فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 97

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 97
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 97

  

رشدی صاحب بھی ہنسنے لگے۔ پھر کہنے لگے ’’آپ ٹھیک ہی کہتے ہیں مجھے وہاں سے جانا نہیں چاہیے تھا۔ مگر میں نے دیکھ لیا تھا کہ آپ کو تو انہوں نے کچھ نہیں کہا مگر میری پٹائی کردی تھی۔ اگر وہاں ٹھہرتا تو میری شامت آجاتی۔‘‘

احمد رشدی زندہ دل اور ہنس مکھ انسان تھے۔ خراب سے خراب حالات میں بھی ہم نے کبھی انہیں غمگین یا پریشان نہیں دیکھا۔ حالانکہ مروت اور شرافت کے باعث وہ اپنا معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ مالی پریشانیوں میں مبتلا رہتے تھے۔

ادبی و فلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔۔ قسط نمبر 96پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

احمد رشدی کو اس وقت اور بھی پریشانی ہوئی جب لاہور میں بننے والی اردو فلموں کی تعداد کم ہوگئی۔ مردانہ گانے فلموں میں کم ہوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد اور کم ہوگئی تو رشدی صاحب گھبرا گئے۔ وہ گلوکاری کے سوا کچھ اور کام نہیں کرسکتے تھے۔

لاہور کے حالات سے مایوس ہوکر کراچی گئے تو وہاں بھی بے کاری سے واسطہ پڑا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ جب پاکستان میں گلوکاری سے کمانے کا زمانہ آیا تو رشدی دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ اب تو عجیب عجیب بے تکے اور بے سرے گانے والے ہیں۔ مگر رشدی کی قسمت میں یہ خوشی اور خوشحالی نہیں تھی۔

ایک روز ہم صبح کے وقت اخبار پڑ رہے تھے کہ اچانک ہماری بیگم کی آواز آئی ’’سنئے‘‘

’’جی سنائیے‘‘۔

’’ٹی وی پر مسعود رانا کا انٹر ویو ہو رہا ہے، دیکھیں گے؟‘‘

مسعود رانا کا نام سن کر ہم اخبار سمیت کر لاؤنج میں گئے تو دیکھا کہ بیگم صاحبہ سامنے والے صوفے پر نیم دراز ہیں۔ نگاہیں ٹی وی اسکرین پر جمی ہوئی ہیں جہاں مسعود رانا بڑے ٹھہرے ٹھہرے پرسکون انداز میں مختلف سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ جب دیکھنے بیٹھے تو ان کی باتیں بہت دلچسپ لگیں۔ ہمارا خیال تھا کہ رسمی سا پھیکا انٹرویو ہوگا مگر مسعود رانا بہت دلچسپ باتیں کر رہے تھے۔ وقفے وقفے سے ان کے مشہور گانے بھی دکھائے جا رہے تھے۔ مجموعی طور پر بہت اچھا پروگرام تھا مگر آٹھ دس منٹ بعد ہی ختم ہوگیا۔

ہم نے شکوہ کیا ’’آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا، نہ جانے کب شروع ہوا ہوگا؟‘‘

وہ بولیں ’’مجھے تو خود معلوم نہی تھا۔ ٹی وی کھولا تو مسعود رانا باتیں کرتے ہوئے نظر آئے ’’پھر انہوں نے ہم کو یاد دلایا ’’آپ نے کتنی بار ان کے گھر جانے کا وعدہ کیا ہے مگر ایک بار بھی نہیں گئے‘‘۔

ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اتنا دلچسپ پروگرام ٹی وی والوں نے صبح کی نشریات میں ضائع کر دیا۔ صبح کے وقت ٹی وی دیکھنے کی کسے فرصت ہوتی ہے۔ ہر ایک بھاگ دوڑ میں مصروف ہوتا ہے اگر شام یا رات کے وقت یہی پروگرام پیش کیا جاتا تو بہت سوں کا بھلا ہوتا۔ فلم والوں سے پاکستان ٹی وی والے ایسا سوتیلا سلوک کرتے ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ فلمی صنعت کے ہمدرد ہیں، لطف کی بات یہ ہے کہ فلمی گانوں اور فلمی فن کاروں کی مقبولیت سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔

اس زمانے میں ہر طرف محمد رفیع کی آواز گونجتی تھی۔ مسعود رانا کو سکول کے زمانے میں ہی گلوکار بننے کا شوق چرایا۔

میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مسعود رانا نے حیدر آباد کا رخ کیا۔ وہاں ریڈیو کے چکر کاٹے اور کچھ سکھانے والے بھی میسر آگئے تو ان کی خوشامد درآمد کرکے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کردی۔ ان ہی دنوں شہر کے ایک کالج میں مختلف کالجوں کے مابین گلوکاری کا مقابلہ منعقد ہوا تو مسعود رانا کے دوستوں نے انہیں بھی اس مقابلے میں شریک کرادیا۔ مختلف کالجوں کے دو درجن کے قریب طلبہ اور طالبات اس مقابلے میں حصہ لے رہے تھے۔ اداکار مصطفی قریشی کی بیگم روبینہ نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا۔ خداداد آواز کے ساتھ انہیں موسیقی سیکھنے کا بھی موقع ملا تھا۔ محمد ایوب کھوڑو اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے ریجنل ڈائریکٹر حمید نسیم بھی موجود تھے۔ مسعود رانا کا بیان ہے کہ اس مقابلے میں سب سے اچھا گانے پر پہلا انعام ان کو ملا تھا لیکن لڑکی ہونے کے ناتے یہ انعام روبینہ کو دے دیا گیا اور دوسرا انعام مسعود راناکے حصے میں آیا۔

سنتوش صاحب جب موڈ میں ہوتے تو کہا کرتے تھے ’’مولانا، دو بیویوں سے انصاف کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ ہم سے پوچھئے، بچوں کے معاملے میں بھی ناپ تول برابر کی رکھی ہے‘‘۔

سنتوش صاحب حسین آدمی تھے۔ پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستان کے نمبر ون ہیرو تھے۔ بلکہ پاکستان کے اکلوتے ہیرو تھے۔ اس لیے لاکھوں کروڑوں کے منظور نظر تھے۔ یعنی فلمی ہیروئنیں بھی ان کیلئے آہیں بھرا کرتی تھیں۔ دوسروں کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ مگر سنتوش صاحب تمام تر بے باکی اور بے تکلفی کے باوجود اس معاملے میں ایک شرمیلے آدمی تھے۔ ہنسی مذاق کی حد تک تو ہر ایک ہیروئن سے ان کی بے تکلفی تھی مگر اس کے آگے حد ادب۔ وہ کسی کے بھی نزدیک نہیں ہوئے نہ ہی ان کا کوئی اسکینڈل بنا۔ پہلا اور آخری اسکینڈل صبیحہ خانم کے ساتھ ہی مشہور ہوا تھا اور ان دونوں کی شادی ہوگئی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد سنتوش صاحب نے کسی دوسری خاتون کی طرف کبھی لالچی نگاہ نہیں ڈالی۔ اگر کسی نے پیش قدمی بھی کی تو وہ بوکھلا جاتے تھے۔ فلمی ہیرو تو ایک طرف، ایسا کردار تو عام نوجوانوں میں بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کی پسندیدگی کی مدت تو کافی طویل ہے۔ جب ان کی پہلی شادی ہوئی تو صبیحہ خانم ان کے ساتھ کئی فلموں میں کام کرچکی تھیں اور ان دونوں کی رومانی جوڑی کافی مقبول ہوگئی تھی۔ بعد میں جب بہت زیادہ ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا تو اور بھی قریب آگئے۔ یہاں تک کہ شادی ہوگئی۔

سنتوش صاحب کی شادی کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ ہم اس وقت روزنامہ ’’آفاق‘‘ سے منسلک تھے۔ ایک دن سنتوش صاحب اور صبیحہ خانم کے رومان کی بھنک ہمارے کانوں میں پڑی۔ دونوں بہت وضع دار اور محتاط تھے اس لیے یہ کہانی عام نہ ہوئی پھر بھی تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتا۔ بعض فلمی پرچوں میں اس حوالے سے خبریں بھی شائع ہوئیں مگر ان پر کسی نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ عام لوگوں کو ان دونوں نے اس قسم کی رائے قائم کرنے کا کوئی موقع بھی فراہم نہیں کیا تھا۔

بات اتنی بڑھی کہ شادی ہوگئی۔ اسی زمانے میں ایک فلمی وفد بیرون ملک گیا تو سنتوش صاحب اور صبیحہ خانم بھی اس وفد میں شامل ہوگئے۔ اس زمانے میں یورپ آمد و رفت اتنی عام نہیں ہوئی تھی۔ وہاں سے خبریں بھی بہت کم موصول ہوتی تھی۔ پھر بھی ہمیں باوثوق ذرائع سے ان دونوں کی شادی کی اطلاع مل گئی۔ ہم نے یہ خبر شائع کی تو سنتوش اور صبیحہ نے اس کی پرزور تردید کردی۔

یورپ سے واپسی پر فلیٹیز ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں سنتوش صاحب اور وفد کے دوسرے ارکان نے اپنے دورے کے تاثرات بیان کئے اور بتایا کہ اس دورے سے پاکستان کی فلمی صنعت کا ایک نیا امیج بنا ہے۔ آخر میں سوال و جواب کی باری آئی۔ مختلف نمائندے سوالات کرتے رہے۔ آخر میں ہم نے سنتوش صاحب سے پوچھا۔

’’سنتوش صاحب، آپ نے اپنی اور صبیحہ خانم کی شادی کی تردید کردی ہے مگر آپ دونوں نے شادی سے پہلے ہنی مون کیسے منالیا؟‘‘

سنتوش صاحب مسکرائے ’’میرے ساتھ تو اور دوسرے لوگ بھی تھے۔ آغا صاحب بھی تھے۔ تو کیا ہم سب ہنی مون منا رہے تھے؟‘‘

ہم نے کہا ’’مگر آپ اور صبیحہ خانم ہوٹل میں ایک ہی کمرے میں قیام کرتے تھے۔ مذہب، اخلاق اور قانون ایک ہی کمرے میں ایک غیر اور مرد کے قیام کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کس رشتے سے ایسا کرتے تھے؟‘‘

سنتوش صاحب پریشان ہوگئے ’’یہ غلط ہے‘‘۔

ہم نے کہا ’’ایک بار پھر سوچ لیجئے۔ ہمارے پاس گواہ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹل کے بل بھی اس کی شہادت دے سکتے ہیں‘‘۔

ہوٹل کے بلوں والی بات ہم نے اپنی طرف سے کہہ دی تھی مگر اس کا اثر یہ ہوا کہ سنتوش صاحب واقعی بوکھلا گئے۔

ایک صحافی نے کہا ’’سنتوش صاحب، شادی کرنا کوئی گناہ تو نہیں ہے۔ اگر آپ دونوں نے شادی کرلی ہے تو چھپاتے کیوں ہیں۔ اس کا اعتراف کیجئے تاکہ ہم سب آپ کو مبارک باد پیش کریں‘‘۔

اس طرح سنتوش اور صبیحہ کی شادی کی خبر کی تصدیق ہوگئی۔یہ ایک دلچسپ اور اہم خبر تھی۔ فلمی صنعت کیلئے بھی اور عام فلم بینوں کیلئے بھی۔ اس لیے کہ صبیحہ سنتوش کی جوڑی اس زمانے میں فلموں کی مقبول ترین جوڑی تھی۔

جاری ہے

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -