چین نے دوسال میں سی آئی اے کے 20مخبر ہلاک کیے: نیویارک ٹائمز کا انکشاف

چین نے دوسال میں سی آئی اے کے 20مخبر ہلاک کیے: نیویارک ٹائمز کا انکشاف

واشنگٹن(آن لائن)امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2010 سے 2012ء کے دوران چینی حکومت نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے 20 کے قریب مخبر ہلاک یا قید میں ڈالے۔حکام کا کہنا ہے ابھی یہ واضح نہیں کہ سی آئی اے کی معلومات ہیک ہوئیں یا پھر کسی خفیہ ایجنٹ کے ذریعے چینی حکام امریکی ایجنٹس کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے ، ایک امریکی مخبر کو حکومتی عمارت کے احاطے میں گو لی مار کر ہلاک کیا گیا تاکہ دوسروں کو خبردار کیا جاسکے۔خیال رہے ابھی تک نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر سی آئی اے نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔اخبار سے بات کرنیوالے چار سابق سی آئی اے افسران نے کہا ہے چینی حکومت کے حوالے سے گہری معلومات میں کمی کا آغاز 20 10 میں ہوا تھا جبکہ مخبروں کی گمشدگی کی شروعات 2011 کے آغاز میں ہوئی تھیں۔ایک ذریعے کے مطابق سی آئی اے اور ایف بی آئی نے ان واقعات کی تحقیقات کیلئے ایک آپریشن کیا جس کا خفیہ نام ہنی بیڈگر تھا۔اخبار کا کہنا ہے تحقیقات کا مرکز سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار تھے تاہم ان کی گرفتاری کیلئے شواہد کافی نہیں تھے۔ اب وہ ایک ایشیائی ملک میں رہتے ہیں۔اس رپورٹ پر کام کرنیوالے نیو یارک ٹائمز سے منسلک صحافی میٹ اپوزو نے بی بی سی کو بتایا کہ 'سب سے مشکل بات یہ ہے ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ کیا ہوا،وہ کہتے ہیں امر یکی حکومت میں اب بھی اس پر رائے منقسم ہے کہ کیا سی آئی اے کے اندر کوئی خفیہ ایجنٹ تھا یا پھر یہ کام کا مسئلہ تھا کہ سی آئی اے کا ایجنٹ مستعد نہیں تھا اور پکڑا گیا یا پھر چینیوں نے مواصلات کو ہیک کیا تھا۔اخبار کے مطابق جاسوسوں کی گمشدگیوں سے امریکہ کے نیٹ ورک کو نقصان ہوا جو اس نے کئی سال لگا کر چین میں بنایا تھا، حتیٰ کہ اس سے اوباما انتظامیہ میں بھی یہ سوال اٹھنے لگے کہ انٹیلی جنس میں اتنی آہستگی کیوں ہے ۔اپوزو کہتے ہیں 2013 میں یہ دیکھا گیا کہ چین امریکی ایجنٹس کی شناخت کرنیکی صلاحیت سے محروم ہوگیا اور سی آئی اے نے وہاں اپنا نیٹ ورک دوبارہ بنانے کی کوششیں شروع کیں۔

مزید : علاقائی