پر آ جائیں اور ہسپتالوں میں علاج معالجہ نہ ہونے سے مزدور اور اُن کے اہلِ خانہ پریشان ہوں۔ ہمیں سرکاری ملازمین کے احتجاج اور ہڑتال سے پہلے ان کا جائز حق دینے کی روایت کو پختہ کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ