سوری ڈرگ ایئر 

سوری ڈرگ ایئر 
سوری ڈرگ ایئر 

  


میری آنکھوں میں 23 جون 1979 لارڈز لندن ،انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہوتے ہوئے فائنل میچ میں ویوین رچرڈز اور کولس کنگ کے درمیان 139 رنز کی ہوتی ہوئی شراکت داری گھوم رہی ہے – دونوں کےلگائے چوکے باؤنڈری سے باہر جن ہورڈنگز سے جا ٹکراتے ہیں ان پہ سبز حروف میں لکھا ہے "پی آئی اے ، گریٹ پیپلز  ٹو فلائی ود" پاکستان کی نمائندگی کرتے اس تاریخی وینیو پہ موجود پی آئی اے مجھے پاکستانی ہونے کا اعزاز بخش رہی ہے - دنیا کی دوسری بڑی ائر لائن جو اپنی فضائی میزبانی کے لئے مشہور اور اپنی مثال آپ ہے – بالکل ایک حقیقت بنی پاکستانی جھنڈا اپنے سینے پہ سجائے کسی بھی رن وے کی شان سمجھی جانے والی پی آئی اے ہمارا افتخار بن کے ہمارا سر ہوا میں بلند کر رہی ہے - پھر کیا ہوا وقت بدلتا گیا ، دنیا ترقی کرتی گئی ، فضاؤں کو وسعتیں مل گئیں ، نئی منازل ، نئے راستوں نے جب اور ائر لائنز کی ضرورت محسوس کی تو پی آئی اے سب کی لیڈر اور منظور نظر ٹھہری - سعودی ائرلائن ، ایمریٹس اور اتحاد ائرلائن کی تشکیل کا عمل شروع ہوا تو پی آئی اے نے ان کے قیام میں مدد کی اور ان ائرلائنز نے فضاؤں میں اپنا سکہ کچھ یوں بٹھایا کہ بلندیوں کا سفر بلند تر ہوتا گیا -ملکی حکام ِ اعلی ٰکا اخلاق و کردار جب زبوں حالی کا شکار ہوا تو اس کا اثر پی آئی اے پہ بھی پڑا –

آج وہی لندن ہے اور وہی لارڈز سے چند میل کے فاصلے پہ ہیتھرو ائر پورٹ مگر حالات مختلف – قومی ائر لائن کی پرواز پی- کے 785 جسے حامد گردیزی اڑا رہے تھے اس کے گرد برٹش سیکیورٹی ایجنسیز کا گھیرا تنگ ہو رہا تھا پھر کیا چشم ِزدن میں سب نے دیکھا کہ آن کی آن میں اس جہاز کے بخیے ادھیڑے جارہے تھے- کموڈ اکھاڑے جارہے تھے ، واش بیسن اور پینل اتارے جا رہے تھے جسےہ کچھ چھپا خزانہ ڈھونڈا جا رہا ہو جو اس طیارے کی مرہونِ منت ہی انہیں مل سکتا ہے- اس ہوتی ہوئی کارروائی میں طیارے کی تزئین و آرائش کا سامان بھی کچھ ایسے ہی نوچا گیا کہ جیسے کسی ناپسندیدہ بدن سے لباس- بحیثیت ایک قوم ہم سب نے خود کو دنیا کے سامنے ایک بار پھر ننگا سا محسوس کیا جب برٹش حکام کے دعوی ٰ کے مطابق انہوں نے خفیہ خانوں سے کافی مقدار میں ہیروئن برآمد کی – پھر کیا ہوا بس عملہ سے کئی گھنٹے پوچھ گچھ ہوئی اور پاکستانی پاسپورٹ ضبط ہوئے لیکن آج بھی پاکستانی حکام مسلسل تردید ہی کرتے رہے- آج ساری قوم کے مخاطب یہی افسرانِ بالا ہیں جن کی خدمات کے نتیجے میں اس قوم نے کئی دفعہ اپنی عزت کا جنازہ بین الاقوامی ائر پورٹس پہ اٹھتے دیکھا- اگر یاد نہیں تو کچھ واقعات میں یاد دلاتا ہوں-

مانچسٹر ائرپورٹ پہ ایک فضائی میزبان کے لیپ ٹاپ بیگ سے آدھا کلو ہیروئن ہی تھی جو شاید برآمد ہوئی تھی- شاید یہی ائر پورٹ تھا جب قومی ائر لائن پہ شراب کے نشے میں دھت ایک پائلٹ صاحب کو برٹش حکام نے اپنی تحویل میں لیا تھا- امریکہ میں چوری کرتے ہوئے ایک فضائی میزبان نےنہ صرف اپنی عزت گنوائی تھی بلکہ ساری قوم کی ناک بھی کٹوائی تھی- کبھی جدہ تو کبھی مدینہ جاتی پروازاں سے ہیروئن برآمد ہوئی – کبھی اس ائر لائنز کے پائلٹ سوتے پائے گئے تو کبھی کاک پٹ کی زینت ملکی اور غیر ملکی حسینائیں ٹھہریں- اس کے علاوہ بین الاقوامی منازل پہ اور بہت سے کارنامے ہیں جو اس ائر لائن کے عملہ نے ہی انجام دیے ہیں اگر لکھوں گا تو شائد اس تحریر پہ سنسر کے تالے ہی لگ جائیں گے- کبھی آدھے انجن پہ محوِ پرواز طیارے گرے تو کبھی جہاز کو اڑاتے ہوئے جہاز زمیں پہ اترے تو رن وے پہ ہی پھسل گئے- کبھی کوڑیوں کے دام اس کے جہاز بکے جن کے غیر ملکی سربراہ ملی بھگت سے اپنے اپنے وطن سدھارے اور تحقیق کی فائلز سدا کے لئے ہی بند ہوگئیں- ایک جہاز کی خدمت کے لئے سینکڑوں کا عملہ اور پھر بھی ایسا لگے کہ کوئی یہاں گرا ، کوئی وہاں گرا- دنیا کی ائر لائنز کے فلیٹ میں سینکڑوں جہاز اور ہماری ملکیت صرف تیس جہاز اور ان کا نظم و نسق بھی کچھ ایسا کہ سالانہ اربوں کا گھاٹا – اس ائرلائن کو لال لگام پہناتے کبھی گھاٹے میں لیموزین کی سواری تو کبھی سپر ڈوپر پرواز یں پھر ایسے جدت پسند فیصلے کرنے والوں کا احتساب بھی تو ممکن نہیں - جب چاہے بند کردیں یہ دکان اور نیا مال سجا لیں – شاید اسے کہتے ہیں با کمال لوگ ، لاجواب سروس- جی ہاں جس کو نوازنا ہو لگا دو اسےپی آئی اے کا چئیر مین پھر تو اس صاحب کے بھی مزے اور اس کے بچوں کے بھی وارے نیارے – اربوں کے ٹھیکے اور کروڑوں کے کھابے ، بس لوٹتے جاؤ اور ہنستے جاؤ –پکڑے جاؤ تو غیرملکی پاسپورٹس پہ ملک سے بھاگتے جاؤ کیا دشواری ہے اس میں- اتنے مال سے تو آنے والی نسلیں بھی فیض یاب ہوں گی- ایک انکوائری ہے اگر کبھی لگی بھی تو کون بھگتنے آئے گا ، بس مال پانی سے ہر داغ وقت کے ساتھ صاف ہو جائے گا اور آپ ایسے معصوم جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے صاحب غم کس چیز کا- اس ائر لائن پہ سفر کرتے آپ کی حثیت بھی تو اثر دکھاتی ہے – آپ صاحب ِ مختار ہیں تو اکانومی کلا س کے ٹکٹ پہ آپ کے نوکر بھی بزنس کلاس کے مزے اڑائیں گے اور اگر آپ محنت کش ہیں تو شاید آپ اس ائرلائن پہ کھڑے ہو کر سفر کرتے بھی نظر آئیں- بھئی سیدھی سی بات ہے جتنا گڑ اتنا میٹھا- بھائی مجھے بھی کرنا ہوتا ہے کبھی کبھار سفر میں نہیں کہتا کہ کچھ درست کرو،پر مجھے بھی اس کلاس میں شامل کرلو کہ جس کی ذاتی ملکیت ٹھہرتی ہے یہ ائرلائن اور تم بھی بس ایسے ہی لگو رہو منا بھائی کس نے پوچھا ہے کبھی جو اَب پوچھے گا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ