مشال خان کا چہلم، سیاسی سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت

مشال خان کا چہلم، سیاسی سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت

صوابی(آن لائن) صوابی میں طالب علم مشال خان کا چہلم آہوں اور سسکیوں میں گزر گیا جبکہ مشال خان کے والد اور بہن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مشال کے قتل کے ہدایتکاروں کو گرفتار کر کے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں قتل ہونے والے مشال خان کا چہلم منایا گیا جس میں سیاسی اور علاقائی شخصیات نے شرکت کر کے مشال خان کے ایصال ثواب اور مغفعرت کے لئے دعا کی اور قبر پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر مشال خان کے والد اقبال خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مشال کے قتل کو چالیس دن ہو گئے مگر اس کے قاتل اب بھی آزاد ہیں میری حکومت سے اپیل ہے کہ مشال کے قتل کے ہدایتکاروں کو گرفتار کیا جائے کیونکہ ابھی تک اداکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا مشال کے قاتلوں کو سزا دی جائے تاکہ کسی اور مشال کا قتل نہ ہو جبکہ اس موقع پر مشال خان کی بہن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہمیں سکیورٹی فراہم کی جائے کیونکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں مگر اس وقت تک یونیورسٹی نہیں جاﺅں گی جب تک ہمیں مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی۔ مشال قتل کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی کے 4کیمپس آج پیر سے کھل رہے ہیں۔گذشتہ روز یونیورسٹی کے سنڈیکٹ اجلاس میں یونیورسٹی کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی روشنی میں آج کے روز سے جامعہ کے بونیر کیمپس، تیمرگرہ، پبی اور چترال کیمپس کھلیں گے اور باقاعدہ تدریسی عمل شروع ہوگا جبکہ 24مئی سے شنکر کیمپس اور 25مئی سے یونیورسٹی کے مین اور گارڈن کیمپس کھلیں گے۔

مزید : صوابی